شوہر کیا معاف نہیں کرتا

شوہر اپنی بیوی کی بہت ساری خرابیوں سے درگزر کر سکتا ہے اور اسکے بہت سارے عیبوں کو نظر انداز کر سکتا ہے،مگر بیوی کی اپنی ذات میں خیانت کبھی برداشت نہیں کر سکتا ،ذات میں خیانت اسلام میں بہت بڑا گناہ ہے،اسلام نے اس کی دنیا کی جو سزا مقرر کی اس سے اس کا اندازہ لگ سکتا ہے،وہ یہ کے شادی سے پہلے مرد یا عورت میں سے کسی سے زنا کا گناہ سرزد ہو جائے تو ثبوت ہو جانے کے بعد انہیں سو درے مارنے کا حکم ہے،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الزانیۃ و الزانی فاجلد واکل واحد منھما ماٗۃ جلدۃ زانیۃ اور زانی میں سے ہر ایک کو سو درے مارو،اور دوسرا فرمان ہے الشیخ و الشیخوخۃ اذا زنیا فارجموھما شادی شدہ مرد و عورت جب زنا کریں تو انہیں رجم کرو،یعنی پتھر سے مار کر انہیں ھلاک کر دو

سزا سے تو ناپو ہے کیسا ۔ جانکا دشمن زنا کا چسکا

لمحوں کی خطا صدیوں کی سزا

اسلام کی زنا پر مقرر کی ہوئی سزا سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہی کہ یہ کتنا بڑا گناہ ہے گویا ایک ہتھیلی میں جان اور ایک ہتھیلی میں یہ گناہ،یہ گناہ اپنی جان کی ھلاکت کا فیصلہ کرنا ہے،اور جہاں اسلامی حکومت نہیں یا اسلامی قانون پر عمل نہیں برائے نام اسلامی حکومت ہے وہاں اگر ظاہری دنیا کی کوئی سزا مل نہ سکے لیکن معاشرتی سزاؤں سے تو بچا نہیں جا سکتا ہے ،وہ یہ کہ اس کی وجہ سے بارہا طلاق ہو جاتی ہے،ماحول میں بے عزتی ہوتی ہے ،ذات کا جنازہ نہ نکلے مگر عزت کا جنازہ ضرور نکل جاتا ہے،شوہر رکھے رہے اور طلاق نہ دے تو لوگ اسے طعنہ دیں،نکال دے تو گھر برباد ہو جائے،اولاد ہو تو تباھی اور بھی بڑھ جائے،لوگ بچوں کو بھی طعنہ دیں،ماں بچوں کے سامنے بھی منہ دکھانے کے قابل نہ رہے،میکے والوں کے لئے بھی جینا مشکل ہو جائے،الحاصل لمحوں کی خطا صد یوں کی سزا کا باعث بن سکتی ہے، اللہ نے خواہشات کی تکمیل کا جائز دروازہ شوہر کے نام سے کھولا ہے تو پھر اس کے ہوتے ہوئے ناجائز کا دروازہ کھول کر خاندان کی تباہی کا باعث بننا کہاں کی عقل ہو سکتی ہے؟ اس لئے ہر ایک کو اور خاص طور پر شادی شدہ کو اپنی عفت کی حفاظت بہت ضروری ہے

حلال ہے اسی کو لو ۔ حرام کار خیر نہیں