ایک غیر مقلد علم سے نابلد انسان کا نبی کی نورانیت پر اعتراضات اور حدیث نبوی فرآنی نورا پر اعتراضات کا مدلل رد بقلم اسد الطحاوی

ہماری پیش کردہ روایت : جس میں نبی پاک نے اپنی ذات مبارکہ کے بارے فرمایا : فرآنی نورا یعنی مجھے نور دیکھا !

اس حدیث صحیح پر جناب نے کچھ اعتراضات وارد کیے ہیں جنکا جواب ہم بلترتیب پیش کرتے ہیں :

معترض کا پہلا اعتراض:

یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ اس روایت کی سند کے شروع میں امام بیہقیؒ فرماتے ہیں:

أخبرنا أبو الحسن علی بن أحمد بن سيماء المقرئ قدم علينا حاجا

ہمیں ابولحسن علی بن احمد بن سیماء المقری نے خبر دی، وہ ہمارے پاس حج کے لئے جاتے ہوئے تشریف لائے تھے۔ (دلائل النبوۃ ج ۵ ص ۲۸۳)|

اس میں امام بیہقیؒ کا استاد ابوالحسن علی بن احمد بن سیماء مقریء مجہول الحال ہے۔ ابن سیماء کا ذکرالمنتخب من السياق لتاریخ نیسابور (۱۲۴۹) میں بغیر کسی توثیق کے کیا گیا ہے۔؎

مجموع في كشف حقيقة الجزء المفقود شائع ہے ،اس کے صفحہ 107 پر دلائل النبوۃ کی اس روایت کے متعلق لکھا ہے :

قلت: إسناده ضعيف.

وفضالة فيه لين على صدقه، ونص ابن المديني أن له مناكير عن عبيد الله، وهو شيخه هنا، وتفرُّد فضالة بالحديث في طبقته ومرتبته وعزة مخرجه يوحي بأن هذا الحديث منها.

وشيخ البيهقي له ذكر في المنتخب من السياق لتاريخ نيسابور (1249) ولم أجد فيه جرحاً ولا تعديلا.

الجواب :

امام بیھقی کہ یہ شیخ بھی ثقہ ہیں لیکن اس بحث میں پڑنے کی بجائے ہم نے جناب کو پہلے ہی امام ابن ابی عاصم سے اسکی مختصر سند بیان کر دی جی جس میں شیخ بیھقی ہیں ہی نہیں تو انکا یہ اعتراض کرنا عجیب ہے یا تو انہوں نے کل ہماری پیش کردہ حدیث کی سند پڑھی ہی نہیں یا شاید انکو جو ملا انہوں نے لکھ دیا اللہ بہتر جانتا ہے ہم دوبار حدیث کی سند پیش کر رہے ہیں

5 – حدثنا يحيى بن محمد بن السكن، ثنا حبان بن هلال، ثنا مبارك بن فضالة قال: حدثني عبيد الله بن عمر، عن خبيب بن عبد الرحمن، عن حفص بن عاصم، عن أبي هريرة، رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ” لما خلق الله آدم فرأى نورا ساطعا فقال: «من هذا؟» فذكره

(الكتاب: الأوائل لابن أبي عاصم، برقمؒ:۵ ،المؤلف: أبو بكر بن أبي عاصم الشيباني (المتوفى: 287هـ)

اس روایت کے بارے میں زبیر زئی اپنے ماہنامہ الحدیث ، شمارہ 40 اور ص 47 پر لکھتا ہے :

یہ روایت ابن ابی عاصم کی کتاب الاوئل اور کتاب السنہ میں موجود ہے اور اسے ابو طاہر المخلص نے الفوائد میں لیا ہے

اس روایت کی سند حسن ہے اور شیخ البانی نے اسکو صحیح قرار دیا ہے

تو ہم نےجناب کے گھر سے اس روایت کو صحیح ثابت کر دیا ہے جسکو محال سمجھ کر یہ بافرضی کہنے پر مجبور تھے کہ اگر صحیح ثابت ہو بھی جائے ۔۔۔

جبکہ روایت صحیح ثابت ہو چکی ہے

جناب کا اگلا اعتراض:

اور بریلوی بھائیوں نے موجود دور میں مصنف عبدالرزاق کا ایک جعلی جزء گھڑا ہے ،اس جعلی جزء کی حقیقت کو آشکار کرنے کیلئے اہل علم کے مقالات کا مجموعہ “

دیکھئے کتاب : مجموع في كشف حقيقة الجزء المفقود من مصنف عبد الرزاق

الجواب :

ہم نے ابھی تک حدیث نور مصنف عبدالرزاق پیش ہی نہیں کی تو جناب نے یہ لائن معلوم نہیں کہا ں سے لکھ دی ہے تو جب یہ روایت پیش کرینگے تو حدیث کی صیحت اور کتاب کو ثابت کرینگے محدثین کے اصول سے

تو اسی روایت پر انکا اگلا اعتراض پیش کرتے ہیں :

معترض کا اعتراض:

وفضالة فيه لين على صدقه، ونص ابن المديني أن له مناكير عن عبيد الله، وهو شيخه هنا، وتفرُّد فضالة بالحديث في طبقته ومرتبته وعزة مخرجه يوحي بأن هذا الحديث منها.

