پاکستان کو ایک نئی آگ میں جھونکنے کی تیاری مکمل

ایک لمبے عرصے سے ملک دشمن عناصر پاکستان کو آئے دن کسی نا کسی نئی آگ میں جھونکنے کی کوشش جاری رکھتے ہیں۔

کبھی یہ آگ مذہب اور مذہبی شخصیات کی توہین کر کے بھڑکائی جاتی ہے تو کبھی پی ٹی ایم جیسے قوم پرست ملک دشمن عناصر کو کھڑا کر کے ملک کو ہیجان میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ ہتھیار ہر بار الگ ہوتا ہے مگر ٹارگٹ ہمیشہ اسلام اور پاکستان ہوتے ہیں۔

اس بار فلم کا ہتھیار استعمال کرنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ جنوری 2020 میں زندگی تماشہ نامی فلم رلیز کی جارہی ہے جسم میں مذہبی شعائر کو نشانہ بنا کر ایک بار پھر ملک کو نئی کشمکش میں مبتلا کرنے کی تیاری ہے۔

اس فلم کے پہلے تعرف میں فلم ساز ثرمد کھوسٹ نے یہ بتایا کہ یہ فلم عید میلاد النبی ﷺ کے پس منظر پر بنائی جا رہی ہے اور اس فلم میں زمینی خدائوں کو ٹارگٹ کیا گیا ہے۔ فلم کے پس منظر اور یہ ابتدائی تعرفی الفاظ ہی اس فلم کے پیچھے چھپے اصل مقصد کو سمجھنے کے لئے کافی ہیں۔ مگر اس فلم کا ہر ہر پہلو نہایت غور طلب ہے۔

اس فلم کا ہدایت کا ثرمد کھوسٹ ہے جسکی یہ دوسری فلم ہے اور یہ اپنے کامیاب ڈرامہ سیریل ہم سفر کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ ثرمد کھوسٹ سعادت حسن منٹو کے خیالات کا پیروکار ہے اسی لئے اسکی پہلی فلم منٹو کی زندگی پر مبنی تھی جس میں منٹو کا کردار اس نے خود ادا کیا تھا۔

جو لوگ منٹو سے واقف نہیں انکے لئے ارض کئے دیتا ہوں کہ منٹو ایک لکھاری تھا جو آج بھی اپنے فحش مضامین کے لئے جانا جاتا ہے۔ اسکی دین بیزاری اور فحش گوئی کا یہ عالم تھا کہ اس دور کے مشہور ترین لبرل دین بیزار اور لیفٹ کے جھنڈا بردار فیض احمد فیض نے بھی کورٹ میں اسکے خلاف گواہی دی اور اسکے مضامین کو فحش قرار دیا ۔ یہاں تک کہ اس دور کے پروگریسیو رائٹرز نے بھی منٹو سے برات کا اعلان کیا۔ (پروگریسو رائٹرز مزہب بیزار لکھاریوں کا ایک ٹولہ تھا جو ہمیشہ مزہبی رسومات اور نظریات کو اپنی تحریروں میں نشانہ بنایا کرتے تھے) اب سوچیئے کہ جو خود مزہب بیزار تھے وہ بھی منٹو کو مزہب سے چڑ اور فحش گوئی کے معاملے میں انتہا پسند سمجھتے تھے۔ سوچئے سعادت حسن منٹو کے کیا نظریات کس قدر گمراہ کن رہے ہوں گے۔

ایسے شخص کے اس پیرو کار کی جانب سے مزہب پر بنائی جانے والی فلم یقیناً مزہب سے بد ترین انحراف کا نمونہ ہوگی۔

