وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةًۚ-وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِـعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ(۱۴۲)

اور ہم نے موسیٰ سے (ف۲۵۹) تیس رات کا وعدہ فرمایا اور ان میں (ف۲۶۰) دس اور بڑھا کر پوری کیں تو اس کے رب کا وعدہ پوری چالیس رات کا ہوا (ف۲۶۱) او ر موسیٰ نے (ف۲۶۲)اپنے بھائی ہارون سے کہا میری قوم پر میرے نائب رہنا اور اصلاح کرنا اور فسادیوں کی راہ کو دخل نہ دینا(ان کے راستے پر نہ چلنا)

(ف259)

تورَیت عطا فرمانے کے لئے ماہِ ذُوالقَعدہ کی ۔

(ف260)

ذی الحِجّہ کی ۔

(ف261)

حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کا بنی اسرائیل سے وعدہ تھا کہ جب اللہ تعالٰی ان کے دشمن فرعون کو ہلاک فرما دے تو وہ ان کے پاس اللہ تعالٰی کی جانب سے ایک کتاب لائیں گے جس میں حلال و حرام کا بیان ہوگا ۔ جب اللہ تعالٰی نے فرعون کو ہلاک کیا تو حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنے ربّ سے اس کتاب کے نازِل فرمانے کی درخواست کی ، حکم ہوا کہ تیس روزے رکھیں جب وہ روزے پورے کر چکے تو آپ کو اپنے دہنِ مبارک میں ایک طرح کی بُو معلوم ہوئی ، آپ نے مسواک کی ، ملائکہ نے عرض کیا کہ ہمیں آپ کے دہنِ مبارک سے بڑی محبوب خوشبو آیا کرتی تھی آپ نے مسواک کر کے اس کو ختم کر دیا ۔ اللہ تعالٰی نے حکم فرمایا کہ ماہِ ذی الحِجّہ میں دس روزے اور رکھیں اور فرمایا کہ اے موسٰی کیا تمہیں معلوم نہیں کہ روزے دار کے منہ کی خوشبو میرے نزدیک خوشبوئے مُشک سے زیادہ اَطیَب ہے ۔

(ف262)

پہاڑ پر مُناجات کے لئے جاتے وقت ۔

وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗۙ-قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَؕ-قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْۚ-فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًاۚ-فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۱۴۳)

اور جب موسیٰ ہمارے وعدہ پر حاضر ہوا اور اس سے اس کے رب نے کلام فرمایا (ف۲۶۳) عرض کی اے رب میرے مجھے اپنا دیدار دکھا کہ میں تجھے دیکھوں فرمایا تو مجھے ہر گز نہ دیکھ سکے گا (ف۲۶۴) ہاں اس پہاڑ کی طرف دیکھ یہ اگر اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھ لے گا (ف۲۶۵) پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنا نور چمکایا اسے پاش پاش کردیا اور موسیٰ گرا بے ہوش پھر جب ہوش ہوا بولا پاکی ہے تجھے میں تیری طرف رجوع لایا اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں (ف۲۶۶)

(ف263)

آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام سے کلام فرمایا اس پر ہمارا ایمان ہے اور ہماری کیا حقیقت ہے کہ ہم اس کلام کی حقیقت سے بَحث کر سکیں ۔ اَخبار میں وارد ہے کہ جب موسٰی علیہ السلام کلام سننے کے لئے حاضر ہوئے تو آپ نے طہارت کی اور پاکیزہ لباس پہنا اور روزہ رکھ کر طورِ سِینا میں حاضر ہوئے ، اللہ تعالٰی نے ایک ابر نازِل فرمایا جس نے پہاڑ کو ہر طرف سے بقدر چار فرسنگ کے ڈھک لیا ۔ شیاطین اور زمین کے جانور حتٰی کہ ساتھ رہنے والے فرشتے تک وہاں سے علیٰحدہ کر دیئے گئے اور آپ کے لئے آسمان کھول دیا گیا تو آپ نے ملائکہ کو مُلاحظہ فرمایا کہ ہوا میں کھڑے ہیں اور آپ نے عرشِ الٰہی کو صاف دیکھا یہاں تک کہ اَلواح پر قلموں کی آواز سنی اور اللہ تعالٰی نے آپ سے کلام فرمایا ۔ آپ نے اس کی بارگاہ میں اپنے معروضات پیش کئے اس نے اپنا کلامِ کریم سُنا کر نوازا ۔ حضرت جبریل علیہ السلام آپ کے ساتھ تھے لیکن جو اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے فرمایا وہ انہوں نے کچھ نہ سُنا ۔ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو کلامِ ربّانی کی لذّت نے اس کے دیدار کا آرزو مند بنایا ۔ ( خازن وغیرہ)

(ف264)

