یہ داؤں بھی الٹا پڑ گیا

غلام مصطفےٰ نعیمی

ایڈیٹر سواد اعظم دہلی

gmnaimi@gmail.com

سی اے اے اب حکومت کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔ تمام جتن کے بعد بھی عوامی مخالفت بڑھتی ہی جا رہی ہے ۔ حکومت نے لیپا پوتی کرنے کی کوشش تو بہت کی لیکن تمام تر کوششوں کے بعد بھی عوامی احتجاج پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ شمال مشرقی ریاستوں کو چھوڑ دیں تو ابتدا میں ایسا محسوس ہورہا تھا کہ صرف مسلمان ہی اس قانون کی مخالفت کر رہے ہیں لیکن پروفیسر رام چندر گُہا ، یوگیندر یادو، ہرش مندَر جیسے سیکولر افراد کی شمولیت سے caa مخالف تحریک کو تقویت ملی ، آہستہ آہستہ SC، ST اور دیگر اقوام کو بھی لگنے لگا کہ تبدیلی دستور کی آڑمیں حکومت اپنے مخصوص ایجنڈے کو نافذ کرنا چاہتی ہے اس لئے اب اس قانون کی مخالفت میں بلا کی شدت آگئی ہے۔

بزرگوں کا کہنا ہے کہ غلطی ہو جانا بڑی خطا نہیں ہے لیکن غلطی پر اڑ جانا بہت بڑی خطا ہے۔جمہوری ممالک میں کئی بار حکومتیں ایسے قوانین پاس کر دیتی ہیں جو ان کی نگاہ میں بھلے ہی کتنے اچھے ہوں لیکن عوامی مفاد کے خلاف ہوتے ہیں اس لیے جب عوام ایسے قوانین کی مخالفت کرتی ہے تو حکومت مظاہرین سے گفت وشنید کرکے قانون میں اصلاح کی کوشش کرتی ہے لیکن موجودہ حکومت لگاتار لیپاپوتی کی کوشش میں لگی ہوئی ہے اسی ضمن میں آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم “مسلم راشٹریہ منچ” کے ذریعے فریب دہی کی ایک اور کوشش کی گئی لیکن اس میں بھی حکومت کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

اصل معاملہ کیا تھا؟

سی اے اے کے خلاف ملک بھر میں چل رہے احتجاجات کو ختم کرانے کے لیے اس بارحکومت نے “مسلم راشٹریہ منچ” کو میدان میں اتارا۔منچ کے صدر صہیب قاسمی نے 16؍جنوری کو دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں “علما کانفرنس” کے ذریعے سی اے اے کی حمایت کرنے اور مسلمانوں کو سمجھانے(ورغلانے بھی پڑھ سکتے ہیں) کا بیڑا اٹھایا۔بڑے پیمانہ پر کانفرنس کی تشہیر کی گئی ، دعوی کیا گیا کہ اس کانفرنس میں مختلف مکاتب فکر کے 200؍علما شریک ہوں گے۔عوامی بھیڑ بڑھانے کے لیے کئی لوگوں کو دوسرے بہانوں سے دعوت بھی دی گئی تاکہ زیادہ سے زیادہ مجمع جمع ہوسکے ۔خیر جیسے تیسے پروگرام شروع ہوا۔جیسے ہی آر ایس ایس لیڈر اندریش کمار اسٹیج پر پہنچے تو دس بارہ لوگوں کے ایک گروپ نے caa مخالف پلے کارڈ ہاتھوں میں اٹھا کر نعرے بازی شروع کردی۔

