*یہ تھے ایک ہزار سال پہلے کے حالات اور اب۔۔۔؟ الامان والحفیظ!!*

حضرت داتا گنج بخش سید ابو الحسن علی بن عثمان ہجویری (علیہ الرحمہ) آج سے تقریباً ایک ہزار سال قبل اپنے زمانے کے حالات اپنی کتاب مستطاب ”کشف المحجوب شریف“ میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں:

الله تعالی نے ہمیں ایسے زمانہ میں پیدا فرمایا ہے کہ لوگوں نے

• اپنی خواہشات کا نام شریعت،

• حُبِّ جاہ کا نام عزت،

• تکبر کا نام علم،

• اور ریاکاری کا نام تقوی رکھ لیا ہے۔

• اور دل میں کینہ کو چھپانے کا نام حلم،

• مجادلہ کا نام مناظرہ،

• محاربہ و بیوقوفی کا نام عظمت،

• نفاق کا نام وفاق،

• آرزو تمنا کا نام زہد،

• ہذیانِ طبع کا نام معرفت،

• نفسانیت کا نام محبت،

• الحاد کا نام فقر،

• انکارِ وجود کا نام صفوت،

• بے دینی و زندقہ کا نام فنا،

• اور نبی کریم ﷺ کی شریعت کو ترک کرنے کا نام طریقت رکھ لیا ہے۔

• اور اہل دنیا کی آفتوں کو معاملہ کہنے لگے ہیں۔

_(کشف المحجوب، صفحہ ٤۷)_

*These were the sad state of affairs 1000 years ago and, today…? (Allah protect us All)*

Hazrat Daata Ganj Bakhsh Sayyid Abu al-Hasan Ali bin Usman Hujveri (Alayhir Rahmah) described the state of affairs of his era (approx. 1000 years ago from today) in his well-known book, “Kashf al-Mah’joob”. He states:

We were born in an era where our contemporaries have named their

• Lusts and desires as Shari’ah,
• Ambition for fame as Nobility,
• Arrogance as Knowledge,
• And Ostentation as Piety.
• And concealment of malice in hearts as clemency,
• Disputation as Discussion,
• Wrangling and foolishness as Dignity,
• Hypocrisy as Federation,
• Cupidity as Devotion,
• Senseless fancies as Divine recognition,
• Bestiality as Love,
• Heresy as Asceticism,
• Skepticism as Purity,
• Disbelief and infidelity as Self-annihilation,
• And neglecting the Noble Shari’ah of the Beloved Prophet ﷺ as Tariqah (The Mystical Path),
• And evils of worldly people as dealings.

_Ref: Kashf al-Mah’joob, Page 47_