یعنی یہ روایت ضعیف ہے اس روایت کا راوی فضالہ کمزور راوی ہے ،یہ عبیداللہ نامی راوی سے منکر روایتیں بیان کرتا ہے ، اور یہاں اس روایت میں اس نے یہ روایت عبیداللہ سے ہی نقل کی ہے ، اور امام بیہقی کا شیخ ابوالحسن علی بن احمد بن سیماء بھی مجہول ہے ،لہذا یہ روایت قابل استدلال نہیں ۔

الجواب :

معلوم نہیں انہوں نے کس کا حاشیہ اٹھا کر یہاں لگا دیا اور مبارک بن فضالہ راوی کو فضالہ بن دیا جبکہ یہ ثقہ ثبت راوی ہے

اور امام علی بن مدینی کی جرح کا حوالہ بھی پیش نہیں کیا نہ ہی انکے قول کی سند پیش کی ہے تو جب تک حوالہ اور سند پیش نہیں کرینگے تو ہم کیسے اسکا اصولی رد کرینگے نیز ابن مدینی تو بہت متشدد امام ہیں اور کیا اس جرح میں انکا متابع کوئی ہے ؟

جبکہ مبارک بن فضالہ عندالجمہور ثقہ ثبت راوی ہے ہم اسکی تفصیل پیش کرتے ہیں

امام ابن ابی حاتم اپنی تصنیف الجرح وا لتعدیل میں انکے ترجمے میں فرماتے ہیں :

نا عبد الرحمن أنا عبد الله بن أحمد [بن محمد – 2] ابن حنبل فيما كتب إلى نا أحمد بن إبراهيم نا حجاج [يعني – 3] ابن محمد

قال سألت شعبة عن مبارك بن فضالة والربيع بن صبيح، فقال: مبارك أحب إلى منه

امام شعبہ سے پوچھا گیا مبارک بن فضالہ اور بریع بن صیح کے بارے تو کہا کہ مجھے مبارک بن فضالہ اس سے زیادہ پسند ہے

[نا محمد بن ابراهيم ناعمرو بن علي قال سمعت يحيى – يعنى ابن سعيد – ذكر مباركا فأحسن عليه الثناء

امام ابن ابی حاتم محمد بن ابراہیم کے واسے عمرو بن علی سے بیان کرتے ہیں امام یحییٰ بن سعید کے سامنے مبارک کا ذکر ہو اتو انہوں نے اسکی تعریف کی اور اچھی رائے دی

نا عبد الرحمن نا علي بن الحسين بن الجنيد قال سمعت أبا حفص يعني عمرو بن على قال سمعت عفان يقول: كان مبارك ثقة (80 م 6) وكان وكان.

امام عمرو بن علی عفان سے بیان کرتے ہیں کہ مبارک ثقہ ہے

نا عبد الرحمن قال سألت ابى عن مبارك بن فضالة فقال: هو أحب إلي من الربيع بن صبيح.

امام ابن ابی حاتم فرماتے ہیں میں نے والد سے مبارک بن فضالہ کے بارے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ مجھے ربیع بن صبیح سے زیادہ محبوب ہے

نا عبد الرحمن قال سئل أبو زرعة عن مبارك بن فضالة فقال: يدلس كثيرا فإذا قال حدثنا فهو ثقة

امام ابن ابی حاتم فرماتے ہیں امام ابو زرہ سے مبارک بن فضالہ کے بارے پوچھا گیا تو فرمایا وہ کثرت سے تدلیس کرتے تھے جب حدثنا سے بیان کریں تو ثقہ ہیں

(الجرح والتعدیل )

اتنے متشدد محدثین نے مبارک بن فضالہ کو ثقہ قرار دیا ہوا ہے جناب کو معلوم نہیں کہاں سے اس میں کمزوری نظر آگئی ایک دو متشدد محدثین کا کلام پکڑ کر بیٹھ گئے لگتا ہے

اسی طرح امام عجلی بھی انکو اثقات میں درج کرتے ہیں

1681 – مبارك بن فضَالة بصرى لَا بَأْس بِهِ

امام ذھبی نے سیر اعلام میں انکی تعدیل کرتے ہوئے انکو صدق امام قرا ردیا ہے

84 – مبارك بن فضالة بن أبي أمية القرشي * (د، ت، ق، خت)

الحافظ، المحدث، الصادق، الإمام، أبو فضالة القرشي، العدوي، مولى عمر بن الخطاب، من كبار علماء البصرة.

وله من الإخوة: عبد الرحمن، وعبيد الرحمن، ومفضل.

