کسی شب بغل میں وہ دل بر نہ ہو گا

کلام : استاد زمن علامہ حسن رضا بریلوی

❤️

کسی شب بغل میں وہ دل بر نہ ہو گا

کوئی دن خوشی کا میسر نہ ہو گا

❤️

تیرے در پہ جب تک مرا سر نہ ہو گا

مجھے تاجِ عزت میسر نہ ہو گا

❤️

اگر بات کھونی ہو تو غم سناؤں

مجھے ہے یقیں اُن کو باور نہ ہو گا

❤️

بنیں اپنے منہ آپ وعدہ کے سچے

ہوا ہے یہ اے بندہ پرور نہ ہو گا

❤️

ستایا ہے عالم کو محشر میں ظالم

ترا نام کس کس کے لب پر نہ ہو گا

❤️

وہ اِقرار اپنا نہ پورا کریں گے

مرا وعدہ جب تک برابر نہ ہو گا

❤️

ترے نازِ بے جا پھر اٹھیں گے کس سے

مرے حق میں مرنا بھی بہتر نہ ہو گا

❤️

یہ اُمید بھی ٹوٹ جائے گی اے دل

اگر تیرے نالوں سے محشر نہ ہو گا

❤️

مزے سے وہ لیں چٹکیاں دل کے اندر

مرا دل کبھی اُن سے باہر نہ ہو گا

❤️

رگِ دل میں جس کی خلش ہو رہی ہے

کسی کی نظر ہو گی نشتر نہ گا

❤️

گڑیں گے ترے در پہ ہم مرنے والے

کسی تکیے میں اپنا بستر نہ ہو گا

❤️

مسیحا ہو بیمارِ غم ہی کے دم تک

نہ اچھا کرو گے تو بہتر نہ ہو گا

❤️

وہاں وعدۂ دید محشر پہ ٹھہرا

تو اب میرے نالوں سے محشر نہ ہو گا

❤️

غضب ہے یہ کہتے ہیں وہ دل دُکھا کر

اگر کچھ بھی اُف کی تو بہتر نہ ہو گا

❤️

خودی سے جدا ہو کہ وصلِ خدا ہو

نہ ہو کر جو ہو گا وہ ہو کر نہ ہو گا

❤️

نہیں کھیل کچھ سخت جانی حسنؔ کی

اگر سر نہ ہو گا تو خنجر نہ ہو گا

❤️