788 -[17]

وَعَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ قَالَ: لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يُخْسَفَ بِهِ خَيْرًا مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: أَهْوَنَ عَلَيْهِ. رَوَاهُ مَالِكٌ

روایت ہے حضرت کعب احبار سے فرماتے ہیں اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جان لیتا کہ اس پر کیا گناہ ہے تو اس کا زمین میں دھنس جانا سامنے گزرنے سے بہتر ہوتا اور ایک روایت میں ہے کہ آسان ہوتا  ۱؎(مالک)

شرح

۱؎ یہ ساری وعیدیں آگےگزرنے سے روکنے کے لیئے ہیں یعنی اگر اس کے عذاب سے پوری واقفیت ہوتی تو ہرشخص یہ چاہتا کہ زمین پھٹ جائے میں سما جاؤں مگر نمازی کے آگے سے نہ گزروں،یہاں گزرنے کی وہی صورت مراد ہے جو ناجائز ہے جن صورتوں میں شریعت نے گزرنے کی اجازت دی ہے وہ اس سے علیٰحدہ ہیں۔