علم کیا ہے؟

از۔ غلام نبی علیمی۔ المجمع الاسلامی مبارکپور۔ اعظم گڈھ۔

l علم وہ جوہر ہے جس سے معرفت الٰہی حاصل ہوتی ہے۔

l علم وہ شمعِ زیبا ہے جس سے فکر و نظر کے چراغ جلتے ہیں۔

l علم وہ بحرِ نور ہے جس سے عقل و دانش کے سوتے پھوٹتے ہیں۔

lعلم وہ زیور ہے جس سے ظاہر و باطن دونوں سنورتے ہیں۔

lعلم وہ سمندر ہے جس سے نوع بنوع گوہر آبدار برآمد ہوتے ہیں۔

l علم وہ لا زوال دولت ہے جو چوری سے محفوظ رہتی ہے اور با وجود خرچ کے کم نہیں ہوتی ہے۔

l علم وہ آبِ حیات ہے جس سے ذہن و فکر کی تطہیر ہوتی ہے۔

l علم وہ دریا ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں ہے۔

l علم وہ مشعل جس سے جہالتوں کی گھنگھور گھٹائیں کافور ہوتی ہیں اور صبح یقین کا اجالا پھیلتا ہے۔

l علم وہ اکسیر ہے جو مردہ دلوں میں روح پھونک دیتی ہے جیسے بارش کے قطرے سوکھی اور بنجر زمین پر پڑ کر اسے سر سبز و شاداب کر دیتے ہیں۔

l علم وہ روشنی ہے جو اندھے دلوں میں یقین کا اجالا پھیلاتی ہے ایسے ہی جیسے اندھیری راتوں کو چودھویں کا چاند جگمگادیتا ہے۔

l علم وہ نوری لباس ہے جس کو زیب تن کر کے انسان بلند مقام کا حامل اور عالی المنصب ہو جاتا ہے۔

l علم وہ چشمہ ہے جس سے اعمال کی کھیتیاں سر سبز و شاداب ہو جاتی ہیں۔

l علم وہ ستارہ ہے جو بھٹکے ہوئے افراد کے لئے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔

l علم وہ گلشن ہے جس کے پھولوں کی تازگی لا زوال ہے اور جس کی خوشبو مشام جاں کو تا حیات معطر رکھتی ہے۔

l علم وہ آلۂ تحقیق ہے جس سے انسان مظاہر فطرت کا دل چیر کر حقائق اشیاء کی کھوج لگاتا ہے۔ اور نئی نئی ایجادات کی راہیں ہموار کرتا ہے۔

l علم وہ ہتھیار ہے جو جہالت کی کاٹ کرتاہے۔

l علم، ہدایت کی وہ کرن ہے جو طالبان راہ کو جادئہ مستقیم عطا کرتی ہے۔

l علم وہ گلزار ہے جس میں اُخُوّت و محبت ، خیر خواہی اور خیر اندیشی کے پھول کھلتے ہیں۔

l علم وہ کیمیاء ہے جس سے انسان عرفان الٰہی حاصل کرتاہے اور بحر عشق رسالت میں غوطہ زن ہوتا ہے۔

lعلم وہ خزانہ ہے جس کا طالب دنیا و آخرت دونوں میں شادکام ہوتاہے۔

l علم وہ آفتاب ہے جس کے طلوع ہوتے ہی بدعات و ضلالات کی تاریکیاں دور ہو جاتی ہیں۔

l علم وہ میزانِ عدل ہے جس سے حلال و حرام کی تمیز ہوتی ہے۔

l علم وہ ہمدم ہے جو قبر میں بھی ساتھ رہتاہے۔

l علم وہ عطیۂ الٰہی ہے جسے پاکر انسان عظمتوں کا تاجدار بن جاتا ہے۔

l علم وہ جام ہے جس کو نوش کر کے انسان ادب کی زلفیں سنوارتا ہے۔ اور ادبی تخلیقات کے دریا بہاتا ہے۔

l علم وہ جذبِ دروںہے جو افکار و تخیلات کے نئے نئے ابواب واکرتا ہے۔

l علم وہ قیمتی ہار ہے جو خوش بختوں کے زیب گلو ہوتا ہے۔

l علم وہ پودا ہے جسے کاٹا نہیں جا سکتا۔

l علم وہ محرک ہے جو انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر اسے صحیح سمت سفر پر لگاتا ہے۔

l علم وہ زینہ ہے جس کے ذریعہ انسان بلندیوں کے آسمان پر چڑھتا ہے۔