وَ سْــٴَـلْهُمْ عَنِ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِۘ-اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْهِمْ حِیْتَانُهُمْ یَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّ یَوْمَ لَا یَسْبِتُوْنَۙ-لَا تَاْتِیْهِمْۚۛ-كَذٰلِكَۚۛ-نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ(۱۶۳)

اور ان سے حال پوچھو اس بستی کا کہ دریا کنارے تھی (ف۳۱۳) جب وہ ہفتے کے بارے میں حد سے بڑھتے (ف۳۱۴) جب ہفتے کے دن ان کی مچھلیاں پانی پر تیرتی ان کے سامنے آتیں اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا نہ آتیں اس طرح ہم انہیں آزماتے تھے ان کی بے حکمی کے سبب

(ف313)

حضرت نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خِطاب ہے کہ آپ اپنے قریب رہنے والے یہود سے تَو بِیخاً اس بستی والوں کا حال دریافت فرمائیں ۔ مقصود اس سوال سے یہ تھا کہ کُفّار پر ظاہر کر دیا جائے کہ کُفر و معصیت ان کا قدیمی دستور ہے ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت اورحضور کے معجزات کا انکار کرنا یہ ان کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے ان کے پہلے بھی کُفر پر مُصِر رہے ہیں ، اس کے بعد ان کے اَسلاف کا حال بیان فرمایا کہ وہ حکمِ الٰہی کی مخالفت کے سبب بندروں اور سُوروں کی شکل میں مسخ کر دیئے گئے ۔ اس بستی میں اختلاف ہے کہ وہ کون تھی ۔ حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وہ ایک قَریہ مِصر و مدینہ کے درمیان ہے ، ایک قول ہے کہ مدین و طور کے درمیان ، زُہری نے کہا کہ وہ قَریہ طبریہ شام ہے اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی ایک روایت میں ہے کہ وہ مَدْیَنْ ہے ، بعض نے کہا اِیلہ ہے واللہ تعالٰی اعلم ۔

(ف314)

کہ باوجود ممانعت کے ہفتے کے روز شکار کرتے ۔ اس بستی کے لوگ تین گروہ میں منقسم ہوگئے تھے ، ایک تہائی ایسے لوگ تھے جو شکار سے باز رہے اور شکار کرنے والوں کو منع کرتے تھے اور ایک تہائی خاموش تھے دوسروں کو منع نہ کرتے تھے اور منع کرنے والوں سے کہتے تھے ایسی قوم کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے اور ایک گروہ وہ خطا کار لوگ تھے جنہوں نے حکمِ الٰہی کی مخالفت کی اور شکار کیا اور کھایا اور بیچا اور جب وہ اس معصیّت سے باز نہ آئے تو منع کرنے والے گروہ نے کہا کہ ہم تمہارے ساتھ بُود و باش نہ رکھیں گے اور گاؤں کو تقسیم کر کے درمیان میں ایک دیوار کھینچ دی ، منع کرنے والوں کا ایک دروازہ الگ تھا جس سے آتے جاتے تھے ۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے خطا کاروں پر لعنت کی ، ایک روز منع کرنے والوں نے دیکھا کہ خطاکاروں میں سے کوئی نہیں نکلا تو انہوں نے خیال کیا کہ شاید آج شراب کے نشہ میں مدہوش ہوگئے ہوں گے انہیں دیکھنے کے لئے دیوار پر چڑھے تو دیکھا کہ وہ بندروں کی صورتوں میں مسخ ہوگئے تھے اب یہ لوگ دروازہ کھول کر داخل ہوئے تو وہ بندر اپنے رشتہ داروں کو پہچانتے تھے اور ان کے پاس آ کر ان کے کپڑے سونگھتے تھے اور یہ لوگ ان بندر ہو جانے والوں کو نہیں پہچانتے تھے ، ان لوگوں نے ان سے کہا کیا ہم لوگوں نے تم سے منع نہیں کیا تھا انہوں نے سَر کے اشارے سے کہا ہاں اور وہ سب ہلاک ہوگئے اور منع کرنے والے سلامت رہے ۔

وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَاۙﰳ اللّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًاؕ-قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ(۱۶۴)

اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کیوں نصیحت کرتے ہو ان لوگوں کو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا انہیں سخت عذاب دینے والا بولے تمہارے رب کے حضور معذرت کو (ف۳۱۵) اور شاید انہیں ڈر ہو(ف۳۱۶)

(ف315)

تاکہ ہم پر نہی عنِ المنکَر ترک کرنے کا اِلزام نہ رہے ۔

(ف316)

اور وہ نصیحت سے نفع اُٹھا سکیں ۔

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَىٕیْسٍۭ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ (۱۶۵)

پھر جب وہ بھلا بیٹھے جو نصیحت انہیں ہوئی تھی ہم نے بچالیے وہ جوبرائی سے منع کرتے تھے اور ظالموں کو بُرے عذاب میں پکڑا بدلہ ان کی نافرمانی کا

فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِىٕیْنَ(۱۶۶)

پھر جب انہوں نے ممانعت کے حکم سے سرکشی کی ہم نے اُن سے فرمایا ہوجاؤ بندر دُتْکارے(دُھتکارے ) ہوئے(ف۳۱۷)

(ف317)

وہ بندر ہوگئے اور تین روز اسی حال میں مبتلا رہ کر ہلاک ہوگئے ۔

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْهِمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ یَّسُوْمُهُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِؕ-اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ ۚۖ-وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۶۷)

اور جب تمہارے رب نے حکم سنادیا کہ ضرور قیامت کے دن تک ان (ف۳۱۸) پر ایسے کو بھیجتا رہوں گا جو انہیں بری مار چکھائے(ف۳۱۹) بے شک تمہارا رب ضرور جلد عذاب والا ہے(ف۳۲۰) اور بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے(ف۳۲۱)

(ف318)

یہود ۔

(ف319)

چنانچہ ان پر اللہ تعالٰی نے بختِ نصر اور سنجاریب اور شاہانِ روم کو بھیجا جنہوں نے انہیں سخت ایذائیں اور تکلیفیں دیں اور قیامت تک کے لئے ان پر جِزیہ اور ذِلّت لازم ہوئی ۔

(ف320)

انکے لئے جو کُفر پر قائم رہیں ۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ ان پر عذاب مُستَمِر رہے گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔

(ف321)

ان کو جو اللہ کی اطاعت کریں اورا یمان لائیں ۔

وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًاۚ-مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ٘-وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(۱۶۸)

اور اُنہیں ہم نے زمین میں متفرق کردیا گروہ گروہ ان میں کچھ نیک ہیں (ف۳۲۲) اور کچھ اور طرح کے (ف۳۲۳) اور ہم نے انہیں بھلائیوں اور برائیوں سے آزمایا کہ کہیں وہ رجوع لائیں (ف۳۲۴)

(ف322)

جو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ا یمان لائے اور دین پر ثابت رہے ۔

(ف323)

جنہوں نے نافرمانی کی اور جنہوں نے کُفر کیا اور دین کو بدلا اور مُتغیَّر کیا ۔

(ف324)

بھلائیوں سے نعمت و راحت اور بُرائیوں سے شدّت و تکلیف مراد ہے ۔

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَاۚ-وَ اِنْ یَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ یَاْخُذُوْهُؕ-اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِّیْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْهِؕ-وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(۱۶۹)

پھر اُن کی جگہ ان کے بعد وہ (ف۳۲۵) ناخلف آئے کہ کتاب کے وارث ہوئے(ف۳۲۶) اس دنیا کا مال لیتے ہیں (ف۳۲۷) اور کہتے اب ہماری بخشش ہوگی (ف۳۲۸) اور اگر ویسا ہی مال ان کے پا س اور آئے تو لے لیں(ف۳۲۹) کیا ان پر کتاب میں عہد نہ لیا گیا کہ اللہ کی طرف نسبت نہ کریں مگر حق اور انہوں نے اُسے پڑھا (ف۳۳۰) اور بے شک پچھلا گھر(آخرت) بہتر ہے پرہیزگاروں کو (ف۳۳۱) تو کیا تمہیں عقل نہیں

(ف325)

جن کی دو قسمیں بیان فرمائی گئیں ۔

(ف326)

یعنی توریت کے جو انہوں نے اپنے اَسلاف سے پائی اور اس کے اوامِر و نواہی اور تحلیل و تحریم وغیرہ مضامین پر مطّلع ہوئے ۔ مدارک میں ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھے ان کی حالت یہ ہے کہ ۔

