🎇ارشاد نبوی ہم اور عہد حاضر ۔

جناب مِرْداسٍ الأسْلَمِيِّ رضى الله تعالى عنه و ارضاه عنا سے روایت ہے کہ ۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔

يَذْهَبُ الصَّالحُونَ الأوَّلُ فالأولُ، وتَبْقَى حُثَالَةٌ كحُثَالَةِ الشِّعِيرِ أوْ التَّمْرِ، لاَ يُبالِيهمُ اللَّه بالَةً

📗 صحیح البخاری ۔

👈 مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلى الله عليه و على آله و اصحابه و بارك و سلم نے فرمایا:

نیک لوگ یکے بعد دیگر قبض ہوتے جائیں گے اور پھر گھٹیا’ جو یا گھٹیا کھجور کی طرح کے کچھ لوگ رہ جائیں گے، جن کی اللہ تعالی کو کچھ بھی پروا نہ ہو گی

✍🏼 جناب مرداس اسلمی اصحاب شجرة میں سے ہیں یعنی ان صحابہ کرام میں سے جنہوں نے درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی اور جن کو اپنے راضی ہو چکنے کی قسمیہ بشارت اللہ تبارک و تعالی نے اپنے قرآن کریم کی سورة الفتح کی آیت

لَّقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا میں دے دی ہے

✍🏼 رسول اللہ صلى الله عليه و على آله و اصحابه و بارك و سلم نے ہمیں مزید ذہن نشین کرانے کے لیئے مثال دی ہے ۔ خریدار جو یا کھجور جب خریدتے ہیں تو چن چن کر ، انتخاب کر کر کے ۔ بالآخر ردی قسم کی بچ رہتی ہیں ۔ جو خریداروں کی توجہ نہیں کھینچتی ۔ جس طرح ان کی پرواہ کسی کو نہیں ہوتی ، ایسے ہی یہ لوگ اللہ کی توجہ حاصل نہ کر سکیں گے ۔

✅ “” اللہ تبارک و تعالی کو ان کی کوئی پرواہ نہ ہو گی “” کا مطلب ہے اللہ کی بارگاہ میں ان کی کوئی وقعت ، کوئی قدر و قیمت نہ ہوگی اور اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ قدر و وقعت کسی تعلق کی بنیاد پر ہوتی ہے اور تعلق کی وجہ یا تو حسب و نسب ہوتی ہے یا دوستی اور اپنائیت ۔

اللہ تبارک و تعالی کے ساتھ حسب نسب کا تعلق تو ہو ہی نہیں سکتا ۔ باقی صرف اپنائیت اور دوستی رہ گئی اور یہ ہوتی ہے سر تسلیم خم کر دینے سے ، غیر مشروط اطاعت سے ، مکمل اور مستقل فرمانبرداری سے ، نہ کہ نافرمانی ، ہٹ دھرمی اور غیروں کا بنے رہنے سے ۔

اور اس آخری زمانے میں اللہ کی اطاعت کم اور معصیت زیادہ ہو جائے گی ۔ شیطان کی پیروی عام ہو جائے گی, تو پھر ایسوں کی پرواہ اور خیال اللہ تبارک و تعالی کو ہو تو کیوں، ہاں مگر یہ بات بمطابق حدیث ضرور ہو گی کہ رزق کم کرنے یا روک لینے کی بجائے خوب کثرت سے دیا جائے گا تا کہ وہ انہی گمراہیوں میں اور سرمست رہیں ۔ یہی حال ہو گا کہ جناب اسرافیل علیہ السلام صور میں پھونک مار دیں گے اور قیامت قائم ہو جائے گی

✅ مشہور محدث ابن بطال رحمة الله عليه، المتوفى 449 ھ نے صحیح بخاری کی اپنی شرح میں اس حدیث کے درج ذیل فوائد بیان کیئے ہیں

* صالحین کی اقتدآء کی ترغیب

* ان کے طریقے کی مخالفت سے بچنے کی تنبیہ

* یہ اندیشہ رکھنا چاہئے کہ ان کا مخالف ان میں سے ہوگا جن کی اللہ تبارک و تعالی کو کوئی پرواہ ہے اور نہ ہی دھیان و خیال ۔

✍🏼 فقیر خالد محمود آپ سے توجہ چاہتے ہوئے کہتا ہے کہ

🌹 یہ حدیث معجزات رسول میں سے ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مستقبل کا اجمالی منظر نامہ بتا رہے ہیں کہ قرب قیامت میں اللہ تعالی نیک لوگوں کی روحیں قبض فرما لیں گے اور پھر ایسے لوگ باقی رہ جائیں گے، جو کسی اہتمام و توجہ کے مستحق نہیں ہوں گے۔ اللہ تعالی نہ انھیں کوئی قدر و قیمت اور وقعت دے گا اور نہ ان پر رحمت نازل کرے گا۔ اللہ کے نزدیک یہ بد ترین لوگ ہوں گے اور انہی پر قیامت آئے گی۔ ۔

