غضب رسول ﷺ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے بلا شبہ میں یہ چاہتا ہوں کہ لکڑیا ں جمع کی جائیں پھر نماز کے لئے اذان کا حکم دوں اور کسی کو نماز پڑھانے کے لئے مقرر کروں پھر ان لوگوں کے گھر جو نماز کیلئے نہیں آتے ،جاکر انکے سمیت ان کے گھرکو جلادوں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے اگر یہ لوگ جانتے کہ انہیں فربہ ہڈی جس پر گوشت کا خفیف حصہ لپٹا رہ گیا ہو یابکری کے اچھے دو کھر ملیں گے تو ضرور نماز عشاء میں حاضری دیتے۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو ! ذرا حدیث پاک کے الفاظ پر غور کریں کہ وہ رسول عربی ﷺ جو ساری کائنات کے لئے رحمت بن کر تشریف لائے ، جنہیں اپنی اُمّت سے اس قدر پیار ہے کہ امت کا مشقت میں پڑنا ان پر گراں گذرتا ہے لیکن وہ رحیم و کریم آقا قصداً جماعت چھوڑنے والے پر اس قدر ناراض ہوتے ہیں کہ تارک جماعت اور اس کے گھرکوآگ لگا دینے کی خواہش کا اظہارکرتے ہیں ۔ اللہ رب العزت د کی بارگا ہ میں دعاہے کہ ہمیں ہر اس کا م سے بچائے جس میں اس کی اور اس کے حبیب ﷺ کی ناراضگی کاشائبہ بھی پایاجاتا ہو۔آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم۔