قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَاﰳ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ۪-فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ(۱۵۸)

تم فرماؤ اے لوگو میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں(ف۳۰۳) کہ آسمان وزمین کی بادشاہی اسی کو ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں جِلائے اور مارے(زندگی اورموت دے) تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول بے پڑھے غیب بتانے والے پر کہ اللہ اور اُس کی باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی غلامی کرو کہ تم راہ پاؤ

(ف303)

یہ آیت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے عُمومِ رسالت کی دلیل ہے کہ آپ تمام خَلق کے رسول ہیں اور کُل جہاں آپ کی اُمّت ۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے حضور فرماتے ہیں پانچ چیزیں مجھے ایسی عطا ہوئیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہ ملیں ۔ (۱) ہر نبی خاص قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا اور میں سُرخ و سیاہ کی طرف مبعوث فرمایا گیا ۔ (۲) میرے لئے غنیمتیں حلال کی گئیں اور مجھ سے پہلے کسی کے لئے نہیں ہوئی تھیں ۔ (۳) میرے لئے زمین پاک اور پاک کرنے والی (قابلِ تَیَمُّم) اور مسجد کی گئی جس کسی کو کہیں نماز کا وقت آئے وہیں پڑھ لے ۔ (۴) دشمن پر ایک ماہ کی مَسافت تک میرا رُعب ڈال کر میری مدد فرمائی گئی ۔ (۵) اور مجھے شفاعت عنایت کی گئی ۔ مسلم شریف کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ میں تمام خَلق کی طرف رسول بنایا گیا اور میرے ساتھ انبیاء ختم کئے گئے ۔

وَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰۤى اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ(۱۵۹)

اور موسیٰ کی قوم سے ایک گروہ ہے کہ حق کی راہ بتاتا اور اسی سے (ف۳۰۴) انصاف کرتا

(ف304)

یعنی حق سے ۔

وَ قَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًاؕ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗۤ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَۚ-فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًاؕ-قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْؕ-وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْهِمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰىؕ-كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْؕ-وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ(۱۶۰)

اور ہم نے انہیں بانٹ دیا بارہ قبیلے گروہ گروہ اور ہم نے وحی بھیجی موسیٰ کو جب اس سے اس کی قوم نے (ف۳۰۵) پانی مانگا کہ اس پتھر پر اپنا عصا مارو تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے (ف۳۰۶) ہر گروہ نے اپنا گھاٹ پہچان لیا اور ہم نے ان پر ابر سائبان کیا (ف۳۰۷) اور ان پرمن وسلویٰ اتارا کھاؤ ہماری دی ہوئی پاک چیزیں اور انہوں نے (ف۳۰۸) ہمارا کچھ نقصان نہ کیا لیکن اپنی ہی جانوں کا برا کرتے تھے

(ف305)

تِیہ میں ۔

(ف306)

ہر گروہ کے لئے ایک چشمہ ۔

(ف307)

تاکہ دھوپ سے امن میں رہیں ۔

(ف308)

ناشکری کر کے ۔

وَ اِذْ قِیْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ وَ كُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَ قُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِیْٓــٴٰـتِكُمْ ؕ-سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ(۱۶۱)

اور یاد کرو جب اُن (ف۳۰۹) سے فرمایا گیا اس شہر میں بسو(ف۳۱۰) اور اس میں جو چاہو کھاؤ اور کہو گناہ اُترے(اے اللہ ہمارے گناہ بخش دے)اور دروازے میں سجدہ کرتے داخل ہو ہم تمہارے گناہ بخش دیں گے عنقریب نیکوں کو زیادہ عطا فرمائیں گے

(ف309)

بنی اسرائیل ۔

(ف310)

یعنی بیت المقدس میں ۔

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ۠(۱۶۲)

تو ان میں کے ظالموں نے بات بدل دی اس کے خلاف جس کا انہیں حکم تھا (ف۳۱۱) تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا بدلہ ان کے ظلم کا(ف۳۱۲)

(ف311)

یعنی حکم تو تھا کہ حِطَّۃُ کہتے ہوئے دروازے میں داخل ہوں ، حطۃ توبہ اور استغفار کا کلمہ ہے لیکن وہ بجائے اس کے براہِ تمسخُر حنطۃ فی شعیرۃ کہتے ہوئے داخل ہوئے ۔

(ف312)

یعنی عذاب بھیجنے کا سبب ان کا ظلم اور حکمِ الٰہی کی مخالفت کرنا ہے ۔