فضول خرچی کا نقصان 

بیوی کی فضول خرچی سے سب سے بڑا نقصان تو یہ ہے کہ یہ حرام کام ہے،شوہر نے اجازت دی ہو پھر بھی اسلام کا حرام کیا ہوا مالک کی رضا سے جائز نہیں ہو جاتا،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ولا تبذر تبذیرا ان المبذرین کانوا اخوان الشیاطین وکان الشطان لربہ کفورا فضول خرچی نہ کرو بیشک فضول خرچ شطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے،اس فرمانے الٰہی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ فضول خرچی حرام ہے ایسے لوگ اللہ اور رسول کے فرمان کے نہیں شیطان کے تابعدار ہیں،شیطان رب کو ناپسند ہے تو اسکا تابعدار بھی ضرور رب کو ناپسند ہوگا،اس لئے کسی کے کہنے سے فضول کی اجازت نہیں مل سکتی،اور اسکا حساب قیامت کے روز دینا پڑے گا،اور شوہر نے منع کیا اس کے باوجود ایسا کام کیا گیا تو وہ اور بھی بڑا گناہ کہ اس میں فرمان الٰہی کی خلاف ورزی کے ساتھ مال کے مالک کے ساتھ بھی خیانت ہے،کریلی اور نیم پر چڑہی، حرام بھی اور مالک کی خیانت بھی،مسلمان سے یہ کام کبھی نہ ہونا چاہیئے

حلال لو حرام جائے ۔ فضول کی یہی مثال ہے

ایک گناہ کیٔ گناہ کا باعث

فضول خرچی کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو ناراض نہ کرنے کے لئے برداشت کرتا رہے اور کچھ نہ کہے تو مال زیادہ کمانے کے لئے اور بیوی کی لمبی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے وہ اپنا زیادہ وقت رزق کے حصول میں لگا دے گا،حلال و حرام کے امتیاز کو بھی درمیان سے نکال دیگا،اسے زیادہ زحمتیں برداشت کرنی پڑیںگی،گھر میں توجہ دینے کا اس کے پاس وقت نہ ہوگا،اولاد ہو تو اس پر بھی توجہ نہ کر سکے گا،نماز اور دوسری عبادتوں سے بھی غافل ہو جائے گا،یعنی اس کی وجہ سے دین کا بھی نقصان ہوتا ہے اور دنیا کا بھی نقصان ہوتا ہے،جب ایک گناہ کئی گناہوں کا باعث بن رہا ہے تو اس ایک سے اپنے آپ کو روک لیا جائے تو کئے ہلاکتوں سے حفاظت ہو جائے گی،اس لئے ہمارے آقا ﷺ نے فرمایا وہ عورت نیک اور صالح ہے جو اپنے شوہر کے مال کی حفاظت کرتی ہے اور اس میں کوئی خیانت نہیں ہونے دیتی ہے

مجبوری کا سودا اچھا نہیں ۔ انجام کار پر نظر کرتے رہو

اپنا فائدہ تو دیکھو

اس گناہ سے بچنے کا بڑا فائدہ یہ ہیکہ آپکا مال آپکا ہی رہے گا، ضرورت کے وقت آپکے کام آئے گا،کوئی بڑی مصیبت آجائے تو کسی کا محتاج نہ ہونا پڑے گا،اولاد کی اچھی تعلیم و تربیت میں کام آئے گا،شوہر کو دلی اطمینان ہوگا،ذہن کو سکون ملے گا،بیوی پر اسکا اعتماد واثق ہو جائے گا،مال اسکے پاس رکھنے میں اسے خیانت کا ڈر نہ رہے گا،اور بھی اس کے بہت سارے فوائد ہیں اسے وہ شخص اچھی طرح جان سکتا ہے جو فضول سے توبہ کرلے اور اقتصاد و میانہ روی کی صفت کو اپنا لے

اپنا رہے مفید بھی بنے ۔ گر فضول سے بچکے رہو