✍ جلدی کریں تو کیا ؟

🌹 وَعَجِلْتُ إِلَيْكَ رَبِّ لِتَرْضَىٰ.

(سورة طه 84 )

🙏اور میں جلدی کر کے آپ کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا ہوں اے میرے رب تاکہ تو راضی ہو جائے ۔

⚘اللہ تبارک و تعالی نے سیدنا حضرت موسی على نبينا و عليه الصلوة و السلام سے کوہ طور پر ملاقات کا وعدہ فرمایا ۔ میعاد کے مطابق 70 اشراف بنی اسرائیل کو لیئے جانب طور روانہ ہوئے ۔ مقام دیدار ” طور ” قریب تو شوق ایسا غالب ہوا کہ باقی ہمراہیوں سے تیز رفتاری کرتے ہوئے پہلے پہنچ گئے ۔ اللہ تبارک و تعالی نے پوچھا

۞ وَمَا أَعْجَلَكَ عَن قَوْمِكَ يَا مُوسَىٰ (83) ۔

کس چیز نے آپ کو اپنی قوم سے جلدی میں ڈالا اے موسی ۔ ۔

(🕯دوستو ! اللہ عليم بذات الصدور کو بخوبی علم تھا کہ کس جذب دروں اور وارفتگئ شوق دیدار نے موسی کو اس برق رفتاری پر مجبور کر دیا ہے ۔ منزل محبوب قریب آنے پر جذبات قابو میں نہیں رہتے ۔ سختیوں ، رکاوٹوں اور صعوبتوں کا احساس نہیں رہتا ۔ بس ایک ہی دھن ہوتی ہے بلکہ یہ فطرت ہے اور جانوروں کے بارے میں بھی تجربہ ہے کہ گھر واپسی کا سفر انہیں بھی تیزی پر ابھارے رکھتا ہے ۔ ۔)

تو جواب میں سیدنا حضرت موسی على نبينا و عليه الصلوة و السلام نے تمام آداب محبت ( محبت میں آداب اولین شرط ہیں ۔ بے ہودگی، بے تکلفی کا وادئ محبت میں کوئی دخل نہیں ) بجا لاتے ہوئے پہلے تو عرض کیا

قَالَ هُمْ أُولَاءِ عَلَىٰ أَثَرِي ۔

وہ لوگ میرے پیچھے ہی ہیں چلے آ رہے ہیں ۔

یعنی اعتراف و اظہار شوق سے پہلے پوچھی گئی بات اور طے شدہ معاملہ پر پورا رہنے کا عرض کیا۔ دعوی محبت کا ہو اور بات نہ مانی جائے ۔ تفویض کردہ ذمہ داریوں کو ادا نہ کیا جائے ۔ اپنی مرضی چلائی جائے تو یہ خالی خولی دعوی ہے ۔ محبت ہرگز نہیں ۔

سو عرض کیا ۔ جیسا فرمایا گیا اسی طرح ان کو ساتھ لے کر آیا ہوں ۔ وہ بالکل پیچھے پیچھے ہیں بس میں ذرا سا جلدی آ گیا ہوں اور وہ بھی تیری ہی طرف اور یہاں بھی اپنے شوق کا عریاں اظہار نہیں کیا بلکہ عرض کیا

وَعَجِلْتُ إِلَيْكَ رَبِّ لِتَرْضَىٰ۔

اس تھوڑی جلدی میں بھی مقصد تجھے ہی راضی کرنا ہے ۔

محبت کا مقصود تو رضائے حبیب کا حصول ہوتا ہے ۔ اور رضاء حاصل ہوئی تو سب کچھ حاصل ہو گیا ۔ چنانچہ رب نے تجلیات فرمائیں ۔

🌲درج بالا تحریر میں کام کے کافی اسباق بیان ہو چکے ہیں ۔ اللہ توفیق اتباع نصیب فرمائے ۔ آمین

لیکن در اصل فقیر عرض یہ کرنا چاہتا ہے کہ بلند بخت ہیں وہ لوگ جو ہر عمل صالح کی ادائگی میں جلدی کرتے ہیں اور بطور نیت عرض کرتے ہیں ۔

۞ عَجِلْتُ إِلَيْكَ رَبِّ لِتَرْضَىٰ ۔

فقیر بصد ادب عرض گذار ہے کہ کسی بھی صالح عمل مثلا نماز ، ادائگی زکات کا وقت ہو جائے تو جلدی کیجئے ۔

اسی طرح کسی عمل صالح کا بنیت رضاء الہی پروگرام بن جائے تو جلدی کیجئے ۔ جہاں نیک عمل کی ادائیگی کا اپنا ثواب ملے گا وہاں جلدی کے جذبات کا ثواب بھی نصیب ہو جائے گا ۔

اور حالات بھی تو یکساں نہیں رہتے ۔ ایسا نہ ہو کہ حالات اتنا مجبور کر دیں کہ چاہنے کے باوجود بھی نہ کر سکیں ۔ کوئی اور ضرورتیں اور رکاوٹیں آ جائیں اور ہوں بھی حقیقی و واقعی

اور ابلیس اور اس کے گماشتوں جیسے دشمن بھی تو گھات اور تاک میں لگے ہیں ۔

سو بہتری اسی میں ہے کہ طاعات و صالحات ، فرائض و واجبات ہوں یا اپنے دل کی خواہشات، فورا عمل پیرا ہو جائیے ۔

اللہ تعالی سے خیر کی توفیقات عطاء رہنے کی دعا ہے ۔

✒ از قلم شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب مہتمم ادارہ معارف القران کشمیر کالونی کراچی خادم جامع مسجد حضرت سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا مصطفی آباد پھالیہ منڈی روڈ منڈی بہاؤالدین