أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَطَّعۡنٰهُمُ اثۡنَتَىۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا‌ ؕ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰٓى اِذِ اسۡتَسۡقٰٮهُ قَوۡمُهٗۤ اَنِ اضۡرِبْ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ‌ ۚ فَاْنۢبَجَسَتۡ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا‌ ؕ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ‌ؕ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ وَالسَّلۡوٰىؕ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ‌ؕ وَ مَا ظَلَمُوۡنَا وَلٰـكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے ان (بنو اسرائیل) کو بارہ قبیلوں میں گروہ در گروہ تقسیم کردیا، جب موسیٰ کی قوم نے ان سے پانی طلب کیا تو ہم نے ان کی طرف وحی کی کہ اس پتھر پر اپنا عصا مارو، تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، ہر گروہ نے اپنے پانی پینے کی جگہ جان لی، اور ہم نے ان پر بادل کا سایہ کردیا اور ہم نے ان پر من وسلوی نازل کیا، ان پاک چیزوں کو کھاؤ جو ہم نے تم کو دی ہیں، اور انہوں نے ہم پر کوئی ظلم نہیں کیا لیکن وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے ان (بنو اسرائیل) کو بارہ قبیلوں میں گروہ در گروہ تقسیم کردیا، جب موسیٰ کی قوم نے ان سے پانی طلب کیا تو ہم نے ان کی طرف وحی کی کہ اس پتھر پر اپنا عصا مارو، تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، ہر گروہ نے اپنے پانی پینے کی جگہ جان لی، اور ہم نے ان پر بادل کا سایہ کردیا اور ہم نے ان پر من وسلوی نازل کیا، ان پاک چیزوں کو کھاؤ جو ہم نے تم کو دی ہیں، اور انہوں نے ہم پر کوئی ظلم نہیں کیا لیکن وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔ (الاعراف :160)

اللہ کی نعمتوں کے مقابلہ میں بنو اسرائیل کی نافرمانیاں 

اس آیت سے مقصود بنو اسرائیل کے احوال کو بیان کرنا ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بارہ گروہوں میں تقسیم کردیا، کیونکہ یہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ بیٹوں کی اولاد سے پیدا ہوئے تھے تو ان کو باہم متمیز کردیا تاکہ یہ ایک دوسرے سے حسد نہ کریں اور ان میں لڑائی جھگڑے اور قتل و غارت کی نوبت نہ آئے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب موسیٰ کی قوم نے ان سے پانی طلب کیا تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ پتھر پر اپنا عصا ماریں تو اس سے بارہ دشمنے پھوٹ نکلے، اس آیت میں ” انبجست ” فرمایا ہے اور سورة بقرہ میں ” فانفجرت ” فرمایا تھا، لغت میں ان دونوں کا معنی ایک ہے اور انبج اس اور انفجار میں کوئی فرق نہیں ہے، اور بعض ائمہ نے فرق کیا ہے الانجاس کا معنی ہے تھوڑا تھوڑا پانی نکلنا اور الانفجار کا معنی ہے بہت زیادہ پانی نکلنا اور ان میں اس طرح تطبیق ہے کہ ابتداء میں تھوڑا تھوڑا پانی نکلا، پھر بعد میں بہت زیادہ اور تیزی سے پانی نکلا، اس کے بعد فرمایا ان پر ہم نے بادل کا سایہ کیا، پھر فرمایا ہم نے ان پر من اور سلویٰ نازل کیا۔ من سے مراد ایک نفیس شیریں ذائقہ دار چیز ہے اور سلویٰ سے مراد بھنے ہوئے بٹیر ہیں، ان سب چیزوں میں ان پر اللہ کی عظیم نعمتوں کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے دھوپ کی تکلیفوں کو دور کیا اور نہایت آسانی سے ان کو کھانے اور پینے کی چیزیں فراہم کیں۔ اس کے بعد فرمایا ان پاک چیزوں کو کھاؤ جو ہم نے تم کو دی ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ صرف ان ہی چیزوں کو کھاؤ اور ان کے علاوہ اور کسی چیز کو طلب مت کرو، پھر فرمایا اور انہوں نے ہم پر کوئی ظلم نہیں کیا، اس میں یہ اشارہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے تجاوز کیا انہوں نے اللہ تعالیٰ کے منع کرنے کے باوجود کھانے کو ذخیرہ کیا یا اس وقت میں کھایا جس وقت ان کو کھانے سے منع فرمایا تھا اور یا انہوں نے اللہ تعالٰٰ سے ان چیزوں کے علاوہ کھانے پینے کی اور چیزوں کو طلب کیا اور جب مکلف وہ کام کرتا ہے جس سے اس کو منع کیا گیا تھا تو وہ وہ در اصل خود اپنے اوپر ظلم کرتا ہے، اس لیے فرمایا انہوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے کیونکہ جب بندہ کسی معصیت کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو عذاب خداوندی کا مستحق بنا دیتا ہے۔ البقرہ :60 اور البقرہ :57 میں ان امور کی بہت تفصیل سے تفسیر کردی گئی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 160