شوہر کی عاشق بنو

محبت کبھی دو طرفہ ہوتی ہے کہ دونوں ہی ایک دوسرے کو دل و جان سے چاہتے ہیں اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ محبت ایک جانب سے شروع ہوتی ہے اور اپنے آپ کو سچا عاشق بتا کر عملا اسکا ثبوت دے کر معشوق کے دل کو اپنا بنا لیا جاتا ہے،عورت کو تو یہ سوچنا بھی نہیں ہے کہ اس کا شوہر اس سے محبت کر رہاہے یا نہیں، اسے یہ باور کر لینا چاہیئے کہ میں سچی عاشق ہوں اور جائز محبت کا آغاز مجھے کرنا ہے،معشوق مانے یا نہ مانے مجھے اپنی محبت میں خود کو سچا ثابت کرنا ہے،اگر اس طرح سے محبت کی ابتداء ہو تو دور نہیں چند دنوں میں یہ محبت دو طرفہ ہو جائے گی، اور دو قالب میں ایک جان والی کہاوت درست ٹھہرے گی ،مگر ساتھ میں یہ یقین بھی کر لینا چاہیئے کہ یہ درجہ یونہی نہیں مل جاتا اس کے لئے بہت قربانیاں درکار ہیں،اس راہ میں کامیابی کے لئے رات دن ایک کرنے پڑتے ہیں،اور اس راہ میں قربانی کی پہلی مانگ عورت سے ہوتی ہے کہ اسے اس غیر کو اپنا بنانا ہے جس سے عارضی رشتہ کا آغاز الفاظ سے ہوا ہے،اور نکاح سے بننے والی اس عظیم الشان عمارت کو ڈھانے کے لئے کسی بم دھماکہ کی ضرورت نہیں بلکہ وہ بھی الفاظ ہی سے تباہ کی جاسکتی ہے،بلکہ بنانے میں تو گواہوں کی بھی ضرورت تھی توڑنے میں تو اس کی بھی حاجت نہیں ہے،یہ کمزور ترین رشتہ محبت سے مضبوط ہوتا ہے اور محبت سے ہی نبھتا ہے اس لئے عورت کو یہ نصیحت کبھی فراموش نہ کرنی چاہیئے اور اسے جھک جھک کر اپنے آپکو اٹھانا چاہیئے

قربانیوں سے عشق کے میدان میں آ ، معشوق بھی عاشق کا ذی لقب ہوگا