أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ سَيُغۡفَرُ لَـنَا‌ ۚ وَاِنۡ يَّاۡتِهِمۡ عَرَضٌ مِّثۡلُهٗ يَاۡخُذُوۡهُ‌ ؕ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّيۡثَاقُ الۡـكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَـقَّ وَدَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ‌ ؕ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّـلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ‌ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

پھر ان کے بعد ایسے نااہل لوگ ان کے جانشین ہوئے جو تورات کے وارث ہو کر اس دنیا فانی کا سامان لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عنقریب ہماری بخشش کردی جائے گی اور اگر ان کے پاس اس کی طرح اور سامان آجائے تو وہ اس کو بھی لے لیں گے، کیا ان سے کتاب میں یہ عہد نہیں لیا گیا تھا کہ وہ اللہ کے متعلق حق کے سوا کچھ نہیں کہیں گے، اور انہوں نے وہ سب کچھ پڑھ لیا جو تورات میں تھا اور اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے آخرت کا گھر سب سے بہتر ہے، کیا تم (یہ بات) نہیں سمجھتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” پھر ان کے بعد ایسے نااہل لوگ ان کے جانشین ہوئے جو تورات کے وارث ہو کر اس دنیا فانی کا سامان لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عنقریب ہماری بخشش کردی جائے گی اور اگر ان کے پاس اس کی طرح اور سامان آجائے تو وہ اس کو بھی لے لیں گے، کیا ان سے کتاب میں یہ عہد نہیں لیا گیا تھا کہ وہ اللہ کے متعلق حق کے سوا کچھ نہیں کہیں گے، اور انہوں نے وہ سب کچھ پڑھ لیا جو تورات میں تھا اور اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے آخرت کا گھر سب سے بہتر ہے، کیا تم (یہ بات) نہیں سمجھتے ” 

خَلف اور خَلَف کا معنوی فرق 

اس آیت میں ارشاد ہے : فخلف من بعدہم خلف اور خلف کے معنی کے متعلق علامہ راغب اصفہانی متوفی 502 ھ لکھتے ہیں : 

بعد میں آنے والے ردی اور برے لوگوں کو خَلٗف کہتے ہیں۔ (المفردات ج 1، ص 207، مبطوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، 1418 ھ)

خلف اگر لام پر زبر کے ساتھ پڑھا جائے تو اس کا معنی ہے بعد میں آنے والے نیک لوگ، اور اگر لام ساکن ہو تو اس کا معنی ہے بعد میں آنے والے برے لوگ، اور خلف (لام ساکن ہو تو) کی جمع خلوف ہے اور خلف (لام پر زبر ہو تو) کی جمع اخلاف ہے۔ اسی طرح سَلَف کا معنی ہے گزرے ہوئے نیک لوگ اور اس کی جمع اسلاف ہے اور سلف کا معنی ہے گزرے ہوئے برے لوگ اور اس کی جمع سلوف ہے۔ (مثلاً ہمارے اعتبار سے صحابہ کرام اسلاف ہیں اور یزید اور شمر سلوف ہیں اور صحابہ کے اعتبار سے امام ابوحنیفہ خَلَف ہیں اور یزید خلف ہے۔ (مجمع بحار الانوار ج 2، ص 91، مطبوعہ مکتبہ دار الایمان المدینہ المنورہ، 1415 ھ النہایہ ج 2، ص 62، 63، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1418 ھ، لسان العرب، ج 9، ص 84 ۔ 85، مطبوعہ ایران، 1404 ھ)

گناہوں پر اصرار کے ساتھ اجر وثواب کی طمع کی مذمت 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ پھر بنو اسرائیل کے نیک لوگوں کے جانشین برے لوگ ہوئے جو اپنے اسلاف سے تورات کے وارث ہوئے۔ انہوں نے تورات کا مطالعہ کیا اور اس کے احکام کو حاصل کیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں جو یہودی تھے وہ بھی اسی آیت کا مصداقت تھے۔ انہوں نے تورات کے احکام کو پس پشت ڈال دیا اور آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی رنگینیوں اور زیب وزینت کو اختیار کرلیا۔ وہ مال جمع کرنے پر حریص تھے اور اس معاملہ میں حلال اور حرام کا لحاظ نہیں کرتے تھے۔ وہ رشوت لے کر تورات کے احکام بدل دیتے تھے۔ اپنی ریاست چھن جانے کے خوف سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جو تورات میں صفات تھیں ان کو لوگوں سے چھپاتے تھے۔ اور بعض آیات میں لفظی اور معنوی تحریف کرتے تھے اور ان کا یہ زعم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا اور ان کی بداعمالیوں پر ان سے مواخذہ نہیں فرمائے گا وہ کہتے تھے ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں، ہمارا سلسلہ انبیاء (علیہم السلام) سے منسلک ہے، وہ مسلسل نافرمانیاں کرتے رہتے اور گناہوں پر اصرار کرتے، اور جس چیز کو وہ پہلے باطل طریقہ سے لے چکے تھے اس کو دوبارہ بھی باطل طریقہ سے لینے سے گریز نہ کرتے۔ اللہ تعالیٰ ان کا رد کرتے ہوئے فرماتا ہے ” کیا ان سے کتاب میں یہ عہد نہیں لیا گیا تھا کہ وہ اللہ کے متعلق حق کے سوا کچھ نہیں کہیں گے ” انہوں تورات کو پڑھا تھا اور اس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ دوسروں کا مال باطل طریقہ سے لینا حرام ہے۔ اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنا حرام ہے۔ اس کے باوجود وہ اس عہد اور میثاق کی خلاف ورزی کرتے رہے۔ کیا ان کو اتنی سی بات معلوم نہیں تھی کہ دار آخرت اور اس کی دائمی نعمتیں دنیا کی فانی لذتوں سے بہت بہتر ہیں تو پھر چاہیے تھا کہ وہ اللہ سے ڈرتے اور ان بداعمالیوں اور اپنی سرکشیوں سے باز آجاتے۔

قرآن مجید کی اس آیت میں جس طرح ان بد اعمال یہودیوں کا ذکر فرمایا ہے جو اپنی نافرمانیوں کے باوجود اپنے آپ کو اخروی اجر وثواب کا امیدوار گردانتے تھے سو آج کل کے مسلمانوں کو بھی یہی حال ہے وہ بھی اپنی بداعمالیوں کے باوجود خود کو اجر آخرت کا امیدوار کہتے ہیں۔ جیسا کہ اس حدیث میں ہے :

حضرت معاذبن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ عنقریب لوگوں کے سینوں میں قرآن اس طرح بوسیدہ ہوجائے گا جس طرح کپڑا بوسیدہ ہو کر جھڑنے لگتا ہے، وہ بغیر کسی شوق اور لذت کے قرآن کریم کو پڑھیں گے، ان کے اعمال صرف طمع اور حرص ہوں گے وہ خوف خدا سے گناہوں میں کمی نہیں کریں گے وہ برے کام کرنے کے باوجود تبلیغ کریں گے اور یہ کہیں گے کہ عنقریب ہماری بخشش کردی جائے گی کیونکہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔ (سنن دارمی ج 2، رقم الحدیث : 3346، مطبوعہ در الکتاب العربی بیروت، 1407 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 169