اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاؕ-وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ(۱۵۲)

بیشک وہ جو بچھڑا لے بیٹھے عنقریب انہیں ان کے رب کا غضب اور ذلت پہنچنا ہے دنیا کی زندگی میں اور ہم ایسا ہی بدلا دیتے ہیں بہتان ہایوں(بہتان باندھنے والوں) کو

وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا٘-اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۵۳)

اور جنہوں نے برائیاں کیں اور ان کے بعد توبہ کی اور ایمان لائے تو اس کے بعد تمہارا رب بخشنے والا مہربان ہے(ف۲۸۷)

(ف287)

مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ گناہ خواہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ جب بندہ ان سے توبہ کرتا ہے تو اللہ تبارَ کَ و تعالٰی اپنے فضل و رحمت سے ان سب کو معاف فرماتا ہے ۔

وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ ۚۖ-وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ(۱۵۴)

اور جب موسیٰ کا غصہ تھما(دور ہوا) تختیاں اٹھالیں اور ان کی تحریر میں ہدایت اور رحمت ہے ان کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں

وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَاۚ-فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَؕ-اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّاۚ-اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَؕ-تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُؕ-اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ(۱۵۵)

اور موسیٰ نے اپنی قوم سے سترمرد ہمارے وعدہ کے لیے چنے(ف۲۸۸) پھر جب انہیں زلزلہ نے لیا(ف۲۸۹) موسیٰ نے عرض کی اے رب میرے تو چاہتا تو پہلے ہی انہیں اور مجھے ہلاک کردیتا(ف۲۹۰) کیا تو ہمیں اس کام پر ہلاک فرمائے گا جو ہمارے بے عقلوں نے کیا (ف۲۹۱) وہ نہیں مگر تیرا آزمانا تو اس سے بہکائے جسے چاہے اور راہ دکھائے جسے چاہے تو ہمارا مولیٰ ہے تو ہمیں بخش دے اور ہم پر مِہر(رحم وکرم) کر اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے

(ف288)

کہ وہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ساتھ اللہ کے حضور حاضر ہو کر قوم کی گوسالہ پرستی کی عُذر خواہی کریں چنانچہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام انہیں لے کر حاضر ہوئے ۔

(ف289)

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ زلزلہ میں مبتلا ہونے کا سبب یہ تھا کہ قوم نے جب بچھڑا قائم کیا تھا یہ ان سے جدا نہ ہوئے تھے ۔ (خازن)

(ف290)

یعنی مِیقات میں حاضر ہونے سے پہلے تاکہ بنی اسرائیل ان سب کی ہلاکت اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے اور انہیں مجھ پر قتل کی تہمت لگانے کا موقع نہ ملتا ۔

(ف291)

یعنی ہمیں ہلاک نہ کر اور اپنا لطف و کرم فرما ۔

وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَؕ-قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُۚ-وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍؕ-فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَۚ(۱۵۶)

اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی لکھ (ف۲۹۲) اور آخرت میں بے شک ہم تیری طرف رجوع لائے فرمایا (ف۲۹۳) میرا عذاب میں جسے چاہوں دوں (ف۲۹۴) اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہے (ف۲۹۵) تو عنقریب میں(ف۲۹۶) نعمتوں کو ان کے لیے لکھ دوں گا جو ڈرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں

(ف292)

اور ہمیں توفیقِ طاعت مَرحمت فرما ۔

(ف293)

اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے ۔

(ف294)

مجھے اختیار ہے سب میرے مَملوک اور بندے ہیں کسی کو مجالِ اعتراض نہیں ۔

(ف295)

دنیا میں نیک اور بد سب کو پہنچتی ہے ۔

(ف296)

آخرت کی ۔

اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ٘-یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓىٕثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْؕ-فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤۙ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠(۱۵۷)

