ایک دوست نکاح کاارادہ رکھتے تھے ، مجھے کہنےلگے:

مختلف علما سے نکاح کے متعلق رہنمائی لے چکاہوں ، میری خواہش ہے آپ بھی دو چار قابلِ عمل نصیحتیں کر دیں ۔

میں نے عرض کی:

1: نکاح پر جتنا خرچہ آئے ، آپ نے خود کرنا ہے ۔

2: بیوی کے ملبوسات ، میک اپ کا سامان ، زیور اور فرنیچر وغیرہ کا سارا انتظام آپ کے ذمے داری ہے ، سسرال والوں پر اس سلسلے میں کوئی بوجھ نہیں ڈالنا ۔

اگر وہ اپنی بیٹی کو کچھ دینے کے لیے اصرار کریں تو اُنھیں کہنا ہے:

” مجھے بتائے بغیر ، اپنی بیٹی کو نقدی کی صورت میں جو چاہے دے دیں ؛ اور وہ بینک میں جمع کروا دے ، تاکہ بہ وقت ضرورت اس کے کام آسکے ۔ “

3: جو بارات لے کر جانی ہے اس میں صرف پندرہ بیس لوگ ہونے چاہییں ۔

اگر زیادہ ہوں تو اُن کے کھانے کےاخراجات بھی سسرال والوں کو آپ نے ادا کرنے ہیں ، اور اس کی کسی کو خبر نہیں ہونے دینی ۔

4: بیوی کو زندگی بھر نہیں جتلانا کہ میں نے شادی کا سارا خرچہ خود کیا تھا ۔

اگر خدا نخواستہ آپ کے درمیان جدائی بھی ہوجائے پھر بھی یہ بات زبان پر کیا ، دل میں بھی نہیں لانی ۔

جومرد بیوی پر کیے گئے اخراجات گِنتے اور جَتلاتے رہتے ہیں ، وہ کم ظرف ہوتے ہیں ۔

ساجد لکھنوی نے کہا تھا ؎

طلاق دے تو رہے ہو عَتاب و قَہر کے ساتھ

مِرا شَباب بھی لوٹا دو میرے مَہرکے ساتھ

میں اِس لیے یہاں آئی ہوں ، تُم جو رہتے ہو

مجھے ہے اِتنا تَعَلُّق تمھارے شہر کے ساتھ

✍لقمان شاہد

17-1-20ء