ان آنکھوں سے سوال کرکے بلکہ دیدارِ الٰہی بغیر سوال کے مَحض اس کی عطا و فضل سے حاصل ہوگا ، وہ بھی اس فانی آنکھ سے نہیں بلکہ باقی آنکھ سے یعنی کوئی بشر مجھے دنیا میں دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ اللہ تعالٰی نے یہ نہیں فرمایا کہ میرا دیکھنا ممکن نہیں ۔ اس سے ثابت ہوا کہ دیدارِ الٰہی ممکن ہے اگرچہ دنیا میں نہ ہو کیونکہ صحیح حدیثوں میں ہے کہ روزِ قیامت مؤمنین اپنے ربّ عزّوجلّ کے دیدار سے فیضیاب کئے جائیں گے علاوہ بریں یہ کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام عارِف باللہ ہیں ، اگر دیدارِ الٰہی ممکن نہ ہوتا توآپ ہر گز سوال نہ فرماتے ۔

(ف265)

اور پہاڑ کا ثابت رہنا امرِ ممکن ہے کیونکہ اس کی نسبت فرمایا ”جَعَلَہٗ دَکاًّ” اس کو پاش پاش کر دیا تو جو چیز اللہ تعالٰی کی مجعول ہو اور جس کو وہ موجود فرمائے ممکن ہے کہ وہ نہ موجود ہو اگر اس کو نہ موجود کرے کیونکہ وہ اپنے فعل میں مختار ہے ۔ اس سے ثابت ہوا کہ پہاڑ کا استِقرار امرِ ممکن ہے مَحال نہیں اور جو چیز امرِ ممکن پر معلّق کی جائے وہ بھی ممکن ہی ہوتی ہے مَحال نہیں ہوتی لہٰذا دیدارِ الٰہی جس کو پہاڑ کے ثابت رہنے پر معلّق فرمایا گیا وہ ممکن ہوا تو ان کا قول باطِل ہے جو اللہ تعالٰی کا دیدار مَحال بتاتے ہیں ۔

(ف266)

بنی اسرائیل میں سے ۔

قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ ﳲ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ(۱۴۴)

فرمایا اے موسیٰ میں نے تجھے لوگوں سے چن لیا اپنی رسالتوں اور اپنے کلام سے تو لے جو میں نے تجھے عطا فرمایا اور شکر والوں میں ہو

وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍۚ-فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَاؕ-سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ(۱۴۵)

اور ہم نے اس کے لیے تختیوں میں (ف۲۶۷) لکھ دی ہر چیز کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل اور فرمایا اے موسیٰ اسے مضبوطی سے لے اور اپنی قوم کو حکم دے کہ اس کی اچھی باتیں اختیار کریں(ف۲۶۸) عنقریب میں تمہیں دکھاؤں گابے حکموں کا گھر (ف۲۶۹)

(ف267)

توریت کی جو سات یا دس تھیں زَبَرجَد کی یا زُمُرّد کی ۔

(ف268)

اس کے اَحکام پر عامل ہوں ۔

(ف269)

جو آخرت میں ان کا ٹھکانا ہے ۔ حَسن و عطا نے کہا کہ بے حُکموں کے گھر سے جہنّم مراد ہے ۔ قَتادہ کا قول ہے کہ معنٰی یہ ہیں کہ میں تمہیں شام میں داخل کروں گا اور گزری ہوئی اُمّتوں کے منازِل دکھاؤں گا جنہوں نے اللہ کی مخالَفت کی تاکہ تمہیں اس سے عبرت حاصل ہو ۔ عطیہ عوفی کا قول ہے کہ دار الفاسقین سے فرعون اور اس کی قوم کے مکانات مراد ہیں جو مِصر میں ہیں ۔ سدی کا قو ل ہے کہ اس سے منازلِ کُفّار مراد ہیں ۔ کلبی نے کہا کہ عاد و ثمود اور ہلاک شدہ اُمّتوں کے منازِل مراد ہیں جن پر عرب کے لوگ اپنے سفروں میں ہو کر گزرا کرتے تھے ۔

سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّؕ-وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَاۚ-وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًاۚ-وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًاؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ(۱۴۶)

اور میں اپنی آیتوں سے انہیں پھیردوں گا جو زمین میں ناحق اپنی بڑائی چاہتے ہیں(ف۲۷۰) اور اگر سب نشانیاں دیکھیں ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر ہدایت کی راہ دیکھیں اس میں چلنا پسند نہ کریں (ف۲۷۱) اور گمراہی کا راستہ نظر پڑے تو اس میں چلنے کو موجود ہوجائیں یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان سے بے خبر بنے

(ف270)

ذوالنون قُدِّسَ سِرُّہٗ نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی حکمتِ قرآن سے اہلِ باطل کے قُلوب کا اکرام نہیں فرماتا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا مراد یہ ہے کہ جو لوگ میرے بندوں پر تَجبُّر کرتے ہیں اور میرے اولیاء سے لڑتے ہیں میں انہیں اپنی آیتوں کے قبول اور تصدیق سے پھیر دوں گا تاکہ وہ مجھ پر ایمان نہ لائیں یہ ان کے عناد کی سزا ہے کہ انہیں ہدایت سے محروم کیا گیا ۔

(ف271)

یہی تَکبُّر کا ثمرہ ، مُتَکبِّر کا انجام ہے ۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْؕ-هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠(۱۴۷)

اور جنہوں نے ہماری آیتیں اور آخرت کے دربار(آخرت کی حاضری) کو جھٹلایا ان کا سب کیا دھرا اکارت گیا انہیں کیا بدلہ ملے گا مگر وہی جو کرتے تھے