أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰذِهِ الۡقَرۡيَةَ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ وَقُوۡلُوۡا حِطَّةٌ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا نَّـغۡفِرۡ لَـكُمۡ خَطِيْٓـئٰــتِكُمۡ‌ ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں جا کر بس جاؤ اور اس کی پیداوار سے جہاں سے چاہو کھاؤ اور حطۃ (معاف کرنا) کہتے جاؤ اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہون، ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور عنقریب نیکو کاروں کو مزید اجر عطا کریں گے

تفسیر:

161 ۔ 162: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں جا کر بس جاؤ اور اس کی پیداوار سے جہاں سے چاہو کھاؤ اور حطۃ (معاف کرنا) کہتے جاؤ اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہون، ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور عنقریب نیکو کاروں کو مزید اجر عطا کریں گے۔ پس ان میں سے ظلم کرنے والوں نے اس بات کو اس کے خلاف بدل دیا جو ان سے کہی گئی تھی تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا کیونکہ وہ ظلم کرتے تھے۔ (الاعراف :161 ۔ 162)

البقرہ :58 ۔ 59میں یہ مضمون گزر چکا ہے۔ اور وہاں اس کی مفصل تفسیر کی جا چکی ہے، اس لیے ان آیتوں کی تفسیر کے لیے اس مقام کو دیکھ لیا جائے۔

ترجمہ : اور ان سے اس بستی کے متعلق سوال کیجیے جو سمندر کے کنارے واقع تھی، جب وہ سنیچر کے دن تجاوز کرتے تھے، جب سنیچر کے دن مچھلیاں تیرتی ہوئی ان کے پاس آتی تھیں اور جب سنیچر کا دن نہ ہوتا تو وہ ان کے پاس (اتنی کثرت سے) اس طرح نہیں آتی تھیں، ان کی نافرمانی کی وجہ سے ہم ان کو آزمائش میں ڈالتے تھے۔ 163 ۔ اور جب ان میں سے ایک گروہ نے (نصیحت کرنے والوں سے) کہا تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنے والا ہے یا عذاب شدید میں مبتلا کرنے والا ہے، انہوں نے کہا تاکہ ہم تمہارے رب کے سامنے حجت پوری کرسکیں اور شاید کہ یہ اللہ سے ڈریں۔ 164 ۔ اور جب انہوں نے ان باتوں کو بھلا دیا جن کی ان کو نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ان لوگوں کو نجات دے دی جو برائی سے روکتے تھے اور ظالموں کو بہت برے عذاب میں جکڑلیا کیوں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔ 165 ۔ پھر جب انہوں نے اس چیز سے سرکشی کی جس سے ان کو روکا گیا تھا تو ہم نے ان سے کہا تم ذلیل بندر بن جاؤ۔ 166 ۔ اور یاد کرو جب آپ کے رب نے اعلان کیا تھا کہ وہ قیامت تک ان پر ایسے لوگوں کو مسلط کرتا رہے گا جو ان کو برا عذاب چکھائیں گے، بیشک آپ کا رب بہت جلد عذاب دینے والا ہے اور بیشک وہ بہت زیادہ بخشنے والا بہتر مہربان بھی ہے۔ 167 ۔ اور ہم نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے زمین میں کئی گروہوں میں تقسیم کردیا، ان میں سے بعض نیک تھے، اور بعض ان سے مختلف تھے، اور ہم نے راحتوں اور مصیبتوں کے ساتھ ان کی آزمائش کی تاکہ وہ سرکشی سے پلٹ جائیں۔ 168 ۔ پھر ان کے بعد ایسے نااہل لوگ ان کے جانشین ہوئے جو تورات کے وارث ہو کر اس دنیا فانی کا سامان لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عنقریب ہماری بخشش کردی جائے گی اور اگر ان کے پاس اس کی طرح اور سامان آجائے تو وہ اس کو بھی لے لیں گے، کیا ان سے کتاب میں یہ عہد نہیں لیا گیا تھا کہ وہ اللہ کے متعلق حق کے سوا کچھ نہیں کہیں گے، اور انہوں نے وہ سب کچھ پڑھ لیا جو تورات میں تھا اور اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے آخرت کا گھر سب سے بہتر ہے، کیا تم (یہ بات) نہیں سمجھتے۔ 169 ۔ اور جو لوگ کتاب کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں (تو) ہم نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔ 170 ۔ اور جب ہم نے ان کے اوپر پہاڑ (اس طرح) اٹھا لیا تھا گویا کہ وہ ان کے اوپر سائبان ہے اور وہ یہ گمان کر رہے تھے کہ وہ ان پر ضرور گرنے والا ہے (اس وقت ہم نے ان سے کہا تھا) ہم نے تمہیں جو کچھ دیا ہے اس کو مضبوطی سے پکڑ لو، اور جو کچھ اس میں ہے اس کو یاد رکھو، تاکہ تم متقی ہوجاؤ۔ 171 ۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 161