(ف327)

بطورِ رشوت کے احکام کی تبدیل اور کلام کی تغیِیر پر اور و ہ جانتے بھی ہیں کہ یہ حرام ہے لیکن پھر بھی اس گناہِ عظیم پر مُصِر ہیں ۔

(ف328)

اور ان گناہوں پر ہم سے کچھ مؤاخَذہ نہ ہوگا ۔

(ف329)

اور آئیندہ بھی گناہ کرتے چلے جائیں ۔ سدی نے کہا کہ بنی اسرائیل میں کوئی قاضی ایسا نہ ہوتا تھا جو رشوت نہ لے جب اس سے کہا جاتا تھا کہ تم رشوت لیتے ہو تو کہتا تھا کہ یہ گناہ بخش دیا جائے گا ، اس کے زمانہ میں دوسرے اس پر طعن کرتے تھے لیکن جب وہ مر جاتا یا معزول کر دیا جاتا اور وہی طعن کرنے والے اس کی جگہ حاکِم و قاضی ہوتے تو وہ بھی اسی طرح رشوت لیتے ۔

(ف330)

لیکن باوجود اس کے انہوں نے اس کے خلاف کیا ۔ توریت میں گناہ پر اصرار کرنے والے کے لئے مغفرت کا وعدہ نہ تھا تو ان کا گناہ کئے جانا ، توبہ نہ کرنا اور اس پر یہ کہنا کہ ہم سے مؤاخذہ نہ ہوگا یہ اللہ پر افترا ہے ۔

(ف331)

جو اللہ کے عذاب سے ڈریں اور رشوت و حرام سے بچیں اور اس کی فرمانبرداری کریں ۔

وَ الَّذِیْنَ یُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَؕ-اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ(۱۷۰)

اور و ہ جو کتاب کو مضبوط تھامتے ہیں(ف۳۳۲) اور انہوں نے نماز قائم رکھی ہم نیکوں کا نیگ نہیں گنواتے

(ف332)

اور اس کے مطابق عمل کرتے ہیں اور اس کے تمام احکام کو مانتے ہیں اور اس میں تغیِیر و تبدیل روا نہیں رکھتے ۔

شانِ نُزول : یہ آیت اہلِ کتاب میں سے حضرت عبداللہ بن سلام وغیرہ ایسے اصحاب کے حق میں نازِل ہوئی جنہوں نے پہلی کتاب کا اِتّباع کیا اور اس کی تحریف نہ کی ، اس کے مضامین کو نہ چھپایا اور اس کتاب کے اِتّباع کی بدولت انہیں قرآنِ پاک پر ا یمان نصیب ہوا ۔ (خازن و مدارک)

وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْۚ-خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۠(۱۷۱)

اور جب ہم نے پہاڑ ان پر اٹھایا گویا وہ سائبان ہے اور سمجھے کہ وہ ان پر گر پڑے گا(ف۳۳۳) لوجو ہم نے تمہیں دیا زور سے (ف۳۳۴) اور یاد کرو جو اس میں ہے کہ کہیں تم پرہیزگار ہو

(ف333)

جب بنی اسرائیل نے تکالیفِ شاقّہ کی وجہ سے احکامِ توریت کو قبول کرنے سے انکار کیا تو حضرت جبریل نے بحکمِ الٰہی ایک پہاڑ جس کی مقدار ان کے لشکر کے برابر ایک فرسنگ طویل ، ایک فرسنگ عریض تھی اُٹھا کر سائبان کی طرح ان کے سرداروں کے قریب کر دیا اور ان سے کہا گیا کہ احکامِ توریت قبول کرو ورنہ یہ تم پر گرا دیا جائے گا ۔ پہاڑ کو سروں پر دیکھ کر سب کے سب سجدے میں کر گر گئے مگر اس طرح کے بایاں رخسارہ و ابرو تو انہوں نے سجدے میں رکھ دی ا ور داہنی آنکھ سے پہاڑ کو دیکھتے رہے کہ کہیں گر نہ پڑے چنانچہ اب تک یہودیوں کے سجدے کی یہی شان ہے ۔

(ف334)

عزم و کوشش سے ۔