نابینا کو تاکید

حضرت عبد اللہ بن اُمّ مکتوم رضی اللہ تعالیٰ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ! مدینہ میں موذی جانور بکثرت ہیں اور میں نابینا ہوں تو کیا مجھے رخصت ہے کہ میں گھر میں نماز پڑھ لوں ؟ فر مایا ’’حی علی الصلوۃ ، حی علیٰ الفلاح ‘‘ سنتے ہو ؟ عرض کی ہاں ۔ تو فرمایا : حاضر ہو ۔ ( ابو داؤد )

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! اندازہ لگائیں کہ ایک نابینا کے لئے تاجدار کائنات ﷺ نے ’’ حی علیٰ الصلوٰۃ‘‘ اور’’حی علیٰ الفلاح ‘‘ سن کر مسجد میں آنے کا حکم دیا ۔ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ ہم آنکھ والے ہوکر ، تندرست ہو کر ، توانا ہو کر ، ایک بار نہیں بلکہ قرب و جوار کی مسجدوں سے کیٔ بار اس صدا کو سنتے ہیں مگر افسوس کہ نماز با جماعت کے لئے ہم حاضر نہیں ہوتے ۔ کاش کہ ہم حضو ر ﷺ کے فرمان کا لحاظ رکھتے اور نماز با جماعت کا اہتمام کرتے ۔ آئیے دعا کریں کہ پروردگار عالم ہم سب کو نماز با جماعت کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم۔