آر ایس ایس لیڈران اس غیر متوقع رد عمل کے لیے تیار نہیں تھے اس لیے یکبارگی سب کے چہرے اتر گئے۔منچ کے صدر صہیب قاسمی کے چہرے کے بدلتے رنگ ان کی دلی کیفیت بیان کر رہے تھے، کہاں تو سوچا ہوگا کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد دکھا کر “آقائے نعمت” کو خوش کردیں گے لیکن داؤں الٹا پڑا ، شاباشی کی جگہ رسوائی کا طوق گلے پڑ گیا۔آٹھ دس منٹ تک نعرے بازی ہوتی رہی اس کے بعد کچھ “تندرست شرفا” نے دھکّا مکّی کرکے تمام مظاہرین کو ہال سے باہر نکال دیا،اس کے بعد پروگرام شروع ہوا.پروگرام کا مقصد علما کے ذریعے مسلمانوں کو سی اے اے کی حمایت پر آمادہ کرنا تھا لیکن غیر متوقع احتجاج نے منتظمین کو حواس باختہ کر دیا اس لیے اندریش کمار نے پھر کسی بھی مولوی کو بولنے کا موقع نہیں دیا اور خود ہی تقریر شروع کردی۔اپنی تقریر میں اندریش کمار نے دعوی کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم نے پرانی دہلی کا سروے کرایا ہے جس میں معلوم ہواکہ ۳۰۰۰؍ مزدوروں میں محض ۲۳۵؍مزدور ہی بھارتی ہیں باقی سب بنگلہ دیشی گھس پیٹھیے ہیں۔دہلی کے دیگر علاقوں میں بھی سروے کرایا تو معلوم ہوا کہ آدھی سے زیادہ نوکریوں پر بنگلہ دیشی دراندازوں نے قبضہ جما رکھا ہے ،ہم اسی کے خلاف ہیں۔ حب اندریش کمار سے اس دعوے کا سورس مانگا گیا تو انہوں نے نہایت رعونت سے جواب دیا کہ انہیں کسی کو یہ آنکڑے دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔

موصوف اپنے دعوے پر کوئی دستاویزی ثبوت تو پیش نہ کر پائے لیکن اتنا ضرور معلوم ہوگیا کہ حکومت اور آر ایس ایس کے پاس دلائل نہیں بس لایعنی باتیں ہیں جس کے ذریعے وہ caa اور nrc کو صحیح ٹھہرانے کی بیجا کوشش میں لگے ہیں۔

مزے کی بات یہ ہے کہ راشٹریہ منچ نے اشتہار میں ۲۰۰؍علما کی شرکت کا دعوی کیا تھا،لیکن ۲۰۰؍علما تو کیا جمع ہوتے، کانفرنس کے کل شرکا کی تعداد بھی ۱۰۰؍تک نہیں پہنچ پائی۔نوجیون پورٹل کی خبر کے مطابق کانفرنس میں شرکا کی کل تعداد محض 70؍ تھی جس میں قریب آدھی تعداد غیر مسلموں کی تھی۔بقیہ افراد میں کئی تو ایسے تھے جنہیں کسی اور پروگرام کی دعوت دے کر بلایا گیا تھا جب وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ آر ایس ایس کا پروگرام ہے،اس لیے کچھ لوگ پہنچ گئے تو شریک ہوگئے اور کچھ لوگ فوراً ہی واپس ہوگئے۔دہلی میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (NCPUL)کے جملہ سینٹرز کے ذمہ داران کو ڈائریکٹر کونسل سے ملاقات کے نام پر بلایا گیا تھا۔اوکھلا کی ایک بڑی مسجد کے امام صاحب کونسل کا پروگرام سمجھ کر کانسٹی ٹیوشن کلب پہنچ گئے۔پہنچنے پر حقیقت حال کا علم تو اسی آٹو سے گھر واپسی کرلی۔ پروگرام میں شریک ایک شخص کا کہنا تھا کہ وہ سی اے اے کی حمایت میں نہیں بلکہ ان لوگوں کی بات سننے آیا تھا کہ یہ لوگ اس قانون کی کیا خوبی بیان کرتے ہیں،میں اس قانون کی مخالفت کرتا ہوں اور اسٹیج پر بیٹھے ہوئے لوگ پیسے اور اقتدار کے بھوکے ہیں۔

زبان خلق نقارہ خدا ہوتی ہے، حکومت جتنی جلد ی اس آواز کو سن لے اتنا ہی ملک کے لیے اچھا ہے تاکہ عوامی اضطراب بھی ختم ہو اور ملک بھی کامیابی کے راستے پر آگے بڑھ سکے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ آگے بڑھ کر مظاہرین سے بات چیت کرے، قانون پر نظر ثانی کرکے عوامی اشکالات کا ازالہ کرے تاکہ ملک کی جمہوری اقدار سلامت رہیں۔

21؍ جمادی الاول 1441ھ؍

17؍دسمبر 2020ء بروز جمعہ