(سیر اعلام النبلاء ، برقم: ۸۴)

تعدیل اور بھی بہت ہے امید ہے اتنی کافی ہوگی ثقہ صدوق راوی پر مبہم جرح کر کے روایت کو ضعیف قرار دینا کہاں کا انصاف ہے

اور الٹا ناصر البانی اور زبیر زئی متشدد اور متعصب لوگوں نے اس روایت کو صحیح مانا ہے جناب نے معلوم نہیں کہاں سے جرح نقل کی ہے

یہ تو جواب ہو گیا روایت کی فنی حیثیت کا ۔

اب آتے ہیں انکے متن یا اپنی طرف سے پیش کردہ اعتراضات پر

پہلا اعتراض:

لیکن فرض کر لیں کہ ضعیف نہیں تو اس کا یہ مطلب کیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نور ہیں

کیونکہ حقیقی/ذاتی طور پر یا تو بشر ہیں یا نور ہیں یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی کہے کہ آپ کی ذات نور بھی ہے اور بشر بھی

الجواب :

ہم نے فرضی نہیں بلکہ دلائل سے اس روایت کو آپکے گھر کے محققین سمیت روایت صحیح ثابت کیا ہے

تو فرضی والی کہانی نہیں چلے گی ۔

آگے جناب فرماتے ہیں کہ نبی کریم حقیقی یا ذاتی طور پر یا تو بشر ہیں یا نور ہیں یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی کہے کہ آپ کی ذات نور بھی ہے اور بشر بھی

تو ہم کہتے ہیں کہ کس نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ نبی کریم نور بھی ہیں اور بشر بھی ایک وقت میں ہوسکتے ہیں ؟

کیا اللہ نے قرآن میں نور اور بشر کو ایک دوسرے کی ضد قرار دیا ہے ؟ بالکل نہیں کیا قرآن میں یا حدیث میں کہیں آپ نے یہ ثابت کیا ہے کہ بشر نورانیت کی ضد ہے ؟ یا جو نور ہوگا وہ بشر نہیں ہو سکتا یا جو بشر ہو گا وہ نور نہیں ہو سکتا کیا اس پر کوئی ایک صریح آیت یا حدیث پیش کی ہے ؟

جیسا کہ اللہ فرماتا ہے :

ولا الضلمت ولا النور (الفاطر : 20)

نہ تاریکی اور یوشنی یکساں ہے

تو اللہ نے نور کی ضد ظلمت بتائی ہے نہ کہ بشریت کو

چلیں ہم آپکو قرآن کی نص پیش کرتے ہیں کہ اللہ اپنی چاہت پر قادر ہے اور وہ اپنی مخلوق کو ایک ہی وقت میں نور انیت اور بشریت کو اکٹھا کر سکتا ہے یہ اللہ کے لیے محال نہیں ہے

سورہ مریم : 17

فاتخذت من دونھم حجابا فارسلنا، الیھا رو حنا فتمثل لھا بشر اسویا

تو ان سے ادھر ایک پردہ کر لیا ، تو اس کی طرف ہم نے اپنا روحانی (روح الامین) بھیجا وہ اس کے سامنے ایک تندرست آدمی کے روپ میں ظاہر ہوا

اللہ اپنے ایک خاص فرشتہ جسکو نور سے پیدا کیا ہے اسکو بشریت کی شکل میں روپ دے کر نورانیت و بشریت جو خضائص جو ایک ہی وقت میں جمع کر سکتا ہے مخلوق میں تو نبی کے لیے اللہ کا ایسا کرنا کیسے محال ہے ؟

اگر کوئی سوال کرے کہ فرشتہ حقیقی طور پر تو نور سے بنا ہوا ہے اور اس دنیا میں بشریت کی شکل میں آیا تھا

تو اسکا جواب بھی ہم فرمان رسول ہی سے پیش کرینگے اور یہ تصریح کر دیں کہ ہم جب کہتے ہیں نبی پاک حقیقی اعتبار سے اور ذاتی اعتبار سے بشر بھی ہیں اور نور بھی

نہ ہم بشریت کا انکار کرتے ہیں نہ نورانیت کا کیونکہ بشریت کا انکار کفر ہے اور نورانیت کا انکار کھلی گمراہی ہے

اللہ نے سب سے پہلے نبی کو جب تخلیق کیا تو کیا تب بشریت کو بھی تخلیق کیا تھا یا نہیں ؟

جیسا کہ مستدرک الحاکم و ترمذی میں سند صحیح سے روایت آتی ہے :

اور آپکے البانی صاحب نے السلسلہ الصحیحہ میں بھی یہ روایت لائے ہیں :

حدیث نمبر : 1856: کتبت نبیا و آدم بین الروح والجسد

یعنی میں تب بھی نبی تھا جب آدم کی تخلیق روح اور گارے میں تھی

اسکو امام احمد نے اپنی مسند ، ابن ابی عاصم نے بھی السنہ میں ، اور امام بخاری نے اپنی تاریخ میں روایت کیا ہے

