♨️ شيطان کی کچھ عمومی وارداتیں ۔

🤚

    • بندے / سالک کو عبادات و اذكار سے

      کلیتا محروم یا بقدر امکان دور و نفور رکھا جائے۔

    • یہ نہ ہو سکے تو ہر ممکن طریقے سے اسے خشوع و خضوع سے بے بہرہ کیا جائے ۔

      *مختلف وساوس ، خیالات کے ذریعے سے یا جیسے بھی بن پڑے اسے بھول چوک کا شکار کیا جائے ۔

      *کوئی ضروری کام یاد دلا کر یا کسی بھی طرح سے اسے جلد از جلد ختم کرنے میں مبتلاء کیا جائے ۔

      ¤مختصر یہ کہ اگر ان تمام کوششوں کا مقابلہ کرتے ہوئے وہ مشغول عبادت و ذکر ہو ہی گیا ہے تو اسے کم از کم اتنا بے ذوق تو کر ہی دیا جائے کہ اسے ان کی کوئی لذت و حلاوت محسوس نہ ہو کہ نتیجتا ان کے فوائد و ثمرات اور ثواب و برکات سے تو محروم ہو ہی جائے ۔

*یہ کیفیت بھی ہو سکتی ہے کہ عبادت شروع کی تو ذہن کو یوں مشوش کرنا شروع کر دیا کہ ابھی بجائے ان نوافل کے ذکر کرتے ہیں ۔

    • ذکر میں لگے تو تشویش ڈالنی شروع کر دی کہ اصل تو نماز ہے ، چھوڑیں اس اللہ اللہ کو اور دو رکعتیں پڑھتے ہیں ۔

      *نماز کی تیاری شروع کرنے لگا کہ کچھ اور ہی خیال یا رکاوٹ سامنے کر دی ۔

      اسی حیص بیص میں وقت گذر گیا ۔

      *کسی اہل ایمان نے صدقہ کا پروگرام بنایا ۔

    • دینے ہی لگا تو اس سے زیادہ قریبی رشتہ دار یا مستحق کی صورت ذہن میں تازہ کر دی ۔ اور خیال پیدا کر دیا کہ افضل کو اختیار کرنا دانشمندی ہے سو اس کو نہیں دیتے اسی کو دیں گے ۔ نتیجہ یہ کہ نہ اس کو دینے دیا اور نہ اس کو ۔

    • ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی صاحب ایمان نے کسی نیک کام کا صدق دل اور کمال اشتیاق سے آغاز کیا، پھر بوجوہ اس میں تعطل ہونے لگا جس سے اس کے قلب میں سوز و گداز ، شدید تڑپ اور اللہ کی طرف کمال خشوع و خضوع کی کیفیات پیدا ہو گئیں ۔ اس لعین کو خطرہ لگا کہ قرب و وصل کا راستہ طے ہونے ہی لگا ہے تو اس عمل صالح کی جلد از جلد تکمیل میں بھرپور مدد کرکے اس راہ کو کھوٹا کرنے لگ پڑا ۔

    • اور آج کل تو سوشل میڈیا کا دور ہے ۔ ایسے تسلی بخش دلائل کے انبار لگا دیتا ہے کہ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ ریاء کی حدود میں داخل ہو چکے ہیں ۔

      🙏یا اللہ یا رب العالمین یا ربی یا الہی ۔ تیری ذات سے مردود و لعین اس ابلیس نے تیرے سامنے یہ کہا کہ میں ان سب کو بہر طور ضرور گمراہ کروں گا لیکن تیرے مخلص بندوں پر میرا کچھ بس نہ چل سکے گا ۔

      تو اے میرے کریم رب، آپ کو آپ کے تمام اسماء حسنی کا واسطہ ، اپنی تمام نعمتوں کے اس فقیر خالد محمود کو ، اس کے آباء و اجداد و امھات و جدات کو ، اس کے اہل و عیال کو ، تمام اعزہ و اقارب و احباب کو اور کل امت مسلمہ کو اس کی اور اس کے جملہ گماشتوں کی تمام دسیسہ کاریوں کے سامنے بے بس مخلصین میں داخل رکھنا ۔ اسی با اخلاص زمرہ میں حیات دنیوی بسر ہو اور اسی میں حشر ہو ۔

      آمین آمین آمین یا رب العالمین