فنا فی الشیخ، صاحب حضوری ۔۔۔ جن کی ساری زندگی ایک بھی “تکبیر اولی” فوت نہیں ہوئی 😯 حالانکہ اب آپ صاحب فراش ہیں 😢بلکہ 80، 90 کی دہائی میں ایک بار بہت سخت بیمار ہوئے اور ICU وارڈ میں داخل کیا گیا تو پابندیوں اور سختیوں کے باوجود ایک آدمی کو اندر بلا کے باجماعت نماز ادا کرتے رہے ۔۔۔
سیدی و مرشدی و مولائی، سلطان المشائخ، شیخ الاسلام و المسلمین خواجہ حافظ سلطان محمود صاحب ادام فیوضہ و متعنا الله بطول حياته! زیب سجادہ آستانہ عالیہ دریائے رحمت شریف، حضرو، اٹک ۔۔۔۔
جو ساری زندگی مسجد شریف میں اذان اور امامت کی ڈیوٹی خود کرتے رہے، جن کا ایک عمل بھی سنت رسول علی صاحبہا الصلوة والسلام کے خلاف نہیں رہا۔۔۔ مستحبات پر بھی سختی سے پابند رہے ۔۔۔
نیند میں بھی جن کی زبان پر قرآن پاک جاری رہتا ہے یا درود پاک ! کبھی جوش میں آئے تو دو رکعت میں قرآن پاک پڑھ دیا ۔۔۔
فرد وقت اور قطب الافلاک قبلہء عالم بابا جی دریوی رضی اللہ عنہ جیسی عظیم شخصیت کے “صاحبزادہ” ہونے کے باوجود آپ بے مثل مجوِّد ، متبحر عالم ،میدان شریعت کے شہسوار، رموز طریقت کے صاحب اسرار، منظور نظر مولا علی حیدر کرار ہیں ۔۔۔ بے مثال محقق اور با کمال مصنف ہیں ۔۔۔ آپ نے ساری زندگی عشق رسول کے جام لٹائے ۔۔۔ عقیدہ ء اہلسنت اور عمل بر شریعت محمد علی صاحبہا الصلوة والسلام میں ذرا بھر سستی بھی برداشت نہیں کرتے ۔۔۔
1990 کے لگ بھگ مولانا احمد رضا خان محدث و مجدد بریلوی علیہ الرحمہ کے ترجمہ قرآن کے محاسن پر مجلس رضا کراچی کیلئے عربی میں مقالہ لکھا جسے پہلا نمبر دیا گیا۔۔۔ اور آپ سے درخواست کی گئی کہ آپ کراچی تشریف لائیں تا کہ آپ کا تعارف کرایا جائے تو آپ نے فرمایا مجھے شہرت کی ضرورت نہیں ۔۔۔
جس شخص کی نگاہ آپ کے چہرہ مبارک پر پڑتی ہے ساختہ اس کی زبان پر اللہ کا ذکر جاری ہو جاتا ہے ۔۔۔ یقینا آپ
اذا رُؤُوْا ذُكِرَ الله کے مصداق ہیں ۔۔۔
دیکھنے والے کہا کرتے ہیں اللہ اللہ !
یاد آتا ہے خدا دیکھ کے صورت تیری !

اللہ تعالی آپ کی غلامی میں جینا اور مرنا نصیب فرمائے ۔۔۔
سگ در مرشد شہزاد گل قادری سلطانی