اسکی اسناد کو البانی نے صحیح قرار دیا ہے

مزید کوئی اعتراض ہو تو بتا دیجیے گا تسلی کرا دی جائے گی

یعنی جب اللہ نے بشریت پیدا ہی نہیں کی تھی اور نبی پاک اس وقت بھی نبوت کے منسب پر قائم تھے

تو اس وقت نبی بشری شکل میں تو تھے ہی نہیں بلکہ جس خاصیت میں انکو نبوت سے سر فراز کیا گیا اسی وقت بھی انکو نبوت دی جا چکی تھی تو وہ کیا نبی کی غیر حاضری میں نبی کو نبوت عطا کر دی گئی تھی کیا ؟

نبوت تو ایک مقام ہے اسکے لیے نبی کا ہونا لازم ہے اور نبی جب تھے انکو نبوت اس وقت بھی مل چکی تھی جب آدم یعنی بشریت کی تو تخلیق ہی نہیں ہوئی تھی

اس پر کچھ لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ وہ نبی سے پوچھا گیا کہ نبوت واجب کب ہوئی تھی ؟ تو نبی نے یہ بات کہی تھی نبی پاک اس وقت موجود تو نہیں تھے (استغفار )

جب کہ یہ روایت میں واجب کے الفاظ بھی آئے ہیں اور اسکے بغیر بھی یہ روایت صحیح سند سے آٗئی ہے جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے

لیکن واجب کے الفاظ کے ساتھ بھی اسکا وہ باطل معنی نہیں بنتا جو اہل حدیث کے دعوے داروں نے لیا ہوا ہے

کیونکہ انکا کہنا ہے فقط نبوت کے واجب ہونے کا جواب دیا نبی پاک نے صحابہ کو

جبکہ ہمارا کہنا ہے کہ نبی پاک سے یہ پوچھا گیا کہ آپکے لیے نبوت واجب کب ہوئی ؟

اگر اس سے مراد خبر ہے اور نبی کو نبوت ملنے کا مطلب نہیں تو یہ سیدھا سدھا اعتراض اللہ کے علم پر جاتا ہے

کیونکہ اللہ کی ذات جیسے ازل سے ہے ویسے ہی اللہ کا علم بھی ازل سے ہے اور نہ اللہ کا علم بڑھتا ہے نہ کم ہوتا ہے بلکہ اسکا علم لا محدود ہے

اور اگر بقول غیر مقلدین یہ کہا جائے کہ نبی نے فقط نبوت کے واجب ہونے کا کہا تھا اللہ کے ہاں تو اسکا مطلب اس وقت سے پہلے اللہ کے علم میں معاذاللہ یہ بات نہ تھی ؟

یا صحابہ کو یہ معلوم نہ تھا کہ نبی کی نبوت کا واجب ہونا پہلے نہ تھا اللہ کے ہاں بعد میں ہوا ؟

جبکہ صحابہ اور رسول کا باکل نہ یہ عقیدہ تھا نہ ہی صحابہ کا پوچھنے کا یہ مقصد تھا جیسا کہ اوپر صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ نبی پاک اس وقت نبوت سے سرفراز تھے جب بشریت ابھی مٹی اور گارے کے درمیان تھی

اور بے شک اس وقت نبی پاک نور تھے جیسا کہ حدیث رسول ہم ایک پیش کر چکے ہیں

اور ساتھ ہمارا یہ بھی عقیدہ ہے کہ نبی پاک ذاتی اور حقیقی طور پر بشر بھی ضرور ضرور ہیں جب اس دنیا میں اللہ نے انکو بھیجا تو بشر بنا کر بھیجا ، انکو والدین کے زریعے پیدا فرمایا اور ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ نبی پاک جنس کے اعتبار سے ہماری طرح انسان ہیں

یعنی انکا ایک سر ، دو ہاتھ ، دو پاوں ہیں اور بس

باقی نبی پاک بشریت میں بھی مکمل ہماری طرح نہیں بلکہ اللہ نے انکو بے شمار اختیارات ، اور ایسی نعمتیں عطاء کر رکھی تھیں کہ جو عام کسی بشر میں نہیں ہو سکتی ہیں

جناب کا اگلا اعتراض:

فرض کریں کہ یہ حدیث ضعیف نہیں بلکہ صحیح ہے تو بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم جنس کے اعتبار سے ذات کے اعتبار سے نور نہیں بلکہ بشر ہی ہیں جو بلند ہوتے نور کی بات کی گئی اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ روشنی یعنی ہدایت مراد ہے جو آپ کے دنیا میں آنے سے پھیل گئی اندھیرے چھٹ گئے ظلمتیں مٹ گئی

لیکن اس سے ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جنس نور ہے

کیونکہ درج ذیل آیات سے واضح ہوتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی جنس انسان ہی تھی حقیقی یعنی ذاتی اعتبار سے وہ سب انسان تھے یہ نہیں کہ حقیقی اعتبار سے وہ انسان نہ ہوں نور ہوں یا نور بھی ہوں اور بشر بھی ہوں