اس سلسلہ میں فلم کے ٹریلر نے مزید روشنی ڈال دی ہے۔ یہ فلم ایک نعت خواں محمد راحت خواجہ کے گرد گھومتی ہے جس کا کردار غیر معروف اداکار عارف حسن ادا کر رہا ہے۔ فلم میں اس نعت خواں کی ایک نازیباں ویڈیو وائرل ہوجاتی ہے اور اسکے بعد مزہبی طبقہ اسکے پیچھے لگ جاتا ہے یہاں تک کہ اس پر جھوٹا گستاخی کا الزام لگانے کی دھمکی بھی دیتا ہے۔ یعنی کہ اس فلم کو اس نظریہ کو پھیلانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے کہ گستاخی کا الزام لوگوں پر محض اپنے ذاتی مفاد یا مزہبی جنونیت کی بنیاد پر لگایا جاتا ہے جبکہ یہ حقیقت کے منافی ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ فیس بک یو ٹیوب وغیرہ ایسے مواد سے بھرے پڑے ہیں جن میں اسلام اور انبیائ کی بد ترین گستاخیاں کی گئی ہیں اور ان میں سے درجنوں پیج ایسے ہیں جن پر یہ گستاخیاں اردو زبان میں کی جاتی ہیں یعنی ایسا کرنے والوں کا تعلق پاکستان سے بھی ہوتا ہے اور ان میں سے کئی پاکستان میں ہی بیٹھ کر ایسا کرتے ہیں مگر تاثر یہ دیا جا تا ہے کہ گستاخی کے سارے الزام ہمیشہ جھوٹ ہو تے ہیں۔

ساتھ ہی اس فلم کے ٹریلر میں مولویوں کو بچہ باز کہا گیا ہے۔ اس میں غور طلب بات یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات نا صرف مدارس میں بلکہ اسکولوں میں کالجوں میں اور دیگر اداروں میں بھی ہوتے ہیں تو انکو بچہ باز کیوں نہیں کہا جاتا ہے۔ صرف مولیوں کو اس غلیظ حرکت سے جوڑنا شدید ترین بہتان ہے۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اس فلم سے متعلق انٹرویو دیتے ہوئے ہدایتکار نے خود اس بات کا اعتراف کیا کہ اسے ڈر تھا کہ یہ فلم سینسر بورڈ میں پھنس جائیگی یعنی کہ خود فلم ساز کے مطابق بھی اس فلم میں قابل اعتراض باتیں موجود ہیں۔

ایک اور سنگین مسئلہ یہ ہے کہ یہ فلم مزہبی پس منظر پر بنائی جا رہی ہے اور اس میں عید مولد کے دنوں کو بھی فلمایا گیا ہے۔ عید مولد یقیناً مسلمانوں کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے اور مسلمان اس تہوار سے شدید مزہبی لگائو بھی رکھتے ہیں۔ مختلف مسالک کی آرائ اپنی جگہ پر اسلام سے تعلق رکھنے والا ہر فرقہ اس دن اور مہینے کو خاص اہمیت دیتا ہے۔ ایسے حساس موضوع کو جب اس طرح کے مزہب بیزار لوگ چھیڑیں گے تو مزہبی ہلکوں میں بے چینی پھیلنا یقینی ہے۔

نا صرف اس فلم کا ہدایت کار مزہب بیزار نظریات رکھتا ہے بلکہ اس فلم کی رائٹر نرمل بانو کا ٹوئٹر اکائونٹ دیکھا جائے تو وہاں بھی قادیانی نواز، مزہب بیزار اور فوج مخالف ٹوئیٹس اور ری ٹوئیٹس موجود ہیں۔

اس طرح کے غیر محتاط لوگوں کی جانب سے اس طرح کے حساس موضوع پر فلم بنانا یقیناً خطرے کی گھنٹی ہے۔ نا صرف یہ مزہب کے خلاف سازش ہے بلکہ اس شازش کی جڑیں بہت گھری ہیں۔

یہ فلم ایک ایسے موقع پر رلیز کی جارہی ہے جب پاکستان اور خاص طور پر افواج پاکستان اور آئی ایس آئی پوری دنیا میں کشمیر کا مقدمہ لڑ رہے ہیں اور تاریخ میں پہلی بار کئی ممالک پاکستان کے ساتھ آ کر کھڑے ہوگئے ہیں۔ ایسے میں یہ فلم ملک میں موجود اتحاد کی فضائ کو ختم کرنے کی سازش کے سوائ اور کچھ نہیں۔

تمام اہل اسلام چاہے وہ کسی بھی فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں انھیں چاہئے کہ وہ اس فلم کو روکنے کی کوشش میں بھرپور ساتھ دیں۔ یاد رکھئے یہ کسی ایک مسلک کا معاملہ نہیں، اس طرح کے مزہب بیزار افراد کو اگر اس طرح کی فلمیں بنانے سے آج نہ روکا گیا تو کل کسی کے بھی نظریات محفوظ نہیں رہیں گے۔ اسلئے جس سے جس طرح ممکن ہو اس فلم کو روکنے کی کوشش کرے اور اس فلم کے خلاف آواز اٹھائے۔