شوہر کو ذہنی سکون کیسے ملے

اسلام نے شوہر پر یہ ذمہ رکھا کے وہ اپنی بیوی کا بھی کفیل ہو اور اپنی اولاد کا بھی کفیل ہو ،کفالت اس پر واجب ہے اس لئے لامحالہ رزق کے حصول میں اسے گھر سے باہر جانا ہوتا ہے، گھر گھر گھوم کر کوئی چیز فروخت کرتا ہے، یا دکان چلاتا ہے،کسی کے ہاں مزدوری کرتا ہے، یا کسی آفس میں افسر ہے بہر حال گھر سے باہر جانا ہی پڑتا ہے ایسی صورت میں شوہر اپنی بیوی کی طرف سے اس کی ذات اور اپنے مال میں بے خوف نہ ہو تو رزق کے حصول میںاسکا دل نہیں لگ سکتا ہے،وہ باہر ہوتا ہے اور اسکا دماغ اپنے گھر پر ہوتا ہے،نہ ٹھیک سے کام کر سکتا ہے اور نہ ہی ٹھیک سے کامیابی حاصل کر سکتا ہے،الحاصل رزق کی بھی کمی آجاتی ہے اور رفتہ رفتہ نوبت فاقہ تک پہنچ جاتی ہے،اور فاقہ بہت بری چیز ہے ، وہی گھر کی لڑائیوں کا بہانہ بن جاتا ہے،اس لئے ہمارے آقا ﷺ نے عورتوں کو خاص طور پر نصیحت فرمائی کی وہ اپنی ذات میں بھی امین بن جائیں اور شوہر کے مال بھی امانت داری کا یقین قائم کردیں کے شوہر اپنے گھر سے باہر ہو تو اسے اپنے گھر کے بارے میں کوئی فکر ہی نہ رہے