زندگی تماشہ یا مولوی کا تماشہ

تحریر پڑھنے سے پہلے ذہن بنا لیں کہ یہ آپ نے ہر ہر شخص تک پہنچانی ہے چاہے اسکا تعلق کسی بھی طبقے سے ہو۔ حکمران عسکری ادارے وزراء صحافی اداکار قلمکار دین دار دنیا دار سب تک ۔۔۔۔۔۔

فلم زندگی تماشہ کو مختلف لوگ مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔ مذہبی ذہن رکھنے والے حضرات اس فلم کے کانٹینٹ پر اعتراض کر رہے ہیں جبکہ لبرل نظریات رکھنے والے اسکا دفاع کر رہے ہیں۔

تاہم اس فلم کا ایک پہلو ایسا ہے جسکا دفاع کرنا شاید کسی بھی ذی شعور انسان کے لئے آسان نہ ہو۔

اس فلم کے ابتدائی ٹریلر میں ایک سین کے کچھ مناظر شامل کئے گئے ہیں جس میں کچھ مذہبی وضع قطع رکھنے والے لوگ ایک نعت خواں سے جھگڑ رہے ہیں اور جواب میں اس فلم کا مرکزی کردار وہ نعت خواں کہتا ہے کہ اور وہ جو مولوی بچہ بازی کرتے ہیں اسکا کیا (اصل جملہ پنچابی میں فلمایا گیا ہے)

حالانکہ یہ بات حقائق کی روشنی میں غلط نہیں کہ ایسے واقعات آئے دن دیکھنے میں آتے رہتے ہیں کہ کسی قاری نے کسی بچے کے ساتھ زیادتی کی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایسے واقعات صرف قاری اور مولوی صاحبان ہی سے سرزد ہوتے؟ جواب ہے کہ ہر گز نہیں بلکہ اسکول ٹیچر، ٹیوشن پڑھانے والے، گھریلو نوکر یہاں تک کے عدالت اور چیمبر تک محفوظ نہیں۔ یعنی ہر وہ شخص جسکے ساتھ بچے اکیلے وقت گزارتے ہوں یا اسکو بدکاری کا موقع ملتا ہو وہاں ایسے واقعات ایسے لوگوں کی نفسانی خواہشات اور والدین کی لاپرواہی کی وجہ سے پیش آتے رہتے ہیں۔

تو پھر مولویوں کو مخصوص کر کے ایسے جملے ادا کرنا کس طرح ٹھیک ہو سکتا ہے جس جملے سے بظاہر یہ تاثر جائے کہ مولوی یہ کام باقاعدہ کسی سوچے سمجھے مشن کے طور پر کرتے ہیں۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ لاکھوں بچے روزانہ کسی نہ کسی قاری سے قرآن پڑھتے ہیں اور ایسے واقعات سال میں آٹھ دس سے زیادہ نہیں ہوتے جسکا مطلب ایسے واقعات آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں۔

غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ایسی حرکات کرنے والے لوگ ہر قوم ہر نسل ہر فرقے میں موجود ہیں تو کیا اس جملے کو کسی اور پر چسپاں کر کے سینسر بورڈ سے سرٹیفکیٹ حاصل کیا جاسکتا ہے؟

مثلاً اگر اس فلم میں کوئی پنجابی کسی سندھی سے کہتا کہ وہ جو سندھی بچہ بازی کرتے ہیں اسکا کیا تو کیا سندھی زبان بولنے والے اس فلم کو رلیز ہونے دیتے؟

حالانکہ ظاہر ہے کہ سندھ میں بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں ٹھیک اُسی طرح جس طرح باقی صوبوں میں ہوتے ہیں۔

اگر یہی جملہ کسی شیعہ سنی کی لڑائی میں کوئی سنی کسی شیعہ سے کہتا کہ اور وہ جو شیعہ بچہ بازی کرتے ہیں اسکا کیا تو کیا شیعہ یہ فلم رلیز ہونے دیتے؟ حالانکہ جن مولویوں کا اس فلم میں ذکر کیا جا رہا ہے ان میں شیعہ مولویوں کے واقعات بھی شامل ہیں.

ایسے واقعات کرنے والے سارے پاکستانی بھی تو ہیں تو کیا اس فلم میں یہی جملہ پاکستانیوں سے منسوب کیا جاسکتا تھا کہ اور جو پاکستانی بچہ بازی کرتے ہیں اسکا کیا؟؟؟

یعنی مولوی کے علاوہ کسی بھی اکائی پر یہی جملہ لگایا جاتا مثلاً سندھی، پنجابی، مہاجر، شیعہ، اسماعیلی، ڈاکٹر، وکیل، ٹیچر وغیرہ تو اس جملے کو کبھی بھی سینسر کی رضامندی نہ ملتی مگر ایک یہ مولوی ہی ایسا سافٹ ٹارگٹ ہے جسے جتنی گالی دی جائے جتنا برا بھلا کہا جائے اور اس پر جتنے الزام لگائے جا ئیں تو نہ اسٹیٹ کو فرق پڑتا ہے نہ ہی اس معاشرے کو۔ کیوں ؟

آخر کیوں ؟

یاد رکھیں ! ہر شخص کا یہ ایمان تو ہے کہ مجھے مرنا ہے اور مر کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے اور وہاں صرف نیکی اور اچھے کام ہی شمار کئے جائیں گے جو میری کی فلاح کا سبب بنیں گے۔ تو آخر مجھے مذہب کے احکامات کی نافرمانی کرکے ملتا کیا ہے ؟ اپنے آپ سے سوال کریں کہ میں یہ سب کرکے کس کو خوش کر رہا ہوں اور کس کے دین کو پھیلنے سے روک رہا ہوں ؟ اللہ‎ کے ! جس نے خود کہا کہ اہل حق تاقیامت رہیں گے۔ اور اسلام پوری دنیا میں پھیلے گا تو میں کیوں بلا وجہ اسلام کا نام لینے والوں کی اور اسلام کی ترغیب دینے والوں کی مخالفت کرتا ہوں؟

غلطی کا ادراک کرکے غلط کو سزا دینے کی بجاۓ میں کیوں صرف مولوی کو ہی برا کہتا ہوں ؟

جو مولوی آپ کو آپ کے رب سے آپ کے نبی سے آپ کے مذہب سے قریب رکھنا چاہتے ہیں آپ انکو اس لئے برا جانتے یا بتاتے ہیں کہیں اسلام کے قریب نہ آنا پڑے ؟ تو سوچیں آپ مولوی کی مخالفت کر رہے ہیں یا اس مذہب کی جس کا کلمہ پڑھنے کے آپ دعوے دار ہیں۔ کیوں کہ مولوی کے سوا اور کوئی آپ سے اسلام کی بات نہیں کرتا اس لئے انکی پرواہ بھی نہیں۔

ایسا کیوں ؟

یہ بھی یاد رکھیں جو دین آخرت میں آپکی بخشش کا سبب ہوگا جس نبی کی شفاعت کی آپ کو ضرورت ہوگی اس دین اور اور نبی اور آپ کے درمیان رابطے کی واحد کڑی یہ مولوی ہی ہیں۔

جو آپ سے کچھ نہیں مانگتے سواۓ اسلام اور اسلامی احکامات اور دین کے تحفظ کے۔۔۔

یہ تحریر کسی پر تنقید نہیں بلکہ اپنے آپ کا جائزہ ہے کہ ایک “زندگی تماشا” کے لئے ہم کتنی “زندگیوں کا تماشا” بنانے پر تلے ہیں۔

سوچئے گا ضرور!!!