ہر نیکی صدقہ ہے

سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

“كل معروف فعلته الي غني او فقير صدقة”

ہر بھلائی (نیکی) خواہ تم مال دار سے کرو یا فقیر سے صدقہ ہے۔

[احیاءالعلوم (مترجم) ج 3 ص 737]

اس حدیث کو امام بزار علیہ الرحمہ نے اپنی مسند [ج 5 ص 26 رقم الحدیث 1582] میں امام طبرانی علیہ الرحمہ نے المعجم الکبیر [ج 10 ص 90 رقم الحدیث 10047] میں امام ابن ابی الدنیا علیہ الرحمہ نے قضاء الحوائج [ج1 ص 27 رقم الحدیث 11] میں کچھ تغیر کے ساتھ روایت کیا ہے۔

امام ہیثمی علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی سند کو صدقۃ بن موسی الدقیقی کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزوائد رقم الحدیث 4754]

لیکن امام ابن طاہر المقدسی علیہ الرحمہ نے اس روایت میں صدقۃ بن موسی الدقیقی کو منفرد قرار دیا ہے [اطراف الغرائب والافراد ج4 ص 107 رقم الحدیث 3727] جو کہ ان کا تسامح ہے کیونکہ صدقہ بن موسی کا متابع اس روایت میں امام شعبہ بن الحجاج ہے [حدیث شعبۃ بن الحجاج العتکی رقم الحدیث 50 اور تقریب البغیۃ للیثمی ص 261 رقم الحدیث 915] لیکن اس کی سند میں علی بن احمد بن یوسف کا ترجمہ مجھے نہ مل سکا۔

اصل میں اس روایت کی سند میں تفرد فرقد السبخی (فرقد ابن يعقوب السبخي ابو يعقوب البصري) کا ہے جسکو کثیر محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے امام ابن معین علیہ الرحمہ نے ثقہ اور امام ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ نے صدوق لیکن لین اور کثیر الخطاء قرار دیا ہے اس لیے راجح یہی ہے کہ اس کا تفرد قبول نہیں لہذا یہ روایت سندا ضعیف ہے۔ لیکن اس حدیث کا متن اور احادیث سے صحیحہ سے ثابت ہے اس روایت سے ملتی جلتی ایک حدیث کو امام ابن ابی الدنیا نے [قضاء الحوائج رقم الحدیث 13] میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اس حدیث کی سند کو سلفی محقق ڈاکٹر حمزہ احمد الزین نے صحیح قرار دیا ہے۔ [صحاح الاحادیث فیما اتفق علیہ اہل الحدیث ج 6 ص 333 رقم الحدیث 23098]

لہذا یہ حدیث ثابت ہے۔

واللہ اعلم

✍رضاءالعسقلانی غفراللہ لہ

یکم جنوری 2019ء

[پرانی پوسٹ]