وہ جو غلامی کریں گے اس رسول بے پڑھے غیب کی خبریں دینے والے کی(ف۲۹۷)جسے لکھا ہوا پائیں گے اپنے پاس توریت اور انجیل میں(ف۲۹۸) وہ انہیں بھلائی کا حکم دے گا اور برائی سے منع فرمائے گا اور ستھری چیزیں ان کے لیے حلال فرمائے گا اور گندی چیزیں اُن پر حرام کرے گا اور اُن پر سے وہ بوجھ (ف۲۹۹) اور گلے کے پھندے (ف۳۰۰) جو ان پر تھے اُتارے گا تو وہ جو اس پر (ف۳۰۱) ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اسے مدد دیں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ اُترا(ف۳۰۲) وہی بامراد ہوئے

(ف297)

یہاں رسول سے بہ اجماع مفسِّرین سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰےصلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں ۔ آپ کا ذکر وصفِ رسالت سے فرمایا گیا کیونکہ آپ اللہ اور اس کے مخلوق کے درمیان واسطہ ہیں ۔ فرائضِ رسالت ادا فرماتے ہیں ، اللہ تعالٰی کے اوامِر و نہی و شرائِع و اَحکام اس کے بندوں کو پہنچاتے ہیں ، اس کے بعد آپ کی توصیف میں نبی فرمایا گیا اس کا ترجمہ حضرت مُتَرجِم قُدِّسَ سِرُّہ نے (غیب کی خبریں دینے والے) کیا ہے اور یہ نہایت ہی صحیح ترجمہ ہے کیونکہ نَبَاْ خبر کو کہتے ہیں جو مفیدِ علم ہو اور شائبۂ کِذب سے خالی ہو ۔ قرآنِ کریم میں یہ لفظ اس معنٰی میں بکثرت مستعمل ہوا ہے ۔ ایک جگہ ارشاد ہوا ” قُلْ ھُوَ نَبَؤُ عَظِیمٌ” ایک جگہ فرمایا ” تِلْکَ مِنْ اَنْبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْھَآ اِلَیْکَ” ایک جگہ فرمایا ” فَلَمَّا اَنْبَأَھُمْ بِاَسْمَآءِ ھِمْ” اور بکثرت آیات میں یہ لفظ اس معنٰی میں وارد ہوا ہے پھر یہ لفظ یا فاعِل کے معنٰی میں ہوگا یا مفعول کے معنٰی میں ، پہلی صورت میں اس کے معنٰی غیب کی خبریں دینے والے اور دوسری صورت میں اس کے معنٰی ہوں گے غیب کی خبریں دیئے ہوئے اور دونوں معنٰی کو قرآنِ کریم سے تائید پہنچتی ہے ۔ پہلے معنٰی کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے”نَبِّیءْ عِبَادِیْ” دوسری آیت میں فرمایا” قُلْ اَؤُنَبِّئُکُمْ ”اور اسی قبیل سے ہے حضرت مسیح علیہ الصلٰوۃ والسلام کا ارشاد جو قرآنِ کریم میں وارِد ہوا ”اُنَبِّئُکُمْ بِمَا تَاْکُلُوْنَ وَمَا تَدَّ خِرُوْنَ” اور دوسری صورت کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے۔ ” نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ” اور حقیقت میں انبیاء علیہم السلام غیب کی خبریں دینے والے ہی ہوتے ہیں ۔ تفسیرِ خازن میں ہے کہ آپ کے وصف میں نبی فرمایا کیونکہ نبی ہونا اعلٰی اور اشرف مراتب میں سے ہے اور یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ آپ اللہ کے نزدیک بہت بلند درجے رکھنے والے اور اس کی طرف سے خبر دینے والے ہیں” اُمِّی” کا ترجمہ حضرت متَرجِم قُدِّسَ سِرُّہ نے (بے پڑھے) فرمایا یہ ترجمہ بالکل حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے ارشاد کے مطابق ہے اور یقیناً اُمِّی ہونا آپ کے معجزات میں سے ایک معجِزہ ہے کہ دنیا میں کسی سے پڑھا نہیں اور کتاب وہ لائے جس میں اوّلین و آخرین اور غیبوں کے علوم ہیں ۔ (خازن)