بلکہ ان کو نور اس اعتبار سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ ہدایت کی روشنی لے کر آئے

جیسا کہ کفر کو اندھیرے کہا گیا تو اس کے برعکس ایمان یعنی ہدایت روشنی/نور کہلائے گی

کہ جب وہ نور لے کر آئے تو دنیا روشن ہو گئی اور اس حدیث کا مطلب یہ ہو گا کہ ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نور یعنی ہدایت کی روشنی سب سے زیادہ پھیلے گی اور وہ الحمداللہ پھیلی بھی ہے

ہدایت کی روشنی لے کر آیے اندھیرے چھٹے ظلمتیں دور ہوئیں نور پھیل گیا

الجواب :

جناب نے پھر وہی رام کہانی شروع کر دی کہ نبی پاک نور ہدایت ہیں

جبکہ اس پر ہم دونوں پہلے متفق تھے کہ نبی پاک ذاتی طور پر حقیقی طور پر بشر ہیں ، اور نور ہدایت بھی ہیں

لیکن اختلاف اس پے تھا کہ نبی پاک حسی طور پر بھی نور ہیں یعنی نور نظر آنے والے بھی ہیں نوری بھی ہیں ؟

تو جناب نے پھر وہی لکھ دیا کہ نبی پاک کے آنے سے اندھیرے مٹ گئے نورانیت یعنی ایمان پھیل گیا

تو جناب من ہم نے عرض کیا تھا کہ نور ہدایت ایک قلبی کیفیت ایمانی کا نام ہے جسکا تعلق آنکھوں سے نظر آنے والے نور سے نہیں ہوتا ہے

قلب میں جیسے ایمان کا نور ہے اسکو آنکھوں سے نہیں دیکھا جا سکتا ہے جبکہ

ہم نے جو روایت پیش کی ہے اس میں صریح واضح فرآنی نورا کے الفاظ ادا کیے ہوئے ہیں رسول خدا نے

کہ آدم نے مجھے نور دیکھا ، مجھے یعنی میری ذات کو نور دیکھا

جو نور ہوتا ہے اسی کو نور دیکھا جاتا ہے

نبی نے یہ تو نہیں فرمایا کہ آدم نے میرے دل میں نور یا ایمان کا نور دیکھا بلکہ انہوں نے مطلق ذات کے بارے نور کہا

تو نور ہدایت کے دلائل دیکر نور حسی کی نفی کرنا یہ نہ ہی کوئی علمی منہج ہے اور نہ ہی اصولی بات ہے

جناب کا اگلا اعتراض :

1. وَ مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدۡرِہٖۤ اِذۡ قَالُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ عَلٰی بَشَرٍ مِّنۡ شَیۡءٍ ؕ قُلۡ مَنۡ اَنۡزَلَ الۡکِتٰبَ الَّذِیۡ جَآءَ بِہٖ مُوۡسٰی نُوۡرًا وَّ ہُدًی لِّلنَّاسِ

ترجمہ:اورانہوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرنہیں پہچانی جیسا اس کی قدرپہچاننے کاحق ہے،جب انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے کسی انسان پرکچھ بھی نازل نہیں کیا،آپ کہیں وہ کتاب کس نے اُتاری تھی جوموسیٰ لے کرآئے تھے؟جوانسانوں کے لیے روشنی اورہدایت تھی.

2. فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِہٖ مَا نَرٰىکَ اِلَّا بَشَرًا مِّثۡلَنَا

ترجمہ:تواس کی قوم میں سے سرداروں نے کہاجنہوں نے کفرکیا: ہم تمہیں اپنے جیسا انسان ہی دیکھتے ہیں

3. قَالَتۡ رُسُلُہُمۡ اَفِی اللّٰہِ شَکٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ یَدۡعُوۡکُمۡ لِیَغۡفِرَ لَکُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِکُمۡ وَ یُؤَخِّرَکُمۡ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ قَالُوۡۤا اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُنَا ؕ تُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا کَانَ یَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۱۰﴾

ترجمہ : اُن کے رسولوں نے کہا کہ کیا اُس اللہ تعالیٰ کے بارے میں بھی شک ہے جوآسمانوں اورزمین کو پیداکرنے والاہے؟وہ تمہیں بلاتاہے تاکہ تمہارے گناہوں کومعاف کردے اور تمہیں ایک مدتِ مقررہ تک مہلت دے۔ انہوں نے کہا کہ تم اور کچھ نہیں مگرہمارے جیسے انسان ہی ہو،تم چاہتے ہو کہ ان سے ہمیں روک دو،جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے چنانچہ تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لاؤ۔

4. وَ لَئِنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّثۡلَکُمۡ اِنَّکُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴿ۙ۳۴﴾

ترجمہ :اور اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک انسان کی اطاعت کی تب تم بلاشبہ ضرورخسارہ اُٹھانے والے ہی ہو گے۔

5. مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُنَا ۚ ۖ فَاۡتِ بِاٰیَۃٍ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۱۵۴﴾

ترجمہ :تم ہمارے ہی جیسے ایک انسان ہوپس کوئی معجزہ لاؤ اگرتم سچوں میں سے ہو۔

6.وَ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُنَا وَ اِنۡ نَّظُنُّکَ لَمِنَ الۡکٰذِبِیۡنَ

ترجمہ :اور تم نہیں ہو مگر ہم جیسے ہی ایک انسان اور بےشک ہم تمہیں یقینا جھوٹوں میں سے سمجھتے ہیں

7. قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ یُوۡحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَاسۡتَقِیۡمُوۡۤا اِلَیۡہِ وَ اسۡتَغۡفِرُوۡہُ ؕ وَ وَیۡلٌ لِّلۡمُشۡرِکِیۡنَ ۙ﴿۶﴾

ترجمہ:آپ کہہ دیں کہ میں تم جیسا ہی ایک انسان ہوں،میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ یقیناًتمہارامعبود بس ایک ہی معبود ہے ،سوتم اُسی کی طرف سیدھے رہو اور اُسی سے بخشش مانگو اور مشرکوں کے لئے بڑی ہلاکت ہے۔

الجواب :

ان تمام آیات میں نبی پاک کے جنس کے اعتبار سے بشر ہونے کے دلائل ہیں جس پر ہم کل اتفاق ظاہر کر چکے تھے

اختلاف نبی کے نور حسی ہونے کا ہے تو کیا ان تمام آیات میں کہیں ہے کہ نبی پاک نور نہیں ہیں ؟

بشریت کا ذکر ہے بشریت کا تو موضوع ہی نہیں موضوع ہے نبی کے نور ہونے کا اور نو ر حسی ہونے کا جسکا انکار آپکی پیش کردہ کسی ایک آیت میں بھی نہیں ہے

اور نبی پاک کو بشر بااعتبار جنس یعنی خدوخال اور جسم کے حصے انکے بھی بشریت والے وہی ہیں جس طرح اللہ نے ہمارے بنائے ہیں

لیکن اللہ نے نبی کو بشر جیسا بنایا ہے ہم نبی کو بالکل اپنے جیسا بشر بھی نہیں مانتے بلکہ نبی پاک کو ایسی صلاحتیں اللہ نے نوازی تھیں کہ جسکی وجہ سے نبی پاک کو اپنے جیسا بشر کہنا بھی بد ترین گستاخی اور نبی پاک و صحابہ کے تعلیمات کی خلاف ورزی ہے جسکے دلائل آگے آئیں گے

جناب کا اگلا اعتراض آیات پیش کرنے کے بعد :

یہ جتنی بھی آیات میں نے لکھی ہیں ان سب میں کفار کا ایک ہی اعتراض تھا کہ تو انسان ہے ہم کسی انسان کی بات کیسے مان سکتے ہیں

یعنی ان کا بھی یہی عقیدہ بنا ہوا تھا کہ نبی انسان نہیں ہو سکتا اس کو تو کوئی الگ مخلوق ہونا چاہیےـ

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیا چاہتے تھے کہ جو بار بار وہ یہی اعتراض کرتے کہ تم انسان ہو تو جواب یہ ہے کہ ان کا عقیدہ تھا کہ جو اللہ کا نبی ہوتا ہے اس کے پاس تو بہت سارے اختیارات ہونے چاہییں جو اس کا دل کرے وہ کر سکتا ہو

وہ ہر مطالبہ پورا کر سکتا ہو

اس کے پاس غیر مرئی طاقتیں ہونی چاہییں

ہم جو اس سے مطالبہ کریں وہ پورا کر سکتا ہو

اور یہ مطالبے کئی قوموں نے کیے اور اللہ نے کئی قوموں کے مطالبات کو پورا بھی کیا جیسا کہ حضرت صالح کی قوم کہنے لگی کہ ہمیں پہاڑ سے اونٹنی پیدا کرکے دکھاؤ اگر واقع ہی اللہ کے سچے نبی ہو

لیکن انبیاء کرام علیہم السلام کا جواب کیا ہوتا تھا؟؟؟

ہونا تو یہ چاہیے تھا نہ کہ وہ کہتے

کہ بھئی ہم کونسا انسان ہیں یا ہم تو انسان ہونے کے ساتھ ساتھ نورانی مخلوق بھی ہیں لیکن انہوں نے ایسا نہیں کہا بلکہ کہا کہ ہم فقط اللہ کے بندے ہیں تمہارے ہی جیسے انسان ہیں

(یہاں انبیاء کا اپنے آپ کو ان جیسے انسان کہنے کا مطلب جنس یعنی ذات کے اعتبار سے تھا کہ بشر ہونے میں تو ہم تم جیسے ہی ہیں /طاقت و اختیارات کے اعتبار سے ہم تم جیسے ہی ہیں اگلی آیت سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ کے حکم کے بغیر ممکن نہیں کہ ہم کوئی معجزہ لائیں

