احتجاجی مظاہرے: کہاں سے کہاں تک پہنچے

غلام مصطفیٰ نعیمی

ایڈیٹر سواد اعظم دہلی

روشن مستقبل دہلی

gmnaimi@gmail.com

انسانی زندگی میں فیصلوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔فیصلہ انفرادی ہو یا قومی، بہت سوچ سمجھ کر لیا جانا چاہیے۔کئی بار انفرادی فیصلوں کے نقصانات پر ایک حد تک قابو پایا جاسکتا ہے لیکن قومی فیصلوں پر مزید احتیاط وتدبر کی ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ کبھی کبھی ایک معمولی سی غلطی کا خمیازہ قومیں صدیوں تک بھگتتی رہتی ہیں.برصغیر کے مسلمانوں کے عروج وزوال کی تاریخ میں دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ ان کے غلط فیصلوں کا بھی بڑا اہم کردار رہا ہے۔کسی بھی چیز کا فیصلہ آسان نہیں ہوتا،لیکن اسی موقع پر انسان کی ذہانت اور دوراندیشی کا امتحان ہوتا ہے۔فیصلےکے وقت معاملے کے دونوں پہلوؤں پر غورکرنا،مستقبل میں ہونے والے نفع و نقصان پر توجہ دینا،ماضی میں ایسے امور پر لیے گئے فیصلوں کے نتائج سے سبق لینا بے حد ضروری ہوتا ہے۔

ان دنوں ہمارے ملک میں شہریت ترمیمی قانون پر ہنگامہ برپا ہے۔ملک کے مختلف حصوں میں اس قانون کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہرے عوامی بے چینی بیان کرتے ہیں۔حکومت کے حاشیہ خیال میں بھی یہ بات نہ ہوگی کہ یہ احتجاج اتنا بڑا اور ملک کے تمام طبقات کو یکجا کرنے والا ثابت ہوگا۔ لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک کے عوام اس قانون سے اظہار بیزاری کرتے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہی احتجاجی محاذ اتنا بڑا ہوگیا کہ حکمراں طبقے میں سراسیمگی پھیل گئی ہے۔ان احتجاجات کا سب سے خوش آئند پہلو یہی ہے کہ اس محاذ پر مسلمان تنہا نہیں ہیں بلکہ دیگر برادران وطن بھی شانہ بشانہ ہیں۔آپ شاہین باغ کو ہی دیکھ لیں یہاں ۳۸؍ دن سے چل رہے احتجاج میں مظاہرین کے لیے جہاں مقامی لوگوں نے لنگر کا انتظام کیا ہوا ہے ،وہیں سِکھ قوم اورہریانہ کی 36؍ برادریوں کی مشترکہ کمیٹی کی جانب سے بھی مظاہرین کے لیے کھانے کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ملک کے دیگر حصوں میں بھی اس قانون کے خلاف مسلمانوں کے ساتھ انصاف پسند برادران وطن برابر شریک ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے حکومت کے پیشانی پر بل پڑ گئے ہیں۔

کچھ لوگ حالیہ احتجاجی مظاہروں کو انگریز مخالف مظاہروں سے بھی تشبیہ دے رہے ہیں جب انگریزی حکومت کے خلاف بھارتی عوام نے اسی اتحاد ویکجہتی کے ساتھ آواز بلند کی تھی۔تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو ایسا ہی نظارہ نگاہو ں کے سامنے گھوم جاتا ہے ۔لیکن تاریخ میں کئی ایسے امور بھی پسِ تحریر پوشیدہ ہیں جن کے نتائج نے امیدوں کے برخلاف نقصان بھی پہنچایا۔اس لیے جہاں تاریخ کے ان پہلوؤں کو اپنایا جائے جو دو قوموں کے مابین ملکی وسیاسی اتحاد کو مضبوط کریں وہیں ان چیزوں سے پرہیز بھی کریں جن کی وجہ سے کچھ چیزیں باعث نزاع ہوئیں اور اس کا خمیازہ عرصہ دراز تک اٹھانا پڑا۔

جذبات کا طوفان اس قدر شدید ہوتا ہے کہ انسان فیصلہ لیتے وقت کئی باریک چیزوں کو نظر انداز کر دیتا ہے، یا اس کے نقصان کا اندازہ نہیں کر پاتا۔ایسے مواقع پر اعصاب پر قابو رکھنا بے حد ضروری ہوتا ہے خصوصاً ان افراد کو جن کے کندھوں پر قومی وملی فیصلوں کی ذمہ داری ہے۔ برٹش دور کی طرح ان دنوں بھی جذبات کے تلاطم کا دور ہے۔اتحاد ویگانگت کے نعروں کے درمیان دل کی دھڑکن اس قدر تیز ہے کہ قابو پانا مشکل ہے،مگر یہی وہ مرحلہ ہے جب دھڑکتے دل کی رفتار پر قابو کیا جائے اورحقائق کی مکمل معلومات کے ساتھ چیزوں کو بڑے کینوس میں رکھ کر فیصلہ لیا جائے تاکہ جب جذبات کا طوفان سرد پڑجائے تو آپ کی جھونپڑی سلامت ملے۔

