أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ مِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰٓى اُمَّةٌ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَـقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور موسیٰ کی قوم سے ایک گروہ ہے، وہ لوگ حق کے ساتھ ہدایت دیتے ہیں اور اسی کے ساتھ عدل کرتے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور موسیٰ کی قوم سے ایک گروہ ہے، وہ لو حق کے ساتھ ہدایت دیتے ہیں اور اسی کے ساتھ عدل کرتے ہیں۔ 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت کے نیک لوگوں کا مصداق 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا تھا کہ اس (عطیم) رسول نبی امی پر ایمان لانا تمام لوگوں پر واجب ہے، اب اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں بھی ایک ایسا گروہ تھا جو حق کے ساتھ ہدایت دیتا تھا اور حق کے ساتھ عدل کرتا تھا۔ اس گروہ کا مصداق کون ہے۔ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے۔

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی 310 ھ لکھتے ہیں : 

یہ قوم چین کے پار رہتی ہے، یہ لوگ حق اور عدل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں، یہ لوگ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے، انہوں نے ہفتہ کے دن شکار کرنے کو ترک کردیا، یہ ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں، ان کا کوئی آدمی ہم تک ہپنچ چکتا ہے نہ ہمارا کوئی آدمی ان تک پہنچ سکتا ہے۔ روایت میں ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اختلاف اللہ تعالیٰ نے ان کو مخلوق سے دور زمین کے ایک کونے میں پہنچا دیا، ان کے لیے زمین میں ایک سرنگ بنادی۔ وہ اس میں ڈیڑھ سال تک چلتے رہے حتی کہ وہ چیز کے پار پہنچ گئے۔ اور وہ اب تک وہاں دین حق پر قائم ہیں اور لوگوں اور ان کے درمیان ایک سمندر ہے جس کی وجہ سے لوگ ان تک نہیں ہنچ سکتے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز 7، س 271 ۔ جامع البیان جز 9، س 118، زاد المسیر ج 3، ص 274، معالم التنزیل ج 2، ص 173، الدر المنثور ج 3، ص 585، روح المعانی جز 9، ص 84)

لیکن محققین نے اس تفسیر کو رد کردیا ہے کیونکہ عادۃً ایسا ممکن نہیں ہے کہ دنیا میں کوئی قوم ہو اور دنیا اس سے ناواقف ہو، جب کہ ذرائع ابلاغ اور آمدورفت کے وسائل بہت زیادہ ہیں۔

اس آیت کی دوسری تفسیر یہ کی گئی ہے کہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں یہودیوں کا ایک گروہ تھا جو دین حق پر قائم تھا اور وہ لوگ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے تھے، جیسے حضرت عبداللہ بن سلام (رض) اور ان کے اصحاب، اگر یہ کہا جائے کہ یہ لوگ تو بہت کم ہیں اور قرآن نے ان کو امت سے تعبیر فرمایا جو ان کی کثیر تعداد کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید نے ایک فرد پر بھی امت کا اطلاق فرمایا ہے : ” ان ابراہیم کان امۃ : بیشک ابرایم (بہ نفس نفیس) ایک امت تھے ” (النحل :120) ۔ (زاد المسیر ج 3، س 274 ۔ تفسیر کبیر ج 5، س 387 ۔ روح المعانی جز 9 ۔ ص 848)

میرے نزدیک اس آیت کی زیادہ عمدہ تفسیر یہ ہے کہ بنو اسرائیل میں ہرچند کہ زیادہ تر ضدی، ہٹ دھرم، نافرمان اور فساق فجار تھے لیکن ہر دور میں ان کے اندر چند صالح لوگوں کی بھی ایک جماعت موجود رہی ہے۔ جیسا کہ امۃ کی تنوین میں اس تقلیل کی طرف اشارہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے جہاں جہاں بنو اسرائیل کی عہد شکنیوں اور بد اعمالیوں پر شدت کے ساتھ سرزنش کی ہے وہاں ان کے اندر اس قلیل گروہ کی تعریف و تحسین بھی فرمائی ہے، حق اور عدل کے الفاظ میں یہ اشارہ ہے کہ اس قلیل گروہ میں علماء بھی تھے اور قضاۃ بھی، جو دین حق پر قائم تھے اور حق کے ساتھ فیصلے کرتے تھے، ان ہی کی نسل سے ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں حضرت عبداللہ بن سلام (رض) اور ان کے اصحاب پیدا ہوئے، اس تفسیر کی تائید حسب ذیل روایات سے بھی ہوتی ہے : 

