🍀 بیٹیوں کی تربیت 🍀

آج کل مائیں بیٹیوں سے گھر کے کام نہیں کرواتیں ، صرف پڑھائی پر زور دیتی ہیں ۔

بیٹیاں بیس بیس سال کی ہوجاتی ہیں ، لیکن اُنھیں ہاتھ سے روٹی تک بنانی نہیں آتی ؛ اس کے لیے بھی بیلن ڈھونڈتی رہتی ہیں ۔

پہلے کی مائیں چھوٹی سی عمر میں ہی بچیوں کو کھانا پکانا ، سینا پرونا ، جھاڑنا پونچھنا سکھا دیتی تھیں ۔

اللہ جنت نصیب کرے ، میری دادی جان کے پاس سیکڑوں بچیوں نے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی اور امور خانہ داری سیکھے ۔

دادای جان رحمہااللہ انھیں سکھاتی تھیں کہ:

1: صاف ستھرے کام کیا کرو ، چاہے تھوڑے ہوں ۔

2: بسم اللہ شریف پڑھ کر آٹا گوندھا کرو اور دبا کر مُکی لگایا کرو ، تاکہ آٹا نرم و ملائم ہوجائے اور اس سے پکائی گئی روٹی بوڑھے بھی آسانی سے کھا سکیں ۔

3: کپڑے دھووو تو صَرف صابن کم استعمال کرو ، ہاتھوں سے زیادہ کام لو ۔

اگر تم صابن رگڑتی رہو گی ، کپڑے مَلو گی نہیں ، تو اُن میں تَند میل پڑ جائے گی ۔

بالخصوص پائنچے ، بازو ، کَف ، کالر ، اور نیفے وغیرہ کو اچھی طرح صاف کیا کرو ۔

4: جب کوئی گھر کا فرد گھر سے باہر جانے لگے تو اللہ کے سپرد کیا کرو ، جب گھر آئےتو بسم اللہ کہا کرو اور پانی پوچھا کرو ۔

5: اپنے کپڑے ، جوتے سنبھال کررکھا کرو ، تاکہ زیادہ دیر استعمال میں آ سکیں ۔

گھر والوں کے جو جُوتے کبھی کبھی استعمال ہوتے ہیں ، اُنھیں شاپر یا ڈبے میں ڈال کر رکھا کرو ، تاکہ گردو غبار سے بچے رہیں ۔

6: دودھ اللہ کی عظیم نعمت ہے ، اس کے لیے صاف ستھرے برتن استعمال کیا کرو ، اور اس کا کوئی قطرہ زمین پر نہ گرنے دیا کرو ۔

7: باجرے ، مکئی ، اور چاول کی روٹی بھی گندم کی روٹی کی طرح گول بنایا کرو ۔

نیز تندور میں روٹی ہاتھ سے لگایا کرو ، گَدی سے لگائی گئی روٹی جلدی سُوکھ جاتی ہے ۔

8: فالتو کاغذ اور گَتے ضائع کرنے کے بجائے ، اُنھیں مٹی کے برتن میں بھگو دیا کرو ، جب وہ بالکل نرم ہوجائیں تو ان میں میتھرے ڈال کر مختلف برتن بنالیا کرو ۔

( کاغذ سے بنائے گئے برتن میں گُڑ سال بھی پڑا رہے ، خراب نہیں ہوتا ؛ اور کاغذ کی مَٹی میں رکھے ہوئے آٹے کو کیڑا نہیں لگتا )

9: اپنے بچوں کو کبھی گالی اور بددعا نہ دینا ، وہ تنگ بھی کریں پھر بھی دعا ہی دینا ۔

10: گھر میں مَکڑی کے جالے نہ دیا کرو ، انھیں جتنا جلدی ہوسکے اُتار دیا کرو ؛ لیکن مَکڑی کو کبھی نہ مارنا اس نے غار کے آگے جالا تانا تھا ۔

✍لقمان شاہد

9/1/20 ء