عورتوں کو نصیحت کرنے کامقصد

عورتوں کے دماغ میں یہ سوال آسکتا ہے کہ یہ ساری نصیحتیں ہمیں کو کیوں کی جارہی ہیں؟اس طرح کی باتیں شوہروں سے کیوں نہیں ہوتیں؟ تو میں عرض کروں گا کہ شوہروں کو بھی آپ کے حقوق بتائے جائیں گے لیکن محبت کی بات میں آپ لوگوں کو تاکید اس لئے کی جاتی ہے کہ آپ لوگوں کے لئے ایک شوہر کے ہوتے ہوئے دوسرے کی شرعی گنجائش نہیں ہے، طلاق سے علیٰحدگی کے بعدہی یہ سوچا جا سکتا ہے، اور طلاق کی مانگ اتنی آسان نہیں اس لئے کے ایک سے جدا ہوکر دوسرے کا انتخاب دور حاضر میں عورتوں کے لئے بڑا مشکل کام ہے،پہلے رشتہ تلا ش وا لدین کے لئے درد سر ہے اور اس کے لئے ان کی نیند تک حرام ہوجاتی ہے تو طلاق کے بعد ان کے دل پر کیا گزر سکتی ہے؟طلاق کا تو تصور بھی عورت کے لئے زہر ہلاہل ہے، شادی پہلے وہ کنواری تھی اس کی ماحول میںکنوارا ہونے کی وجہ سے ایک بلند پایا مقام تھا،مگر ایک جگہ سے واپس آنے کے بعد اس کی وہ بلند شان ماحول میں داغدار ہو چکی ہے،اب پسند کی جگہ پانا لوہے کے چنے چبانے کے مرادف ہے ،نیا کپڑا ایک مرتبہ پہن لینے کے بعد کتنا ہی اچھا سہی وہ پورانہ ہی شمار ہوتا ہے،نئے کا دام الگ ہے اور پورانے کا دام الگ یہی مثا شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کی ہے اس لئے عورت کو اپنی لائف میں پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہے،رہ گیا مرد کا مسئلہ تو اس کے پاس طلاق کا اختیار بھی ہے اور ایک کو نکاح باقی رکھتے ہوئے دوسری سے نکاح کی اجازت بھی،اس لئے عورتوں کو نصیحت کی زیادہ ضروت ہے

حق سب کا ہے شریعت اسلام میں ، مانگ سے پہلے خود بنانا سیکھو