جذباتی بہاؤ کے چند نمونے:

🔹ایک وائرل ویڈیو میں ایک مولانا صاحب سی اے اے مخالف ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں:

“دھرم شالہ نہیں ہندوستان کہ کوئی بھی آئے،اگر آبھی گیا تو قصور ہمارا نہیں انکل! کسی کو بارڈر میں نہ کھڑاؤ،ہم علما، مدرسے والوں کو بارڈر میں کھڑا دو[تعینات کردو]اس کے بعد ملک کی ایسی حفاظت کریں گے جبرئیل بھی پاکستان جاکر واپس آئے تو آنے نہیں دیں گے۔”(نعوذ باللہ)

🔸ایک اور وائرل ویڈیو میں ایک عالم دین کو دیکھا وہ دستور ساز ڈاکٹر امبیڈکر سے اپنی محبت کا دعوی کرتے ہوئے حاضرین سے ڈاکٹر امبیڈکر کی تصویر منگواتے ہیں اور مسیحا کہتے ہوئے اسے انتہائی عقیدت و وارفتگی کے ساتھ آٹھ دس بار چوم کر اپنی محبت کا ثبوت دیتے ہیں۔

🔹ایک احتجاجی مظاہرہ میں ایک لڑکی جو نظم پڑھتی ہے اس کے اشعار دیکھیں:

“میں ہندوستان کی بیٹی ہوں

ہر رنگ میں، میں ملتی ہوں ماتھے پر بندی لگاتی ہوں،اذان پر سر ڈھک لیتی ہوں۔

رمضان میں، میں نے رکھے روزے اور پیار میں کروا چوتھ کا وِرَت بھی رکھ لیتی ہوں۔

گایتری منتر یاد ہے مجھے

میلاد میں نعت پڑھتی ہوں

گروبانی سن کے سکون ملتا ہے،

نماز میں سجدہ ،گرودوارے میں متّھا ٹیکتی ہوں۔

میں ہندوستان کی بیٹی ہوں”

🔹ایک مظاہرہ میں لوگوں نے

“خیرسگالی” کے طور پر ماتھوں پر تِلک لگائے، پوجا میں شرکت کی اور اس عمل کو فخریہ بیان کرتے ہوئے شرعی حدود کو پامال کیا۔جذبات اتنے حاوی تھے کہ شرعی حکم کی بابت نہایت بے باکی سے کہہ دیا کہ فتوے سے کون ڈرتا ہے۔

🔸فیس بک پر کچھ افراد کی ایسی تحریریں نگاہ سے گزریں جن میں انہوں نے مظاہرہ کرنے والی خواتین کو ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ودیگر بہادر صحابیات سے تشبیہ دی۔

🔹ایک عالم کی تقریری ویڈیو میں سنا انہوں نے مظاہرہ کرنے والی خواتین کو سیدہ صفیہ اور سیدہ اسما بنت ابوبکر سے تشبیہ دی۔

ہم حسن ظن رکھتے ہیں کہ جن علما سے یہ کلمات وتحریرات صادر ہوئیں یقیناً وہ صاحب علم وخرد ہوں گے لیکن جوش خطابت یا جوشِ اتحاد میں وہ باتیں کہہ بیٹھے جو شاید نارمل حالات میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔جوش وہوش کے مابین بڑاخفیف فرق ہے۔کئی بار جوش بڑا ضروری ہوتا ہے لیکن جب یہ صفت درجہ اعتدال سے تجاوز کرنے لگے تو پھر خطرات بڑھ جاتے ہیں۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حالیہ کچھ واقعات میں جوش، عقل وہوش پر غالب رہا جس کے باعث بعض علما نے ایسے فیصلے لیے جن کا اثر محض ان کی ذات یا علاقے تک محدود نہ رہے گا بلکہ بہت دور تک جائے گا۔ اس کا اندازہ اس وقت ہوگا جب جذبات کا طوفان تھمے گا اور زندگی معمولات پر لوٹے گی ،تب یہی عوام انہیں ایمان سوز کاموں میں برضا ورغبت شامل رہے گی،کیوں کہ انہیں ان کاموں کی سند علما کے بیانات اور ان کی شمولیت سے مل چکی ہے۔

غیر اللہ کی پوجا میں شرکت کرنا،حضرت جبرئیل علیہ السلام کی شان میں شدید گستاخی، ماتھے پر تِلک لگوانے جیسے افعال واقوال براہ راست اسلامی اعتقاد کو منہدم کرنے والے ہیں۔دورِ حاضر میں جن خواتین نے ہمت واستقامت کے ساتھ وقت کے ظالموں کو للکارا ہے وہ یقیناً قابل تحسین وپذیرائی ہیں لیکن کیا اس عمل کی بنا پر ان کو صحابیات سے تشبیہ دینا قرین انصاف ہے؟موجودہ معاملہ بالآخر”تحفظ دستور” کے لیے ہے لیکن صحابیات کا عمل “تحفظ دین” کی خاطر تھا۔ہمیں دعا کرنا چاہیے کہ جو خواتین آج ہمت وعزیمت کا استعارہ بنی ہیں وہ اپنی گود میں پلنے والے بچوں کی ایسی اسلامی تربیت کریں کہ وہ حضرت خالد بن ولید اور صلاح الدین ایوبی جیسے بہادرانہ اوصاف کے حامل بن سکیں اور کسی بھی ظالم کا پنجہ مروڑ سکیں۔