🌹 اس حدیث میں اللہ عز و جل کے مقبول رسول صلى الله عليه و على آله و اصحابه و بارك و سلم نے مستقبل کی یہ خبر بھی دے دی کہ مسلمانوں کی اپنے عقائد و نظریات و اخلاقیات و سیاسیات و معاشیات وغیرہ جملہ امور و آداب زندگی میں اپنے دین اور اس کی صلاح و فلاح سے پہلو تہی کی وجہ سے اپنے رب کی توجہ، عنایت ، محبت اور مدد سے محروم ہوں گے سو تمام غیر مسلموں کے لیئے تر نوالہ بنے ہوئے ہوں گے اور اس وقت ہر چہار جانب ایسا ہی ہے 🌹 آپ حضور کی خبر کی صداقت اس طرح بھی ثابت ہو چکی ہے کہ دین ، دینی شعائر پر کاربند ، دین کی تعلیم و تبلیغ و اشاعت کے ادارے ، دین کی طرف بلانے والے اس وقت اجنبی سمجھے جاتے ہیں ۔ ترقی کی راہ میں رکاوٹ اور رجعت پسند گردانے جاتے ہیں، اس عہد کی عجیب و غریب جائے جاتے ہیں ۔

🌹 اس جانب بھی اشارہ موجود ہے کہ معاملہ دینی ہو یا دنیاوی ، ہم اس میں بسھولت و عافیت ترقی و کامیابی چاہتے ہیں ، مختلف مادی اسباب اور دیگر وسائل تلاش کرتے ہیں لیکن ایک انتہائی اہم ، بنیادی ضرورت بھول جاتے ہیں اور وہ ہے وہ نصرت و تائید ربانی جو صالحین کے مبارک وجودوں اور ان کی دعاؤں سے نصیب بنتی ہے ۔ یہ وہی مقدس گروہ ہے جسے اللہ تبارک و تعالی نے سورة الواقعة میں ثلة چند لوگ فرمایا ہے اور اللہ کے رسول نے طوبى للغرباء میں غریب فرمایا ہے ۔

آہستہ آہستہ صالحین کا چلے جانا ، اور ان کے مقامات کا خالی نہ ہونا، ان کی جگہ لینے والوں کا تیار نہ کیا جانا اور اس کے نتیجہ میں نصرت و تائید ربانی سے معاشرہ کا محروم رہنا خطرناک ہے ۔

ہم سے کوئی اور نعمت فوت ہو جائے تو اس کی تلافی کی پوری تندہی سے لگاتار کوششیں کرتے ہیں لیکن بھول جاتے ہیں تو صرف اس گروہ صالحین و مصلحین کی تیاری و دستیابی بھول جاتے ہیں ۔ نماز ، روزہ ، صدقہ اور دیگر دینی امور کی ادائیگی بھول جاتے ہیں اور اس کی وجہ بھی صالحین و مصلحین کی تیاری و دستیابی بھول جانا ہے ۔

🌻 والدین، اساتذہ، مشائخ، مصلحین، دعوت و تبلیغ سے وابستہ حضرات کے لیئے ضروری ہے کہ وہ موجودہ نسل اور بالخصوص نو خیز نسل میں اس حدیث کو رو بعمل لائیں ۔ انہیں معاشرے کے مصلح مفید ترین اور رب لی نگاہ میں رہنے والے افراد بنائیں نہ کہ بچے کھچے اور عنایات ربانی سے محروم ۔

🔎فقیر خالد محمود کا محدود مطالعہ بتاتا ہے کہ تربیت سے وابستہ افراد اور اداروں نے جب صلاح و اصلاح کو نسل نو میں پیدا کرنے کی کوششیں ترک کر دیں، انہیں سمجھ دار ، با تمیز، برے بھلے کی پہچان رکھنے والے سمجھتے ہوئے یا کسی بھی اور وجہ سے ان کے حال پر چھوڑ دیا تو کردار و گفتار و عادات و اطوار اور پہننے رہنے کے رنگ ڈھنگ سے ہوتے گذرتے عقائد و دینی و ملی نظریات تک چھن جاتے ہیں .

📜 تو خلاصہ کلام یہ بھی ہوا کہ ہر مومن کے لیۓ لازم ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کرتے ہوئے اپنے اہل خانہ و احباب کا جائزہ لے اور یہ کوششیں بھرپور کرے کہ اس کا اور اس کے اپنوں کا شمار رب العالمین کی نظروں سے گر جانے والوں میں ہرگز نہ ہو, بلکہ صالحین میں ہو غربآء میں ہو۔

بشکریہ شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب خادم جامع مسجد حضرت سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا مصطفی آباد پھالیہ منڈی روڈ منڈی بہاؤالدین مہتمم ادارہ معارف القران کشمیر کالونی کراچی