أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ قَالَتۡ اُمَّةٌ مِّنۡهُمۡ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡمَاْ ‌ ۙ اۨللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًا‌ ؕ قَالُوۡا مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جب ان میں سے ایک گروہ نے (نصیحت کرنے والوں سے) کہا تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنے والا ہے یا عذاب شدید میں مبتلا کرنے والا ہے، انہوں نے کہا تاکہ ہم تمہارے رب کے سامنے حجت پوری کرسکیں اور شاید کہ یہ اللہ سے ڈریں

تفسیر:

164 ۔ 166: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور جب ان میں سے ایک گروہ نے (نصیحت کرنے والوں سے) کہا تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنے والا ہے یا عذاب شدید میں مبتلا کرنے والا ہے، انہوں نے کہا تاکہ ہم تمہارے رب کے سامنے حجت پوری کرسکیں اور شاید کہ یہ اللہ سے ڈریں “۔ اور جب انہوں نے ان باتوں کو بھلا دیا جن کی ان کو نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ان لوگوں کو نجات دے دی جو برائی سے روکتے تھے اور ظالموں کو بہت برے عذاب میں جکڑلیا کیوں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔ 

تبلیغ کا فرض کفایہ ہونا 

اس آیت کی تفسیر میں صحیح قول یہ ہے کہ اس شہر کے رہنے والے تین گروہوں پر منقسم تھے، ایک فریق وہ تھا جو ہفتہ کے دن ان مچھلیوں کا شکار کرکے اللہ تعالیٰ کی کھلی کھلی نافرمانی کرتا تھا، دوسرا فریق وہ تھا جو ان کو اس نافرمانی سے منع کرتا تاھ اور ڈانٹتا تھا، اور تیسرا فریق وہ تھا جو خاموش رہتا تھا، نافرمانی کرتا تھا اور نہ نافرمانی سے روکتا تھا، اور اس فریق نے منع کرنے والوں سے کہا تم ان کو کیوں منع کرتے ہو جبکہ تمہیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک کرنے والا ہے یا عذاب میں مبتلا کرنے والا ہے، یعنی یہ لوگ گناہوں پر اصرار کرکے اب ایسی حد پر پہنچ چکے ہیں کہ اب ان کا گناہوں سے پلٹنا بہت مشکل ہے، اس لیے اب ان پر وعظ اور نصیحت بےاثر ہے، لہذا اب ان کو نصیحت نہیں کرنی چاہیے۔

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

عکرمہ بیان ہیں کہ ایک دن میں حضرت ابن عباس (رض) کے پاس گیا تو وہ رو رہے تھے اور ان کی گود میں قرآن مجید تھا، میں نے کہا اے ابن عباس ! میں آپ پر قربان ہوں، آپ کیوں رو رہے ہیں، حضرت ابن عباس نے سورة الاعراف کی ان آیتوں کی تلاوت کی اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجرمین کو سزا دی اور ان کو مسخ کرکے بندر بنادیا اور جو فریق ان کو برائی سے منع کرتا تھا اس کا ذکر فرمایا کہ اس کو نجات دے دی اور تیسرا فریق جو خاموش رہا تھا اور ان کو منع نہیں کرتا تھا اس کا ذکر نہیں فرمایا آیا ان کی نجات ہوئی یا نہیں۔ اور ہم بھی کئی کاموں کو برا سمجھتے ہیں لیکن منع نہیں کرتے اللہ جانے ہماری نجات ہوگی یا نہیں، عکرمہ کہتے ہیں کہ میں آپ پر قربان ہوں، کیا اس فریق نے ان کاموں کو برا نہیں سمجھا تھا جب کہ اس نے یہ کہا کہ تم ان کو کیونکر منع کرتے ہو جب کہ تمہیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک کرنے والا ہے یا عذاب میں مبتلا کرنے والا ہے، حضرت ابن عباس میرے اس جواب سے خوش ہوئے اور مجھے دو دبیز چادریں دینے کا حکم دیا۔ (جامع البیان جز 9، س 127 ۔ 128، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

امام رازی نے فرمایا کہ برائی سے روکنا فرض علی الکفایہ ہے اور جب بعض لوگوں نے بنو اسرائیل کو اس برائی سے روک کر یہ فرض ادا کردیا تو باقی لوگوں سے یہ فرض ساقط ہوگیا، اس لیے اس تیسرے فریق پر عذاب نازل نہیں ہوا۔ (تفسیر کبیرج 5، ص 393، مبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، 1415 ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” پھر جب انہوں نے اس چیز سے سرکشی کی جس سے ان کو روکا گیا تھا تو ہم نے ان سے کہا تم ذلیل بندر بن جاؤ “

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا صبح کو جب وہ نافرمان لوگ اٹھے تو وہ ذلیل بندر بن چکے تھے، وہ تین دن تک اسی کیفیت پر برقرار رہے، لوگوں نے ان کو دیکھا پھر وہ ہلاک ہوگئے۔ حضرت ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ ان میں سے جوان بندر بن گئے تھے اور بوڑھے خنزیر بن گئے تھے لیکن یہ قول اس آیت کے خلاف ہے، اس میں بھی اختلاف ہے کہ جن لوگوں کو مسخ کرکے بندر بنادیا گیا تھا، موجودہ بندر ان ہی کی نسل سے ہیں یا وہ اسی وقت ہلاک ہوگئے تھے اور ان کی نسل منقطع ہوگئی تھی، ان تمام امور کی تفصیل البقرہ :65 میں گزر چکی ہے وہاں ملاحظہ فرمائیں، ان آیات سے حسب ذیل احکام مستنبط ہوتے ہیں :

بعض احکام کا استنباط 

1 ۔ ایسے حیلے کرنا ممنوع ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کے احکام بالکلیہ معطل ہوجائیں، اور اللہ تعالیٰ کی ممانعت کا کوئی محل باقی نہ رہے، البتہ کسی آدمی کی شخصی ضرورت کے لیے کوئی ایسی خفیہ تدبیر کرنا جس سے وہ ممنوع کام کے ارتکاب سے بچ جائے یہ انفرادی طور پر جائز ہے لیکن اس کو قاعدہ کلیہ بنا لینا جائز نہیں، جیسے لوگ سود کھانے کے لیے بیع عینہ کا حیلہ کریں یا دکان کی پگڑی لینے کے لیے اس دکان یا مکان میں ایک میز یا الماری رکھ کر اس کے عوض پگڑی کی رقم لے لیں۔

2 ۔ ان آیات میں سد ذرائع کی اصل ہے یعنی جو کام کسی حرام کا ذریعہ ہو وہ بھی ممنوع ہے، ان کا سمندر سے نالیاں کھود کر حوضوں کی طرف لانا مچھلیوں کے شکار کا ذریعہ تھا، اس لیے اس کو بھی منع کردیا۔

3 ۔ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض ہے، لیکن یہ فرض کفایہ ہے۔

4 ۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دنیا اور آخرت کے احوال آسان کردیتا ہے، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو آزمائش میں ڈال دیتا ہے جیسے ان اسرائیلیوں کو آزمائش میں مبتلا کیا کہ ہفتہ کے دن مچھلیاں بہت آتی تھیں۔ 

5 ۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب اچانک نہیں آتا بلکہ تدریجاً آتا ہے جیسے بنو اسرائیل پر مختلف انواع کے عذاب آتے رہے، پھر ان کو بندر بنایا گیا، پھر ان سے حکومت چھینی گئی اور اصل عذاب آخرت میں آئے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 164