*داڑھی منڈوانے والے حضرات کیلۓ ایک سبق آموز واقعہ_______!!*

مرزا قتیل ایک صوفی شاعر تھے.. ان کے صوفیانہ کلام سے متاثر ھو کر ایک ایرانی شخص انکا غائبانہ معتقد ھوگیا.. وہ شخص مرزا قتیل سے ملاقات کے شوق میں وطن سے چلا.. جس وقت وہ مرزا قتیل کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ مرزا داڑھی کا صفایا کررھے تھے..

ایرانی نے متعجب ھوکر انہیں دیکھا اور بولا..

“آغا ریش می تراشی..؟ (جناب آپ داڑھی مونڈ رھے ھیں.؟)

مرزا نے جواب دیا..

“بلے موۓ می تراشم ‘ ولے دک کسے نمی خراشم..” (ھاں ! بال تراش رھا ھوں ‘ کسی کا دل نہیں چھیل رھا..)

گویا ان کا “دل بدست آور کہ حج اکبر است” کی طرف صوفیانہ اشارہ تھا کہ “اپنے متعلق انسان جو چاھے کرے مگر مخلوق خدا کا دل نہ دکھاۓ..”

ایرانی ان کا جواب سن کر بے ساختہ بولا..

“آرے دل رسول اللہ می خراشی..” (کسی کا دل کیا چھیلنا’ تم تو داڑھی منڈوا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل چھیل رھے ھو..)

یہ بات سن کر مرزا قتیل تڑپ اٹھے اور وجد میں آ کر ھوش و حواس کھو دیئے.. جب طبیعت کچھ سنبھلی تو ایرانی کا شکریہ ادا کیا کہ “تونے تو میری آنکھیں کھول کر رکھ دیں.. اللہ تمہیں جزاۓ خیر دے..”

کتنے افسوس کی بات ھے کہ ھر روز ورنہ دوسرے تیسرے دن داڑھی منڈوا کر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل چھیلتے ھیں اور ھمیں احساس تک نہیں ھوتا.. الٹا ھم ان لوگوں کا مذاق اڑاتے ھیں جو چہرے پر سنت نبوی سجا لیتے ھیں.. ڈاڑھی منڈوانے والے اپنی اس حرکت کو معمولی چیز سمجھتے ھیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ کس کے حکم کی خلاف ورزی کر رھے ھیں اورکس کی صورت سے عملاً بیزار ھو رھے ھیں..

یاد رکھیے کہ داڑھی رکھنا ھر مسلمان مرد پر واجب ھے.. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے داڑھی منڈوانے والوں سے اپنی زندگی میں بھی نفرت سے چہرہ مبارک پھیر لیا تھا اور عین ممکن ھے کہ روز قیامت بھی وہ ایسوں سے منہ موڑ لیں جو داڑھی رکھنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ھیں..

اللہ ھم سب کو توفیق اور ھمت دے کہ کفار کے طریق پر چلنے کے بجاۓ انبیاء و صالحین کی سنت پر چلتے ھوۓ اپنے چہروں کو داڑھی جیسی سنت نبوی سے سجا لیں.. آمین..