کسی عالم دین کا مجمع عام میں جاندار کی تصویر کو محبت وعقیدت کے ساتھ چومنا بھلے ہی عام سی بات لگے، لیکن اس عمل سے عوام میں جانداری تصاویر کے احترام کا سلسلہ کہاں تک دراز ہو سکتا ہے اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا. بعد میں کوئی انہیں روکنا بھی چاہے تو نہیں روک سکتا کیوں کہ بطور دلیل یہی واقعہ ان کے پاس موجود ہوگا.

علمائے کرام سے مخلصانہ گزارش:

علمائے کرام امت کے محافظ ونگہبان ہیں۔دین کی حفاظت اور اسلامی شعائر کا تحفظ انہیں کے ذمے ہے۔علما ہی کے کندھوں پر دعوت دین اور تعلیمات الٰہیہ کی نشر واشاعت کا بارِ عظیم ہے۔علما کو اللہ عزوجل نے رفعت وبلندی عطا فرمائی:

یَرفَعِ اللہ الذین آمنوا مِنکُم والَّذین اُوتُوا العِلم درجٰت۔(پارۃ ۲۸،سورۃ المجادلۃ آیت ۱۱)

آقائے کریم علیہ السلام فرماتے ہیں:

إن مثل العلماء في الأرض كمثل النجوم فی السماء ،يُهتدى بها في ظلمات البرّ والبحر، فإذا انطَمَستِ النّجُومُ أوشكَ أن تَضِلَّ الهُداة۔(رواہ احمد بن حنبل فی المسند ۳؍۱۵۷)

علماے کرام زمین میں ان ستاروں کی طرح ہیں جن کے ذریعے خشکی وتری کے اندھیروں میں رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔اور اگر ستارے چھپ جائیں تو قریب ہے کہ ان ستاروں سے روشنی حاصل کرنے والے بھٹک جائیں۔(یعنی علما رہنمائی نہ کریں تو عوام گمراہ ہوجائیں گے)

امت کو دین سے وابستہ کرنا علما کا فرض منصبی ہے اور عروجِ امت دینی وابستگی سے مشروط ہے جس قدر دینی وابستگی بڑھے گی امت کی قدر ومنزلت بھی بڑھے گی۔زوال کےجس دور سے ہم گزر رہے ہیں وہ اچانک نمودار نہیں ہوا ہے بلکہ اسلامی تعلیمات سے عملی دوری کے سبب مسلط ہوا ہے۔جس قدر دین سے دوری بڑھے گی دورِ زوال طویل ہوتا جائے گا۔علما اور دیگر اہل علم کو یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام میں اپنے پیروکاروں کے لیے نظام زندگی کا مکمل نقشہ موجود ہے۔اگر اس نقشے کے چند خانے بگڑ گئے تو پورا نقشہ بگڑ جائے گا۔ امام احمد رضا فرماتے ہیں:

“اے گروہِ علما اگر تم مستحبات چھوڑ کر مباحات کی طرف جھکوگے تو عوام مکروہات پر گریں گے۔اگر تم مکروہ کروگے تو عوام حرام میں پڑیں گے۔ اگر تم حرام کے مرتکب ہوگے تو عوام کفر میں مبتلا ہوں گے۔بھائیو !!

للہ اپنے اوپر رحم کرو! اپنے اوپر نہ کرو تو امت مصطفےٰ ﷺ پر رحم کرو،چرواہے(نگہبان) کہلاتے ہو بھیڑیے نہ بنو۔

(فتاوی رضویہ۔ج۲۴؍ص ۱۳۲،۱۳۳)

علمائے کرام اس نکتے کو ذہن میں رکھیں کہ دشمن کا مقصد اصلی آپ کا گھر یا شہریت نہیں بلکہ ایمان ہے. جس کے لئے وہ “گھر واپسی ،لَو جہاد اور شدھی کرن” کے نعرے لگاتے ہیں. اسی مقصد کے لئے مختلف ہتھکنڈے اپنائے جا رہے ہیں. دشمن کا جواب دینے کے چکر میں ہم خود ہی ایمان داؤں پر لگا بیٹھے تو بس ہو گیا کام تمام !!

دشمن اپنی چال میں کامیاب، پھر آپ کو دھمکانے کے لئے اسے کسی قانون سازی کی ضرورت نہیں ہے. اس لئے احتجاج ومخالفت میں بھی اسلامی شناخت اور عقیدے کا تحفظ ہر حال میں لازم ہے.

 

 

27 جمادی الاول 1441ھ

23 جنوری 2020 بروز جمعرات