حسان حسیب الرحمن ( آف راولپنڈی) سے ان کی متنازع ویڈیو کلپ پر توبہ کا مطالبہ

محرر: ابوالحسین رضوی

چوں کہ اس متنازع کلپ میں آپ نے حاملین عقیدہ کفرِ ابو طالب (جس میں امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ بھی شامل ہیں) پر لعنت بھیجی ہے آپ کے الفاظ ہیں “. ملا جی! حضور کے کفیل کا نام ابو طالب ہے او تیرے یزید کی کوئی کفالت کرے وہ تو جنت میں ایسی قریب ہو اور مصطفی کا کفیل جہنم میں جائے گا لعنت ہو تمہارے عقیدے پر” استغفراللّٰہ معاذاللّٰہ اس گستاخی سے توبہ کیجیے.

آپ نے اس کلپ میں امیر معاویہ رضی اللّٰہ عنہ جو کہ جلیل القدر صحابی رسول ہیں پر طنز کیا ہے یہ کہہ کر کہ یزید کا کفیل جنتی ہو تو مصطفی کا کفیل جنتی کیوں نہیں یہ سیدھا سیدھا امیر معاویہ پر طعن ہے لہذا اس سے بھی توبہ کریں.

آپ نے کہا کہ اگر ابو طالب جنتی نہیں تو کوئی بھی جنتی نہیں یہ بات بھی درست نہیں ہے آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے امام اہل سنت فرماتے ہیں “آیات قرآنیہ و احادیث صحیحہ متوافرہ متظافرہ سے ابو طالب کا کفر پر مرنا اور دم واپس ایمان لانے سے انکار کرنا اور عاقبت کار اصحاب نار سے ہونا ایسے روشن ثبوت سے ثابت جس سے کسی سنی کو مجال دم زدن نہیں” لہذا اس بات سے بھی توبہ کریں.

آپ نے مولانا حسن رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ کے اشعار قائلین کفرِ ابی طالب پر چسپاں کیے جو کہ دراصل روافض کے لیے لکھے گئے ہیں یہ آپ کی طرف سے جمہور علما اہل سنت کی شدید توہین ہے لہذا اس قبیح عمل سے بھی توبہ کریں.

آپ نے یہ بھی کہا کہ آپ ابو طالب کے کلمہ پڑھنا کا ثبوت بعد میں پیش کریں گے تو بتائیے وہ ثبوت کہاں ہیں؟ نہیں تو اس جھوٹ سے بھی توبہ کریں.

آپ نے بہ طور استہزا کہا کہ “ملا جی ولیوں کے دروازہ پر کتا بیٹھے تو کتا جنت جائے اور جس نے ساری زندگی سرکار کا بوجھ اٹھایا تو وہ (یعنی ابو طالب) جنت میں نہیں جائے گا؟” چونکہ” ملاجی “کا مشار الیہ امام اہل سنت اعلی حضرت علیہ الرحمۃ اور آپ سمیت دیگر جمہور اساطین اہل سنت ہیں جو کفر ابو طالب کے قائل ہیں، قرار پاتے ہیں لہذا اس توہین سے بھی توبہ کریں.

آپ نے کہا کہ”میدان میں آگئے ہو تو کھل کر بات ہو میں تو علی کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو؟ اب لازم ہے ہم پر کہ سکوت کو توڑیں اور سینہ تان کر کہیں کہ ابو طالب نے جنت میں جانا نہیں تو کسی نے جنت میں جانا نہیں” چوں کہ آپ کےمبلغ علم کے مطابق کفرِ ابو طالب کا قائل ہونا مولا علی کے ساتھ نہ ہونا یعنی ان کا مخالف ہونا اور ایمان ابو طالب کا قائل ہونا مولا علی کے ساتھ ہونے کو مستلزم ہے یہ بھی خلاف واقعہ اور محتاج دلیل ہے اور ائمہ شان کی توہین ہے لہذا اس سے بھی توبہ لازم ہے.

آپ نے سہ بار شہنشاہ سخن کا مصرع لعنۃ اللّٰہ علیکم دشمنان اہل بیت پڑھا اور اس مصرع کا انطباق قائلین کفر ابو طالب پر کیا جوکہ جمہور ائمہ اہل سنت کی اشد توہین ہے لہذا اس سے بھی توبہ کریں.

آپ نے امام شافعی علیہ الرحمۃ کا قول کہ” اگر اہل بیت سے محبت رافضیت ہونا ہے تو میں بڑا رافضی ہوں” کو غیر محل میں پیش کیا آخر امام شافعی کے قول کا مسئلہ ایمان ابو طالب سے کیا تعلق ہے اس جرات پر بھی توبہ کریں.

آپ نے جوش خطابت میں کہا کہ” تمہارے فتووں سے اگر کچھ ہوتا تو آج ہم نظر نہ آتے “یہ جملہ بھی قابل گرفت ہے کیوں کہ اس میں علماء حق کے شرعی فتووں کو ہلکا جاننا پایا جارہا ہے جو کہ سوئے ادبی ہے لہذا اس سے بھی توبہ کریں.

آپ کے لیے مشورہ ہے کہ چوں کہ آپ مناظرے کےمیدان سے ناواقف ہیں لہذا ان متنازع اور خالص علمی مسائل میں طبع آزمائی نہ ہی فرمائیں تو بہت بہتر ہوگا.