عقلی نکتہ

ایک عورت نے مجھ سے سوال کیا کہ اسلام نے مردوں کو ایک ساتھ چار عورت نکاح میں رکھنے کی اجازت کیوں عطا کی؟ میں نے مزاقا مگر پتہ کی بات بتاتے ہوئے عرض کیا، اس لئے تا کہ اس کی پہلی بیوی اس کی عاشق زار بن جائے،اس نے کہا سوکن کی بات سے نفرتوں کا آغاز ہوتا ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ عورت کو عازق زار بنانے کے لئے ہے یہ میری سمجھ میں نہیں آتا آپ تھوڑی تفصیل سے ہمیں سمجھائیے ،میں نے عرض کی پہلی بیوی اس کی تمام ضروتوں کو پورا نہ کرے گی تو اسے دوسرے کی حاجت ہوگی اورمزید نکاح کی خواہش پیدا ہوگی،پہلی بیوی اتنی وفادار بن جائے کہ شوہر کو کسی کمی کا احساس نہیں ہوتا تو وہ بلاوجہ زحمتوں کا دروازہ نہ کھولے گا اور غیرکو ایک کے حقوق میں شریک نہ کرے گا ، تو ایک کی محبت کامل بنانے کے لئے اسلام نے ایک سے زیادہ کی اجازت عطا فرمائی،اور ہوتا بھی ایسا ہی ہے کہ پہلی عورت کوئے کمی نہیں رہنے دیتی تو کوئی دوسری کرنے کا ذکر بھی نہیں کرتا ہے،حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنھا جب تک حیات رہیں ہمارے آقا نے دوسرا نکاح نہ کیا،اور ان سے ہمارے آقا ﷺ کو اتنی زیادہ محبت تھی کے انکی وفات کے بعد ازواج کے سامنے انکا بارہا ذکر خیر کیا کرتے تھے،بعد میں ہمارے آقا کے ایک سے زائد نکاح میں بہت سی حکمتیں تھیں جسکا ذکر الگ سے کیا جائے گا

ایک سے زائد کی شرعی اجازت کوبیوی کی کامل محبت منع میں تبدیل نہیں کر سکتی،لیکن دو قالب میں ایک جان ہونے کے بعد کوئی بھی دوسرے کا دل دکھانا نہیں چاہتا ہے،اور کوئی غیر آنکھوں میں جچ بھی نہیں سکتا ہے،اور یہ بات غیر ممکن نہیں کہ عورت اسکا حصول نہیں کر سکتی بلکہ یہ عورت کے لئے نہایت آسان ہے،یہ مکمل اس کے اختیار میں ہے اسے چاہیئے کہ محبت کی ایسی فضا قائم کر دے کہ اس فصل بہار کے بعد خزاں کا وہاں گزر ہی نہ ہو سکے سکتی ہے

رخصت اسلام کی بدل سکتی نہیں ، وفا سے دل پر قبضہ جما کے دیکھو