سنت اور نفل نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے یامسجد میں ؟:-

مسئلہ: تراویح اور تحیۃ المسجد کے سوا تمام نوافل و سنن خواہ مؤکدہ ہوں یا غیر مؤکدہ گھر میں پڑھنا افضل اور باعث ثواب اکمل ہے ۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں ’’ علیکم بالصلوٰۃ فی بیوتکم فان خیر الصلوۃ المرء فی بیتہ الا المکتوبہ‘‘ ترجمہ :- ’’ تم پر لازم ہے گھرو ںمیں نماز پڑھنا کہ بہتر نماز مرد کے لئے اس کے گھر میں ہے سوا فرض کے ‘‘ ( بخاری شریف و مسلم شریف)

مسئلہ: سنن و نوافل کا گھر میں پڑھنا افضل اور یہی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کی عادت طیبہ اور حضور نے یونہی ہمیں حکم فرمایا ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۵۷ ،اور ص۴۵۸)

مسئلہ: اصل حکم استحبابی یہی ہے کہ سنن قبیلہ یعنی فرض کے پہلے کی سنتیں یعنی فجر کی دو ،ظہر کی چار ، عصر کی چار اور عشاء کی چار مطلقاً گھرمیں پڑھ کر مسجد میںجائے کہ ثواب زیادہ پائے ۔ اور سنن بعدیہ یعنی فرض کے بعد کی سنتیں یعنی ظہر کے بعد کی دو ، مغرب کے بعد کی دو اور عشاء کے بعد کی دو کے لئے یہ حکم ہے کہ جسے اپنے نفس پر اطمینان کامل حاصل ہو کہ گھر جاکر کسی ایسے کام میں مشغول نہ ہوگاجو اسے سنتیں ادا کرنے سے باز رکھے تو وہ فرض پڑھ کرمسجد سے پلٹ آئے اور سنتیں گھر ہی میں پڑھے تو بہتر ہے ۔ او راس سے ثواب کی ایک زیادت یہ حاصل ہوگی کہ سنن ادا کرنے کے ارادہ سے وہ جتنے قدم مسجد سے گھر تک چلے گا وہ سب حسنات (نیکیوں ) میں لکھے جائیں گے ۔ اور جس شخص کو یہ اطمینان نہ ہو وہ سنتیں مسجد میں پڑھ لے تاکہ افضلیت حاصل کرنے کا لحاظ کرنے میںاصل نماز ہی کہیں فوت نہ ہوجائے ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۵۸)

مسئلہ: لیکن اب عام طور اہل اسلام سنت اور نفل نماز مسجد میں ہی پڑھنے پر عمل کرتے ہیں ۔ مسجد میں سنتیں پڑھنے میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ گھر کے مقابلے میں مسجد میں دلی اطمینان زیادہ ہوتا ہے علاوہ ازیں اگر کوئی شخص مسجد میں سنتیں پڑھے ہی نہیں تو خواہ مخواہ لوگ اس کی بے سمجھے مخالفت ، طعن اور انگشت نمائی اور غیبت کرنے میں مبتلا ہوں گے گھر میں سنتیں پڑھنے کو جو مسئلہ اوپر درج کیا گیا ہے وہ حکم استحبابی ہے یعنی مستحب کے درجے کا ہے اور اگر مستحب کام کے کرنے سے عوام الناس کی مخالفت، انگشت نمائی ، بد گمانی اور غیبت کا اندیشہ ہے تو مسجد میں ہی سنت اور نفل نماز پڑھنا بہتر ہے ۔ ائمہ دین فرماتے ہیں : الخروج عن العادۃ شہرۃ مکروہ ۔(ماخوذ از:- فتاو ٰی رضویہ ، جلد ، ۳،ص ۴۵۹)