امام عبدالرحمن بن محمد الرازی بن ابی حاتم متوفی 327 ھ اپنے سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب میں نے ایک امت ایسی پائی جو اپنے اموال کا صدقہ دے گی، پھر اس کی طرف وہ مال لوٹ آئے گا اور وہ اس کو کھالے گی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ امت تمہارے بعد ہوگی اور یہ امت احمد ہے، حضرت موسیٰ نے کہا اے میرے رب ! میں نے ایک ایسی امت پائی جو پانچ نمازیں پڑھے گی اور وہ نمازیں ان کے درمیان کے گناہوں کے لیے کفارہ ہوجائیں گی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ امت تمہارے بعد ہوگی اور یہ امت احمد ہے، حضرت موسیٰ نے کہا اے میرے رب ! مجھے امت احمد میں سے کردے ! تب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو راضی کرنے کے لیے یہ آیت نازل کی اور موسیٰ کی قوم سے ایک گروہ ہے وہ لوگ حق کے ساتھ ہدایت دیتے ہیں اور اسی کے ساتھ عدل کرتے ہیں۔

ابو الصہباء البکری بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی ضی اللہ عنہ نے ایک یہودی عالم اور ایک عیسائی عالم کو بلایا اور کہا میں تم لوگوں سے ایک چیز کے متعلق سوال کرتا ہوں اور میں اس کو تم سے بہتر جانتا ہوں، پھر آپ نے یہودی عالم سے کہا یہ بتاؤ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنواسرائیل کے کتنے فرقے ہوگئے تھے ؟ اس نے کہا خدا کی قسم ! کوئی فرقہ نہیں ہوا، حضرت علی نے فرمایا تم نے جھوٹ بولا۔ ان کے اکہتر فرقے ہوئے تھے اور ایک کے سوا وہ سب دوزخ میں جائیں گے۔ پھر آپ نے عیسائی عالم سے کہا بتاؤ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد عیسائیوں کے کتنے فرقے ہوگئے تھے ؟ اس نے بھی کہا خدا کی قسم ان میں کوئی فرقہ نہیں ہوا۔ حضرت علی نے فرمایا تم نے جھوٹ بولا، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، ان کے بہتر فرقے ہوئے تھے اور ایک کے سوا سب دوزخ میں جائیں گے، اور تم اے یہودی سنو ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اور موسیٰ کی قوم سے ایک گروہ ہے وہ لوگ حق کے ساتھ ہدایت دیتے ہیں اور اسی کے ساتھ عدل کرتے ہیں۔ (الاعراف : 159) اور یہی گروہ نجات پائے گا اور تم اے نصرانی سنو ! بیشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” منہم امۃ مقتصدۃ و کثیر منہم ساء ما یعملون : اور ان میں سے کچھ لوگ اعتدال پر ہیں اور زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو بہت برے کام کر رہے ہیں ” (المائدہ : 66) ۔ اور جو لوگ اعتدال پر ہیں وہی نجات پائیں گے، اور رہے ہم ! تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” وممن خلقنا امۃ یھدون بالحق وبہ یعدلون : اور جن کو ہم نے پیدا کیا ہے، ان میں سے ایک گروہ ہے وہ لوگ حق کی ہدایت دیتے اور اسی کے ساتھ عدل اور انصاف کرتے ہیں ” (الاعراف :181) ۔

حضرت علی (رض) نے فرمایا اس امت میں سے یہی گروہ نجات پائے گا۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج 5، ص 1587 ۔ 1588 ۔ الدر المنثور ج 3، ص 585)

غرض یہ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت میں نیک لوگوں کا گروہ بھی ہر دور میں رہا ہے اور ان ہی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 159