اب تساہل کیوں؟

میرے آقا ﷺ کی پیاری دیوانیو !اس حدیث سے ایک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ نکاح سے عورت بیوی بن کر شوہر کے گھر آتی ہے،اس کے گھر رہتی ہے وہیں پر اسکا قیام و طعام ہوتا ہے،تو اسکا مطلب یہ ہے کہ عورت نے اپنے آپ کو مکمل طور پر سب سے الگ تھلگ کر کے شوہر کا بنا لیا ہے،جب مکمل طور پر اپنے آپ کو شوہر کا بنا لیا ہے تو پھر اسے دل و جان سے اس پر نثار رہنا چاہیئے،خدمت میں کسی بھی طرح کی کوئی کمی نہیں آنی چاہیئے،جب تم نے اپنا سب کچھ اپنے شوہر کے لئے وقف چھوڑ دیا تو پھر تساہل کس بات کا؟ اسکی خدمت کرو،اسکی اطاعت کرو،اسکے گھر کی حفاظت کرو،اسکے مال و متاع کی حفاظت کرو،اپنی ذات میں بھی خیانت نہ ہونے دو، جانتی ہو تم نے اپنا گھر اور اپنے گھر والوں کو اسی کے لئے چھوڑ دیا ہے،تمہارے گھر والوں نے بھی تمہیں اسی کے لئے رخصت کر دیا ہے،جب اپنے اور خاص طور پر والدین کو اسی شوہر کی خیر خواہی کے لئے چھوڑ دیا گیا تو اب ان سے بڑھ کر کون ہے جسے شوہر کے نام پر نہ چھوڑا جائے؟تمہیں تو خالص اسکا بن جانا چاہیئے کے غیر کا خیال بھی تمہارے دماغ میں نہ آئے،تمہیں تو ایسا بن جانا چاہیئے کہ دو قالب میں جان ایک ہو

سبھی کو چھوڑا کس لئے تم نے ، دو قالب کی اک جان بنکے دیکھو