شیخ الاسلام والمسلمین حضرت علامہ حافظ سلطان محمود صاحب آستانہ عالیہ دریائے رحمت شریف 15 رمضان المبارک1915 کو تحصیل حضرو ضلع اٹک میں سلطان الفقرا خواجہ حافظ عبد الغفور نقشبندی کے ہاں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم اور حفظ قرآن اپنے والد گرامی کے پاس آٹھ سال کی عمر میں مکمل کر لیا اسقدر پختہ حافظ قرآن تھے کہ 92 سال تک مسلسل نماز تراویح میں قرآن پاک سنایا کمال کی بات یہ ہے کہ ایک رکعت میں بھی پورا قرآن سنایا درس نظامی کے لیے امام الصرف والنحو حضرت علامہ محمد حسین المعروف صرفی بابا کے پاس اور پھر ملتان میں مدت دراز تک مختلف اساتذہ کرام سے خوشہ چینی کرکے
علم تفسیر۔علم حدیث۔علم فقہ۔اصول فقہ۔علم میراث ۔علم معانی میں مہارت کاملہ حاصل کی فراغت حصول تعلیم کے بعد اپنے گاوں دریائے رحمت شریف میں اپنے والد گرامی کی مسند پر متمکن ہوئے اور تادم زیست وہی گزار دی آپ طلباء کو درسیات پڑھاتے اور ظہر کے بعد مطالعہ میں باقی وقت گزارتے علاقہ چھچھ کے نامور علماء کے ہاں اگر کوئی مشکل مسئلہ پیش آتا تو علماء آپ کی طرف رجوع کرتے آپ اپنے وقت کے عظیم مناظر ۔مدرس اور مصنف بھی تھے
آپ کے زہدوتقوی کا یہ عالم تھا کہ مسجد کے ساتھ حجرہ میں آرام فرما ہوتے نماز تہجد کے لیے باقاعدہ اذان اور جماعت کا اہتمام فرماتے تہجد کی جماعت میں 4سے 5 پارے تلاوت فرماتے سفر سے اس وجہ سے اجتناب فرماتے کہ میرے معمولات و عبادات میں خلل واقع ہو جائے گا ہر حال میں شریعت کی پاسداری اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر ان کا طرہ امتیاز تھا جب بھی علماء میں سے ان کے پاس کوئی حاضری دیتا تو وہ اس سے علمی بحث مباحثہ ضرور فرماتےاور اپنے ملاقات کرنے والے کو شریعت مطہرہ اور عقائد صحیحہ کی طر ف رغبت اور پختگی کی تاکید فرماتے
آج 19 جنوری 2020 بروز اتوار کو آسمان علم و معرفت کا یہ درخشندہ ستارا اپنے ہزاروں فیضیافتگان اور عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑ کر داعی اجل کو لبیک کہہ گئے کل بروز پیر آپ کا دن : 10 بجے آستانہ عالیہ دریائے رحمت شریف میں نماز جنازہ ادا ہو گی
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
تحریر محمد سعید قادری