تفہیم المسائل : مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمٰن

’’رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ‘‘ کا تخفیف کے انداز میں ذکرکرنا
سوال: حاکم علی نامی ایک نعت خواں کاپنجابی زبان میں پڑھا ہوایہ شعر سوشل میڈیا پر گشت کر رہاہے:
رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کہنے والے ہور کوئی ہونڑ گے
ساڈے لئی تے علیہ السلام مولا علی
بظاہرنعت پاک کے عنوان سے پڑھا گیا یہ شعرکیا بے ادبی کے زمرے میں نہیں آتا، اس کا شرعی حکم بیان کیجیے،(عمار یاسر، مانسہرہ)۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اَلْجَوَاب بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
نعتِ پاک کا میدان انتہائی حساس ہے،نظم میں نعت لکھنا، پڑھنا اور نثر میں شانِ مصطفی ﷺ بیان کرنا اہلِ علم کا کام ہے، جو دین کی نزاکتوں کو جانتے ہیں، عزت بخاری نے کہا ہے:
ادب گاہیست زیرِ آسماں از عرش نازک تر
نفَس گُم کردہ می آید جنید وبایزید ایں جا
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: سَمِعَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَقُولُ عَلَی المِنْبَر: :سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ: :لاَ تُطْرُوْنِی کَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَی ابْنَ مَرْیَمَ، فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُہٗ، فَقُوْلُوْا: عَبْدُ اللّٰہِ وَرَسُوْلُہٗ‘‘۔
ترجمہ:’’حضرت عبداللہ بن عباس نے حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا:نبی ﷺ نے فرمایا:’’ میری شان میں غلو نہ کرو جس طرح نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ بن مریم کی شان میں غلو کیا (اور انہیں اللہ کا بیٹا قرار دے دیا)،پس میں اللہ کا بندہ ہوں (خدا نہیں ہوں)،سو تم یہ کہو: اللہ کے بندے اور اس کے رسول، (بخاری: 3445)‘‘۔
الغرض اس میدان میں جو بھی افراط وتفریط کا شکار ہوگا، اس کا ایمان خطرے میں ہے، یہی احتیاط اہلِ بیت اَطہار ،صحابۂ کرام اور اولیائے کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی منقبت بیان کرنے میں ملحوظ رکھنی لازم ہے، آپ نے جس شعر کا حوالہ دیا ہے، اس میں شانِ باری تعالیٰ کی بے ادبی اور استہزاء لازم آتا ہے۔
اس سے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ حضرت علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے نامِ مبارک کے ساتھ ’’رضی اللہ عنہ‘‘ کہنا، ان کے شایانِ شان نہیں ہے، کوئی اور عقیدت سے عاری لوگ ہوں گے جو حضرت علی کے نام کے ساتھ یہ کلمات کہتے ہیں، بندہ یہ سن کر لرز جاتا ہے کہ یہ تو براہِ راست اللہ تعالیٰ کی شان پر طنز ہے، استہزاء ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں تین مقامات پر اپنے محبوب بندوں کو مقامِ مدح میں ’’رضی اللہ عنہم‘‘(اللہ اُن سے راضی ہوگیا) کے اعزاز سے نوازا ہے، اصحابِ حدیبیہ کے بارے میں فرمایا:
’’ لَقَدْ رَضِیَ اللہ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ إِذْ یُبَایِعُونَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوبِہِمْ فَأَنزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْہِمْ وَأَثَابَہُمْ فَتْحاً قَرِیْباً‘‘۔
