:محشر کا پہلا سوال’

ء دینا حساب ہم کو ہر اک فعل و ساز کا

پہلا سوال حشر میں ہوگا نماز کا

ء لوگو، نبی کی آنکھوں کی ٹھنڈک نماز ہے

پھر کیوں نہ ہم بھی لُوٹیں یہ موقع نیاز کا

ء نعمت ہزاروں ملتی ہیں ہر اک نمازی کو

ملک عجم کا ہو، یا ہو ملک حجاز کا

ء معراج میں بلایا ، دیا اپنا قربِ خاص

رب نے نبی کو تحفہ دیا ہے نماز کا

ء روکا نہیں حسین کو تیغ یزید نے

سجدہ وہ کربلا میں ہوا امتیاز کا

ء سجدے کے نور سے ہوئی پیشانی تابناک

محشر کے روز راز کھلے گا نماز کا

ء آفت ہزاروں ٹلتی ہیں صدقے نماز کے

احسان ہم پہ کتناہے یہ کار ساز کا

ء حُبِّ نبی جو دل میں ہے تیرے تو پڑھ نماز

سچا عمل یہی ہے محبت، نیاز کا

ء آقا غلام ایک ہی صف میں کھڑے رہیں

محمود کے مساوی ہے رتبہ ایاز کا

ء مصروفؔ رہو ہمیشہ عبادت میں رب کی تم

مؤمن وہ سچا ہے ، جو ہے عادی نماز کا

از:- شاعر اسلام علاّمہ عبد الستار ہمدانی’’ مصروفؔ‘‘