789 -[18]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى غَيْرِ السُّتْرَةِ فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلَاتَهُ الْحِمَارُ وَالْخِنْزِيرُ وَالْيَهُودِيُّ وَ الْمَجُوسِيُّ وَالْمَرْأَةُ وَتُجْزِئُ عَنْهُ إِذَا مَرُّوا بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَى قَذْفَةٍ بِحَجَرٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  نے جب تم میں سے کوئی بغیر سترہ نماز پڑھے تو اس کی نماز کو گدھا اور سؤر اور یہودی اور پارسی اور عورت توڑ دیتے ہیں ۱؎  اور جب یہ لوگ نمازی کے آگے پتھر پھینکنے کی مسافت سےگزریں تو سترے سے کفایت کرے گا ۲؎(ابوداؤد)

۱؎  اس کی شرح ابھی گزر چکی کہ نماز کا حضورقلبی مراد ہے،وہاں تین کا ذکر تھا یہاں پانچ کا۔ مطلب یہ ہے کہ اگرچہ ہر ایک کا گزرنا مضر ہے لیکن ان پانچ کا گزرنا زیادہ مضر کیونکہ ان میں دھیان زیادہ بٹتا ہے۔واﷲ اعلم!اگرچہ مجوسی بھی انسان ہیں مگر مسلمانوں کو ان سے نفرت بہت ہوتی ہے اس لیے ان کا سامنے سے گزرنا زیادہ شاق گزرے گا۔

۲؎ یعنی اگر نمازی کے آگے سترہ نہ ہو اور ان میں سے کوئی اتنی دور سے گزر جائے کہ نمازی سجدہ گاہ کو دیکھتے ہوئے ان کا احسا س نہ کرسکے تو کوئی مضائقہ نہیں اور وہ پتھر پھینکنے کی بقدر ہے یعنی اگر یہ نمازی درمیانی پتھر درمیانی طاقت سے پھینکے تو جہاں پتھر گرے اتنے فاصلہ پر گزرنا جائز ہے ۔پتھر سے درمیانی پتھر مراد ہے، پھینکنے سے درمیانی طاقت سے پھینکنا مراد۔