مرد اور عورت کی نماز کا فرق

جس طرح بالغ مرد پر نماز فرض ہے اسی طرح بالغ عورت پر بھی نماز فرض ہے ۔

حیض (Menses) اور نفاس کی حالت میں عورت کونماز پڑھنا حرام ہے ۔ ان دنوں میں عورت کو نمازمعاف ہے ۔ اور ان دنوں کی نماز کی قضا بھی نہیں ۔ ( بہار شریعت ، حصہ ۲ ، ص ۸۹)

مرد اور عورت کے نماز پڑھنے کے طریقہ میں فرق ہے ۔ وہ فرق ذیل میں مرقوم ہے۔ قارئین کرام ایک نگاہ میں مرد اور عورت کی نماز کا فرق بآسانی سمجھ لیںگے ۔

عورت
کے لئے کیا حکم ہے ؟

مرد
کے لئے کیا حکم ہے ؟

تعداد فرق

کہاں
فرق ہے

اپنی ہتھیلیاں آستین یاچادر کے اندر چھپا کر رکھے

اپنی ہتھیلیاں آستین کے باہر رکھے

1

تکبیر
تحریمہ

اپنے دونوں ہاتھ صرف مونڈھوں تک اٹھائے

اپنے دونوں ہاتھ کان تک اٹھائے

2

تکبیر
تحریمہ

پستان (چھاتی) کے نیچے ہاتھ باندھے

ناف کے نیچے ہاتھ باندھے

1

قیام

بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو پستان (چھاتی) کے نیچے رکھ کر اسکی پشت پر دائیں ہاتھ کی ہتھیلی رکھے۔
رکوع

دائیں ہاتھ کی ہتھیلی بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کے جوڑ پر رکھے اور چھنگلیا اور انگوٹھا کلائی کے اردگرد حلقہ کی شکل میں رکھے اوربیچ کی انگلیوں کو بائیں ہاتھ کی کلائی کی پشت پر بچھادے۔

2

قیام

صرف اتنا جھکے کہ ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائیں

پورا جھکے اس طرح کہ پیٹھ خوب بچھائے کہ اگر پانی کاپیالہ بھر کر پیٹھ پررکھ دیا جائے تو ٹھہرجائے

1

رکوع

اپنا سر پیٹھ کے محاذ(برابر) سے اونچا رکھے

اپنا سر پیٹھ کے محاذمیں(برابر) میں رکھے ۔ نہ نیچا جھکائے اور نہ اونچا اٹھائے

2

رکوع

ہاتھ پرٹیک نہ لگائے یعنی وزن نہ دے

ہاتھ پر ٹیک لگائے یعنی وزن دے

3

رکوع

ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھے اور گھٹنے پکڑے نہیں

گھٹنوں کو ہاتھ سے پکڑے

4

رکوع

ہاتھ کی انگلیاں کشادہ نہ کرے ۔ بلکہ ملی ہوئی رکھے

گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر انگلیاں خوب کھلی ہوئی اور کشادہ رکھے

5

رکوع

اپنی ٹانگیں جھکی ہوئی رکھے ۔ مردوں کی طرح سیدھی نہ رکھے

اپنی ٹانگیں مطلق نہ جھکائے بلکہ بالکل سیدھی رکھے

6

رکوع

سمٹ کر سجدہ کرے

پھیل کر اور کشادہ ہوکر سجدہ کرے

1

سجدہ

بازو کو کروٹ سے ، پیٹ کو ران سے ران کو پنڈلیوں سے اور پنڈلیوں کو زمین سے ملادے

بازو کو کروٹ سے ، پیٹ کو ران سے اور ران کو پنڈلیوں سے جدا رکھے

2

سجدہ

کلائیاں اور کہنیاں زمین پر بچھائے یعنی زمین سے لگائے

کلائیاں اور کہنیاں زمین پر نہ بچھائے بلکہ ہتھیلی زمین پر رکھ کر کلائیاں اور کہنیاں اوپر کو اٹھائے رکھے

3

سجدہ

دونوں پاؤں دائیں طرف نکال دے اوربائیں سرین (چوتڑ) کے بل زمین پر بیٹھے

اپنا بایاں قدم بچھاکر اس پر بیٹھے اور دایاں قدم اس طرح کھڑا رکھے کہ تمام انگلیاں قبلہ رو ہوں

1

جلسہ
اور
قعدہ

اپنی ہتھیلیاں ران پر رکھے اور انگلیاں ملی ہوئی رکھے

اپنی ہتھیلیاں ران پر رکھے اور انگلیاں اپنی حالت پر چھوڑدے یعنی انگلیاں نہ کشادہ رکھے اورنہ ملی ہوئی رکھے

2

جلسہ
اور
قعدہ

نماز پڑھ رہی ہے اور کوئی آگے سے گزرے تو ہاتھ پر ہاتھ مارکر متنبہ کرے اس کو شرعی اصطلاح میں ’’ تصفیق‘‘ کہتے ہیں۔

نماز پڑھ رہا ہے اور کوئی شخص آگے سے گزرے تو سبحان اللہ کہہ کر گزرنے والے کو متنبہ کرے

1

آگے سے
گزرنے والے
کو متنبہ کرنا

نماز فجر غلس یعنی اوّل وقت اندھیرے میں پڑھے

عورت فجر کی نماز مردوں کی جماعت قائم ہونے سے پہلے یعنی اجالا پھیلنے سے پہلے پڑھے ۔ باقی نمازوں میں مردوں کی جماعت کا انتظار کرے یعنی مردوں کی جماعت ہوجانے کے بعد پڑھے ۔

نمازفجر میں اسفار تک تاخیر کرنا مستحب ہے یعنی اتنا اجالا ہوجائے کہ زمین روشن ہو جائے اور آدمی ایک دوسرے کو آسانی سے پہچان لے۔

1

نمازفجر

عورت پر جمعہ اور عیدین کی نماز نہیں ہے

مرد پر جمعہ کی نماز فرض ہے اور عیدین کی نماز واجب ہے

1

نماز جمعہ
و عیدین

ضروری تنبیہ اور ضروری مسائل :-
٭ عورت بھی کھڑی ہوکر نماز پڑھے ۔ جن نمازوں میں یعنی فرض ، واجب اور سنت مؤکدہ میں مردوں پر قیام فرض ہے ان نمازوں میں عورتوں پر بھی قیام فرض ہے ۔ اگر بلا عذر شرعی ان نمازو ںکو بیٹھ کر پڑھے گی تو نماز نہ ہوگی ۔
٭ تمام رکعت کھڑی ہوکر پڑھے ۔ ایک رکعت کھڑی ہوکر اور باقی رکعتوں کو بیٹھ کر پڑھے گی تو ان رکعتوں میں قیام کا فرض ترک ہوگا اورنماز نہ ہوگی ۔
نوٹ :- ہماری کچھ کم علم ماں بہنیں ، فرض ، واجب اور سنت مؤکدہ نماز کی تمام یا بعض رکعتیں بیٹھ کر پڑھتی ہیں ۔ ان کی نماز نہیں ہوتی لہٰذا ایسی نماز کی قضا کریں اور آئندہ کے لئے توبہ کریں اور ہمیشہ لازمی طور پر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کی عادت ڈالیں۔
٭ شرعی عذر کے بغیر بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز نہیں ۔
٭ قیام کے متعلق جو احکام مردوں کے لئے ہیں ، وہ تمام احکام عورتو ںپر بھی لازم ہیں۔
٭ نفل نماز بغیر کسی عذر کے بھی بیٹھ کر پڑھ سکتی ہیں ۔