میکہ نہیں سسرال اصل گھر ہے 

میں نے بہت ساری عورتوں کے بارے میں یہ جانا کہ وہ جب اپنے والدین کے گھر تھیں تو بہت شوق سے کام کرتیں،مال و متاع کو خوب بچاتیں،فضول خرچی تو کیا، ضرورت میں بھی کمی کرنے کی کوشش کرتیں،کسی کام میں انہیں کہنے کی ضرورت نہ پڑتی،آپ ہی سارے کام انجام پاتے،اس لئے کہ وہ جانتی تھیںیہ ہمارا گھر ہے،مال بچے گا تو ماں باپ کو اور بھائیوں کے کام آئے گا،یعنی وہ اپنے گھر والوں کے لئے دور کے مستقبل کا سوچتی تھیں ،حالانکہ عورتوں کے لئے والدین کا گھر عارضی گھر ہے وہاں سے انہیں شادی کے بعد رخصت ضرور ہونا ہے اور شوہر کے گھر جانا ہے وہاں اسکی دائمی مسکنت ہے تو انہیں اپنے والدین کے گھر سے زیادہ شوہر کے گھر سے لگاؤ اور انس ہونا چاہیئے لیکن دور حاضر میں عورتیں ان باتون میں خطا کر جاتی ہیں اور اپنے مقصد میں خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں کر پاتیں اور طلاق کے عظیم حادثے کے بعد کف افسوس ملتے ہوئے رہ جاتی ہیں،سوچنے کا موقع پہلے ہوتا ہے نتیجہ برآمد ہو جانیکے بعد نہیں،پھر تو انجام بھگتنے کا وقت ہوتا ہے، جب شوہر کا گھر تمہاری دائمی مسکنت ہے اور اسلام نے تمہارے لئے تمہارے شوہر کو تمہارے والدین سے بھی بڑا درجہ دیا ہے اور اسکے گھر رہکر اللہ کی طرف سے تمہیں اولاد کا گراں قدر تحفہ بھی ملتا ہے تو اولاد سے محبت فطری طور پر بھائیوں سے زیادہ ہوتی ہے تو اولاد کے مستقبل کی تابناکی کے لئے تمہارا حوصلہ والدین کے گھر سے بھی بلند ہونا چاہیئے،یہ ذہن بنانے کے لئے ہمارے پیارے آقا ﷺ نے عورتوں کو یہ نصیحت فرمائی کے شوہر کے مال متاع کے حفاظت کا ذمہ پورا کرنے والی عورت خیر و صلاح کی ایک عظیم علامت اپنے ساتھ رکھتی ہے،میرے آقا نے یہ تلقین اس لئے فرمائی کے کوئی عورت اپنا ذمہ سمجھ کر ایسے کام کرنے کو تیار نہ ہو تو میرا فرمان سمجھ کر ہی عمل کے لئے تیار ہو جائے

میکہ عارضی مسکن ہے تیرا ۔ رفیق حیات کو اپنا بنا لے