خاکی وبَر اُوج عرش منزل ، اُمِّی و کتاب خانہ در دِل دیگر : اُمِّی و دقیقہ دان عالَم ، بے سایہ و سائبان عالَم صلوٰۃ اللہ تعالیٰ علیہ وسَلَامُہ ۔

(ف298)

یعنی توریت و انجیل میں آپ کی نعت و صفت و نبوّت لکھی پائیں گے ۔

حدیث : حضرت عطاء ابنِ یسار نے حضرت عبداللہ بن عَمۡرو رضی اللہ عنہ سے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ اوصاف دریافت کئے جو توریت میں مذکور ہیں انہوں نے فرمایا کہ حضور کے جو اوصاف قرآنِ کریم میں آئے ہیں انہیں میں کے بعض اوصاف توریت میں مذکور ہیں ، اس کے بعد انہوں نے پڑھنا شروع کیا اے نبی ہم نے تمہیں بھیجا شاہِد و مبشِّر اور نذیر اور اُمّیّوں کا نگہبان بنا کر ۔ تم میرے بندے اور میرے رسول ہو میں نے تمہارا نام مُتوَکِّل رکھا ، نہ بد خُلق ہو نہ سخت مزاج ، نہ بازاروں میں آواز بلند کرنے والے ، نہ بُرائی سے بُرائی کو دفع کرو لیکن خطا کاروں کو معاف کرتے ہو اور ان پر احسان فرماتے ہو ، اللہ تعالٰی تمہیں نہ اُٹھائے گا جب تک کہ تمہاری برکت سے غیر مُستقیم مِلّت کو اس طرح راست نہ فرماوے کہ لوگ صِدق و یقین کے ساتھ ” لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ” پکارنے لگیں اور تمہاری بدولت اندھی آنکھیں بینا اور بہرے کان شُنوا اور پردوں میں لپٹے ہوئے دل کشادہ ہو جائیں اور حضرت کعب اَحبار سے حضور کی صفات میں توریت شریف کا یہ مضمون بھی منقول ہے کہ اللہ تعالٰی نے آپ کی صفت میں فرمایا کہ میں انہیں ہر خوبی کے قابِل کروں گا ،اور ہر خُلقِ کریم عطا فرماؤں گا اور اطمینانِ قلب و وقار کو ان کا لباس بناؤں گا اور طاعات و اِ حسان کو ان کا شعار کروں گا اور تقوٰی کو ان کا ضمیر اور حکمت کو ان کا راز اور صدق و وفا کو ان کی طبیعت اور عفو و کرم کو ان کی عادت اور عدل کو ان کی سیرت اور اظہارِ حق کو ان کی شریعت اور ہدایت کو ان کا اِمام اور اسلام کو ان کی مِلّت بناؤں گا ۔ اَحمد انکا نام ہے ، خَلق کو ان کے صدقے میں گمراہی کے بعد ہدایت اور جہالت کے بعد علم و معرِفت اور گمنامی کے بعد رِفعت و منزِلت عطا کروں گا اور انہیں کی برکت سے قِلّت کے بعد کثرت اور فقر کے بعد دولت اور تفرُّقے کے بعد مَحبت عنایت کروں گا ، انہیں کی بدولت مختلف قبائل غیر مُجتمع خواہشوں اور اختلاف رکھنے والے دلوں میں اُلفت پیدا کروں گا اور ان کی اُمّت کو تمام اُمّتوں سے بہتر کروں گا ۔ ایک اور حدیث میں توریت شریف سے حضور کے یہ اوصاف منقول ہیں میرے بندے احمدِ مختار ، انکا جائے ولادت مکّۂ مکرّمہ اور جائے ہجرت مدینہ طیّبہ ہے ، ان کی اُمّت ہر حال میں اللہ کی کثیر حمد کرنے والی ہے ۔ یہ چند نقول احادیث سے پیش کئے گئے ، کُتُبِ اِلٰہیہ حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت و صِفَت سے بھری ہوئی تھیں ۔ اہلِ کتاب ہر قَرن میں اپنی کتابوں میں تراش خراش کرتے رہے اور ان کی بڑی کوشِش اس پر مسلّط رہی کہ حضور کا ذکر اپنی کتابوں میں نام کو نہ چھوڑیں ۔ توریت انجیل وغیرہ ان کے ہاتھ میں تھیں اس لئے انہیں اس میں کچھ دشواری نہ تھی لیکن ہزاروں تبدیلیں کرنے کے بعد بھی موجودہ زمانہ کی بائیبل میں حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی بِشارت کا کچھ نہ کچھ نشان باقی رہ ہی گیا ۔ چنانچہ برٹش اینڈ فارن بائیبل سوسائٹی لاہور ۱۹۳۱؁ء کی چھپی ہوئی بائیبل میں یوحنّا کی انجیل کے باب چودہ کی سولھویں آیت میں ہے ۔ ” اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے” لفظِ مددگار پر حاشیہ ہے اس میں اس کے معنٰی وکیل یا شفیع لکھے تو اب حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بعد ایسا آنے والا جو شفیع ہو اور ابد تک رہے یعنی اس کا دین کبھی منسوخ نہ ہو بجُز سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے کون ہے پھر اُنتیسویں تیسویں آیت میں ہے ۔” اور اب میں نے تم سے اس کے ہونے سے پہلے کہہ دیا ہے تاکہ جب ہو جائے تو تم یقین کرو اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں” کیسی صاف بِشارت ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنی اُمّت کو حضور کی ولادت کا کیسا منتظِر بنایا اور شوق دلایا ہے اور دنیا کا سردار خاص سیدِ عالَم کا ترجمہ ہے اور یہ فرمانا کہ مجھ میں اس کا کچھ نہیں حضور کی عظمت کا اظہار اور اس کے حضور اپنا کمالِ ادب و انکسار ہے پھر اسی کتاب کے باب سولہ کی ساتویں آیت ہے ۔” لیکن میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لئے فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مدد گار تمہارے پاس نہ آئے گا لیکن اگر جاؤں گا تو اسے تمہارے پاس بھیج دوں گا ” اس میں حضور کی بشارت کے ساتھ اس کا بھی صاف اظہار ہے کہ حضور خاتَم الانبیاء ہیں ، آپ کا ظہور جب ہی ہوگا جب حضرت عیسٰی علیہ السلام بھی تشریف لے جائیں ۔ اس کی تیرھویں آیت ہے” لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا ۔” اس آیت میں بتایا گیا کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر دینِ الٰہی کی تکمیل ہو جائے گی اور آپ سچائی کی راہ یعنی دینِ حق کو مکمّل کر دیں گے ۔ اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ان کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور یہ کلمہ کہ اپنی طرف سے نہ کہے گا جو کچھ سنے گا وہی کہے گا خاص ” مَایَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی اِنْ ھُوَ اِلَّاوَحْیٌ یُّوْحٰی” کا ترجمہ ہے اور یہ جملہ کہ تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا اس میں صاف بیان ہے کہ وہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غیبی علوم تعلیم فرمائیں گے جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا۔”یُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ ” اور ” مَاھُوَعَلَی الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍ ”۔

(ف299)

یعنی سخت تکلیفیں جیسے کہ توبہ میں اپنے آپ کو قتل کرنا اور جن اعضاء سے گناہ صادِر ہوں ان کو کاٹ ڈالنا ۔

(ف300)

یعنی احکامِ شاقّہ جیسے کہ بدن اور کپڑے کے جس مقام کو نَجاست لگے اس کو قینچی سے کاٹ ڈالنا اور غنیمتوں کو جلانا اور گناہوں کا مکانوں کے دروازوں پر ظاہر ہونا وغیرہ ۔

(ف301)

یعنی محمّدِ مصطفٰےصلی اللہ علیہ وسلم پر ۔

(ف302)

اس نُور سے قرآن شریف مراد ہے جس سے مومن کا دل روشن ہوتا ہے اور شک و جہالت کی تاریکیاں دور ہوتی ہیں اور علم و یقین کی ضیاء پھیلتی ہے ۔