حالانکہ ان کے پاس معجزے تھے بھی لیکن کفار اپنی مرضی کے معجزے چاہتے تھے تو وہ کہتے کہ ہم وہی معجزہ لا سکتے ہیں جو رب العالمین ہمیں عطا فرماتا ہے

جیسا کہ درج ذیل آیات میں انبیاء کرام علیہم السلام نے کفار کو جوابات دیئے

1. قَالَتۡ لَہُمۡ رُسُلُہُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَمُنُّ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ ؕ وَ مَا کَانَ لَنَاۤ اَنۡ نَّاۡتِیَکُمۡ بِسُلۡطٰنٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۱﴾

ترجمہ :ان کے رسولوں نے ان سے کہاکہ ہم کچھ نہیں مگرتمہارے ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پرچاہتاہے احسان فرماتاہے اورہمارے لیے ممکن نہیں کہ ہم تمہارے پاس اذنِ الٰہی کے بغیرکوئی دلیل لائیں اور اللہ تعالیٰ ہی پرتولازم ہے کہ ایمان والے بھروسہ کریں۔

2. قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ یُوۡحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ فَمَنۡ کَانَ یَرۡجُوۡا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلۡیَعۡمَلۡ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشۡرِکۡ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖۤ اَحَدًا ﴿۱۱۰

ترجمہ : آپ کہ دیجئے کہ میں تو تم جیسا ہی ایک انسان ہوں ( ہاں ) میری جانب وحی کی جاتی ہے کہ سب کا معبود صرف ایک ہی معبود ہے ، تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہیے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے ۔

الجواب :

یہاں جناب نے آیات کی تشریح کرتے ہوئے شدید دھو کا کھایا جو لائن آپکی گستاخی اور گمراہی پر مبنی ہے ہم اسکو نقل کر کے آپکا رد پیش کرتے ہیں

آپ نے ایک جگہ یوں لکھا :

یہاں انبیاء کا اپنے آپ کو ان جیسے انسان کہنے کا مطلب جنس یعنی ذات کے اعتبار سے تھا کہ بشر ہونے میں تو ہم تم جیسے ہی ہیں /طاقت و اختیارات کے اعتبار سے ہم تم جیسے ہی ہیں

یہ آپکی لائن اتنی گمراہی پر مبنی ہے کہ مجھے لگتا ہے یا تو آپکا مطالعہ حدیث بہت ہی قلیل ہے یا تو پھر آپ نے سیرت مصطفیٰ کا مطالعہ کیا ہی نہیں آج تک کہ ایسا انسان جسکا عقیدہ یہ ہو کہ نبی پاک طاقت و اختیارات کے اعتبار سے کفار بشروں جیسے تھے تو اسکو قیامت کے دن نبی کی کیا شفاعت نصیب ہوگی ؟؟؟

جبکہ صحابہ سمیت ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ نبی پاک تھے تو حقیقی بشر لیکن اپنی بشریت میں بھی وہ یکتا تھے

انکی طاقت و اختیار بھی بشریت میں ایسے تھے جو کسی اور بشر کے پاس نہیں بلکہ صحابہ بھی بشریت میں نبی کے جیسے نہیں تھے آپ نے تو یہ ظلم کیا کہ کفار کے ساتھ اختیارات او ر طاقت میں نبی کو ایک جیسا کر دیا

بخاری کی یہ روایات ہی پڑھ لی ہوتی

امام بخاری اپنی صحیح میں حدیث نمبر : 1965

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ : إِنَّكَ تُوَاصِلُ

يَا ****َسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : وَأَيُّكُمْ مِثْلِي ،****

إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ ، فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ ، وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا ، ثُمَّ يَوْمًا ، ثُمَّ رَأَوْا الْهِلَالَ ، فَقَالَ : لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ ، كَالتَّنْكِيلِ لَهُمْ حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا .

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل ( کئی دن تک سحری و افطاری کے بغیر ) روزہ رکھنے سے منع فرمایا تھا۔ اس پر ایک آدمی نے مسلمانوں میں سے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو وصال کرتے ہیں؟

***** آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مثل تم میں سے کون ہے؟ *****

مجھے تو رات میں میرا رب کھلاتا ہے، اور وہی مجھے سیراب کرتا ہے۔ لوگ اس پر بھی جب صوم وصال رکھنے سے نہ رکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو دن تک وصال کیا۔ پھر عید کا چاند نکل آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر چاند نہ دکھائی دیتا تو میں اور کئی دن وصال کرتا، گویا جب صوم و صال سے وہ لوگ نہ رکے تو آپ نے ان کو سزا دینے کے لیے یہ کہا۔

