سید احمد حبیب کاظمی شاہ صاحب جو غالباً حضور غزالی زماں سید احمد سعید کاظمی شاہ صاحب علیہ الرحمہ کے بھتیجے ہیں ، ان سے ایک مرتبہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ نازیبا الفاظ سرزد ہوگئے ، تو آپ نے توجہ دلاے جانے پر تحریری طور پر نہ صرف توبہ و رجوع کیا ، بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہوئے کچھ یوں عرض گزار ہوے کہ

“اے اللہ عزوجل سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی روح مبارک کو مجھ سے راضی کردے تاکہ آخرت میں تیرا یہ بندہ عاصی تیری رحمتوں سے محروم نہ ہو”

(مقالات کاظمی جلد 4 ص 362)

جیسا کہ آپ اگلے صفحے پر پڑھ سکتے ہیں ، کہ اس توبہ نامے کی تائید و تعریف حضور غزالی زماں نے بھی فرمائی ، اور اپنے بھتیجے سے یہ نہ فرمایا ، کہ ہم تو سادات ہیں آل رسول ہیں مولائی ہیں “نو ڈیمانڈ معاویہ”کا نعرہ لگاؤ ، اور لوگوں کا منہ بند کرنے کیلئے بس ظاہری توبہ و رجوع کرلو ، یہ روح کو راضی کرنا کون سا ضروری ہے۔

مگر یہ سادات کرام جانتے تھے ، کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ صحابی رسول ہیں ، اور ان کی شان میں ادنی سی گستاخی بھی رب تعالیٰ کی رحمتوں سے محرومی کا سبب بن سکتی ہے ، اس لیے انہوں نے نہ صرف توبہ کی بلکہ حضرت معاویہ کی روح مبارک کو بھی راضی کرنے کی سعی فرمائی؛

ان سید صاحب کے اس مبارک عمل سے آج کے اُن سادات کرام کو سبق حاصل کرنا چاہیئے ، جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں زبانِ طعن دراز کرتے ہوے ذرا برابر بھی شرم و حیا محسوس نہیں کرتے ، کہ جسے ہم لعن طعن کا نشانہ بنا رہے ہیں ، وہ کوئی عام بندہ نہیں ، بلکہ صحابی رسولﷺ ہے۔ اور صحابہ کرام اس امت کا سب افضل و اعلی لوگوں کا طبقہ ہے۔

اللہ تعالیٰ ان مبغضین کو ہدایت عطا فرمائے آمین

✍️ارسلان احمد اصمعی قادری

2/1/2019ء