ترجمہ:’’(اے رسولِ مکرم!)بے شک اللہ مومنوں سے اُس وقت راضی ہوگیا جب وہ (حدیبیہ کے مقام پر)درخت کے نیچے آپ کی بیعت کر رہے تھے، پس اللہ جانتا تھا جو ان کے دلوں میں ہے تواللہ نے ان کے دلوں پر طمانیت نازل فرمائی اوراُن کو عنقریب ملنے والی فتح کا انعام دیا،(الفتح:18)‘‘ ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ یقینا اس رضائے الٰہی کے اعزاز کا کامل واکمل مصداق ہیں، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی ہدایت پر ’’معاہدۂ حدیبیہ‘‘ لکھا تھا، اللہ تعالیٰ توفرماتا ہے کہ میرا اپنے ان محبوب بندوں سے معاملہ طے ہوگا، میں ان سے راضی اور یہ مجھ سے راضی ہیں، لیکن اس بدنصیب وگمراہ نعت خواں کے نزدیک اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ یہ اعزاز حضرت علی کے شایانِ شان نہیں ہے، بلکہ کمتر ہے، نَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ ذٰلِک۔ اہلبیتِ اطہار اور صحابہ کرام علیہم الرحمۃ والرضوان کے اسمائے مبارکہ کے ساتھ ’’رضی اللہ عنہم‘‘ پڑھنے والوں پر طَعن کیا جارہا ہے، مگر اس طعن کا نشانہ تو براہِ راست ذاتِ باری تعالیٰ بن رہی ہے، نیز فرمایا:
’’وَالسَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ وَالأَنصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوہُم بِإِحْسَانٍ رَّضِیَ اللہ عَنْہُمْ وَرَضُواْ عَنْہُ وَأَعَدَّ لَہُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ تَحْتَہَا الأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا أَبَداً ذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ‘‘۔
ترجمہ:’’مہاجرین اور انصار میں سے( ایمان لانے میں )سبقت کرنے (اور)پہل کرنے والے اوروہ لوگ جنہوں نے احسان کے ساتھ ان کی پیروی کی ، اللہ اُن سب سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے اوراللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں، جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ،وہ اُن میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑی کامیابی ہے، (التوبہ:100)‘‘۔
ذرا غور کیجیے!حضرت علی رضی اللہ عنہ اس اعزاز کا بھی مصداقِ اَتمّ واکمل ہیں ، کیونکہ اعلانِ نبوت کے بعد وہ سب سے پہلے ایمان لانے والے چار خوش نصیبوں میں سے ایک ہیں۔ پس علمائے کرام ،مشایخِ عظام اور دین دار لوگوں کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو کہیں بھی اسٹیج پر نہ بلائیں اور ان کے خلاف تحریک چلائیں۔ شانِ باری تعالیٰ میں اس بے ادبی کا حکم ان سب پربھی لگے گا جو ایسے لوگوں کو جلسوں میں بلاتے ہیں، ان پر نوٹ نچھاورکرتے ہیں، انہیں نذرانے دیتے ہیں اور ان کا اکرام کرتے ہیں اور وہ بھی ذمے دار ہیں جو ایسی خلافِ شرع حرکات پر ان کو روکتے اور ٹوکتے نہیں ہیں، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
’’عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: أَوْحَی اللہ عَزَّ وَجَلَّ إِلٰی جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ أَنِ اقْلِبْ مَدِینَۃَ کَذَا وَکَذَا بِاَہْلِہَا، قَالَ: فَقَالَ: یَا رَبِّ! إِنَّ فِیْہِمْ عَبْدَکَ فُلَانًا لَمْ یَعْصِکَ طَرْفَۃَ عَیْنٍ، قَالَ: فَقَالَ: اقْلِبْہَا عَلَیْہِمْ، فَإِنَّ وَجْہَہٗ لَمْ یَتَمَعَّرْ فِیَّ سَاعَۃً قَطُّ ‘‘۔
ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ جبریل علیہ السلام کو حکم فرماتا ہے : فلاں بستی کو اس کے رہنے والوں سمیت الٹ دو ، جبرئیل امین عرض کرتے ہیں :اے پروردگار! اس بستی میں تیرا فلاں (انتہائی متقی ) بندہ ہے ، جس نے کبھی پلک جھپکنے کی مقدار بھی تیری نافرمانی نہیں کی(اس کے بارے میں کیا حکم ہے)، اللہ تعالیٰ فرماتاہے: اُس سمیت اِس بستی کو الٹ دو ، کیونکہ میری ذات کی خاطر اس کا چہرہ کبھی بھی غضب ناک نہیں ہوا ، (شعب الایمان:7189)‘‘۔
حدیث مبارک کا مطلب یہ ہے کہ اس کے سامنے دینِ اسلام کی حدود پامال ہوتی رہیں ، مُنکَرات کا چلن عام ہوتا رہا، لیکن ان برائیوں کو روکنے کی عملی کاوش تو دور کی بات ہے ،حدودِ الٰہی اور دینی اقدار کی پامالی پراس کی جبین پرکبھی شکن بھی نہیں آئی ، صرف اپنی عبادت اور ذکرواذکار میں مشغول رہا اور اپنے حال میں مست رہا، برائیوں کو مٹانے کے حوالے سے اور معاشرے کی اصلاح کے حوالے سے ایک مسلمان پر جو ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں ان کو ادا کرنے سے قطعی طور پر غافل اور لاتعلق رہا۔
کچھ عرصے سے یہ ہورہا ہے کہ اگر کسی عالم نے ٹوکا، متنبہ کیا، تو وقتی طور پر یہ لوگ معاشی مجبوری کے تحت توبہ کرلیتے ہیں اور بعد کی مجالس میں پھر یہی حرکات کرتے ہیں، ایسے لوگ ’’زندیق‘‘ کہلاتے ہیں ۔
علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:
’’فَإِنَّ الزِّنْدِیقَ یُمَوِّہُ کُفْرَہُ وَیُرَوِّجُ عَقِیدَتَہُ الْفَاسِدَۃَ وَیُخْرِجُہَا فِی الصُّورَۃِ الصَّحِیحَۃِ ‘‘۔
ترجمہ: کیونکہ زندیق کفر کو ملمع کاری کر کے پیش کرتا ہے اور اپنے فاسد عقیدے کو دلکش رنگ میں پیش کر کے رائج کرتا ہے، (ردالمحتار علی الدر المختار، ج:4،ص:241)‘‘۔ بعض فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ زندیق کی توبہ قبول نہیں ہے، کیونکہ ان کے دل خشیتِ الٰہی سے محروم ہوجاتے ہیں، توبہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’إِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اللہ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُونَ السُّوَءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَأُوْلٰـئِکَ یَتُوبُ اللہ عَلَیْہِمْ وَکَانَ اللہ عَلِیْماً حَکِیْماًoوَلَیْسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّئَاتِ حَتّٰی إِذَا حَضَرَ أَحَدَہُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّیْ تُبْتُ الآنَ وَلاَ الَّذِیْنَ یَمُوتُونَ وَہُمْ کُفَّارٌ أُوْلٰئِکَ أَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَاباً أَلِیْماً‘‘۔
ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ نے صرف اُن کی توبہ کو قبول کرنا اپنے ذمۂ کرم پر لے رکھا ہے جو نادانی میں کوئی گناہ کر بیٹھیں ،پھر (احساس ہونے پر) جلدتوبہ کرلیں، پس اللہ ایسے ہی لوگوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور اللہ خوب جاننے والا حکمت والا ہے اور اُن لوگوں کی توبہ قبول نہیں جو گناہ کرتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب کسی کی موت سر پر آکھڑی ہو تو کہتا ہے:میں نے اب توبہ کی اور نہ اُن کی (توبہ قبول ہے)جن کی موت کفر پر واقع ہوئی ہو،اُن کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے، (النسآء:17-18)‘‘۔
چنانچہ ان پیشہ ور اوباش نعت خوانوں کی توبہ کے کلپ آپ کو ایک سے زائد جگہ سوشل میڈیا پر مل جائیں گے، لیکن یہ نفس پرست لوگ ہوتے ہیں اور اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے۔