صحیح بخاری

نبی پاک تو صحابہ کو فرما رہے ہیں تم میں میری مثل کون ہے ؟ کسی صحابی نے تو نہیں فرمایا کہ یا رسول اللہ ہم بھی تو آپ جیسے بشر ہیں آپ بھی قرشی ہیں ہم بھی ساتھ حضرت علی تھے اہلبیت کے وہ کہہ دیتے آپ تو ہم ایک جیسے ہیں

لیکن کسی صحابی نے ایسا جواب نہ دیا کیونکہ مشہور مقولہ ہے کہ صحابی صحابی ہوتا ہے وہابی نہیں

تو جناب نے یہ بات بالکل نبی پاک اور صحابہ کرام کے عقیدے کے بر خلاف لکھی اور چند اور احادیث رسول بھی پیش کردیتے ہیں کہ نبی کی بشریت بالکل ہم جیسی نہیں تھی طاقت و اختیارات میں

امام بخاری اپنی صحیح میں 1096

پر روایت لاتے ہیں جس میں نبی پاک حضرت عائشہ سے فرامتے ہیں ـ

اے عائشہ! بے شک میری آنکھیں سوتی ہیں میرا دل نہیں سوتا

اسی وجہ سے انبیاء کا وضوع بھی نیند میں نہیں ٹوٹتا ہے

کیا اب بھی نبی پاک بشریت میں طاقت و اختیارات میں کفار کے جیسے تھے ؟

اور صحیح مسلم کی روایت پڑھیں

امام مسلم حدیث نمبر 957:

پر بیان کرتے ہیں :

ایک دن رسول نے نماز پڑھائی پھر سلام پھیرا اور فرمایا اے فلاں ! تم اپنی نماز اچھی طرح نہیں پڑھ سکتے ؟

کیا نمازی نماز پڑھتے وقت یہ نہیں دیکھتا کہ وہ نماز کیسے پڑھتا ہے ؟ وہ اپنے لیے نماز پڑھتا

اللہ کی قسم! میں اپنے پیچھے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جس طرح سامنے دیکھتا ہوں

زرہ یہ اختیار بھی ہمیں کفار کے بشروں میں دیکھا دین اولیا اللہ تو دور کی بات ہے آپ تو قرآن کا مطلب ہی نہیں سمجھے

یہی نبی پاک فرماتے ہیں اے عائشہ میں چاہوں تو یہ پہاڑ میرے ساتھ سونا بن کرچلیں

(السلسلہ الصیحیہ، البانی)

الغرض نبی پاک نے جہاں بھی قرآن میں اللہ نے انکو فرمایا کہ ان سے کہو میں تم جیسا ہوں اس سے مراد نبی پاک فقط جنس اور خدوخال میں عام بشریت جیسے ہی ہیں

پھر اسی روایت کے آگے ہیں کہ مجھ پروحی آتی ہے جب وحی آتی ہے تو بالکل ان بشروں جیسے کیسے ہوگئے ؟

جبکہ نبی پاک تو صحابہ کو یہ کہتے کہ تم میں میری مثل بھلا کون ہے ؟

تو جناب ادھر ادھر ی باتیں نہ کریں

ہم کو قرآن یا حدیث سے یہ پیش فرمائیں کہ نبی پاک نور حسی نہیں یعنی انکو دیکھیں تو نور نظر آئے ایسی نورانیت نبی میں تھی بس قلبی نورانیت ایمانی تھی

اس طرح صریح حدیث پیش کریں

ورنہ ہماری پیش کردہ روایت پر آپ نے جو باطل تاویل کی ہے اسکا رد ہم نے کر دیا

آخر میں آپ نے کہا کہ : قیامت کے دن مومنین کے ماتھے وغیرہ چمک رہے ہونگے تو جناب من یہاں مومنین کے عضو کی بات ہے کہ وہ چمک رہے ہونگے

یہ نہیں کہ مومنین فی ذات نور ہونگے

اگر مومنین کے عضو کا چمکنا اور نبی کا نور ہونا ایک بات تھی تو نبی کا یہ فرمانے کا مقصد ہی کیا رہا کہ آدم نے مجھے نور دیکھا تو پوچھا یہ کون ہے

جب نبی پاک باقی سب سے جدا تھے اور نور تھے توتبھی آدم جیسے نبی نے پوچھا کہ یہ کون ہے اسی نور کو نبی نے کہا یہ احمد ہے یہ نہ کہا کہ یہ نبی کا دل ہے جس میں نور ایمانی چمک رہا ہے

(نوٹ: میں نے تفصیلی جواب دیا لیکن مجھے افسوس ہے کہ آپ سے بات کر کے میرا وقت کافی ضائع ہوا لیکن میرا جواب دینا لازم تھا میرے کیے گئے مطالبے جب تک آپ پورے نہیں کرینگے تو فقط قرآن سے نبی کی بشریت کےدلائل دینے کا فائدہ نہیں کیونکہ نبی کی بشریت کا انکار ہم نے کیا نہیں اور نور کی نفی آپ نے ابھی تک پیش نہںیں کی)

تحقیق:دعاگواسد الطحاوی الحنفی البریلوی