دھوبی کا کُتا یا کَتا ؟

تحریر : نثار مصباحی

کچھ لوگ کَہ رہے ہیں کہ “دھوبی کا کُتّا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا”, اِس محاورے میں لفظ “کُتا”(مشہور جانور) نہیں, بلکہ یہ “کَتا” بمعنی ڈنڈا ہے جو دھوبی کے پاس ہوتا ہے.

ان حضرات کی یہ بات بےدلیل اور تحکم ہے, بلکہ خلافِ دلیل ہونے کی وجہ سے قابلِ رد ہے.

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اصل محاورے میں “کُتا” نہیں “گدہا” ہے. یعنی : “دھوبی کا گدہا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا”.

جب کہ یہ صحیح نہیں, بلکہ “کُتا” ہی صحیح ہے. کیوں کہ گدہا تو دھوبی کے لیے کافی کارآمد ہوتا ہے. دھوبی اسی پر کپڑے وغیرہ لاد کر دھوبی گھاٹ اور گھر تک لاتا اور لے جاتا ہے. جب کہ کُتا دھوبی کے کام کا نہیں ہوتا. وہ دھوبی کے پیچھے پیچھے گھاٹ پر جاتا ہے اور پیچھے پیچھے واپس ہوتا ہے.

اسی لیے یہ اردو محاورہ کُتے کے بارے میں وضع کیا گیا ہے. یہ محاورہ ایسے لوگوں کے بارے میں بولا جاتا ہے جو اِن کی اُن کی چاپلوسی میں لگے رہتے ہیں اور پھر نہ اِدھر کے ہوتے ہیں اور نہ اُدھر کے.

جو لوگ اسے “کَتا” بمعنی ڈنڈا لے رہے ہیں ان کی بات تین وجہوں سے درست نہیں:

1- دھوبی کا ڈنڈا گھاٹ پر اس کے کام آتا ہے, جس سے کپڑوں کو پیٹ کر اُن کا مَیل وہ اتارتا ہے.

اس لیے یہ محاورہ ڈنڈے کے بارے میں نہیں ہو سکتا.

2- یہ اردو کا محاورہ ہے. اور اردو میں “کَتا” کا معنی ڈنڈا نہیں ہوتا.

اس لیے اِس محاورے میں یہ لفظ “کَتا” نہیں ہو سکتا.

بلکہ یہ لفظ(کَتا) اِس معنے(یعنی ڈنڈے کے معنے) میں اردو میں کہیں مستعمل بھی نہیں ہے. و من ادعی فعلیہ البیان.

3- اہلِ زبان سے اس محاورے میں لفظِ “کُتّا” ہی ہمیشہ سنا گیا ہے. اور اہلِ زبان کا استعمال ہی حجت ہے.

لہذا اسے “کَتا” بمعنی ڈنڈا قرار دینا بےدلیل اور تحکم بلکہ خلافِ دلیل ہے, جو بہر حال قابلِ رد ہے.

نثارمصباحی

27ذیقعدہ1440ھ

29اگست 2019ء