أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ‌ ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ‌ ‌ۖۚ وَاِنَّهٗ لَـغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اور یاد کرو جب آپ کے رب نے اعلان کیا تھا کہ وہ قیامت تک ان پر ایسے لوگوں کو مسلط کرتا رہے گا جو ان کو برا عذاب چکھائیں گے، بیشک آپ کا رب بہت جلد عذاب دینے والا ہے اور بیشک وہ بہت زیادہ بخشنے والا بہتر مہربان بھی ہے۔

تفسیر:

167 ۔ 168:۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور یاد کرو جب آپ کے رب نے اعلان کیا تھا کہ وہ قیامت تک ان پر ایسے لوگوں کو مسلط کرتا رہے گا جو ان کو برا عذاب چکھائیں گے، بیشک آپ کا رب بہت جلد عذاب دینے والا ہے اور بیشک وہ بہت زیادہ بخشنے والا بہتر مہربان بھی ہے۔ 167 ۔ اور ہم نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے زمین میں کئی گروہوں میں تقسیم کردیا، ان میں سے بعض نیک تھے، اور بعض ان سے مختلف تھے، اور ہم نے راحتوں اور مصیبتوں کے ساتھ ان کی آزمائش کی تاکہ وہ سرکشی سے پلٹ جائیں ” 

فلسطین میں اسرائیل کا قیام قرآن مجید کے خلاف نہیں ہے 

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یہود کی سرکشی اور معصیت پر دلیر کا ذکر فرمایا تھا اور یہ کہ اس کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے ان کو مسخ کرکے بندر بنادیا اور اس آیت میں ذکر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے ان کے لیے ذلت اور غلامی مقدر کردی ہے اور یہ بھی ان کی بد اعمالیوں کی سزا ہے اور یہ ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے زمین میں مختلف گروہوں میں تقسیم کردیا اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے رسول مکرم ! آپ کے رب نے یہود کے پہلے لوگوں کو ان کے انبیاء کی زبان سے یہ خبر دی تھی کہ اللہ تعالیٰ قیامت تک کے لیے یہود پر ایسے لوگوں کو مسلط کرتا رہے گا جو ان کو ذلت اور غلامی کا مزا چکھائیں گے، ان پر جزیہ فرض کیا جائے گا، ان کی جمعیت ٹوٹ جائے گی اور ان کا شیرازہ بکھر جائے گا اور یہ مختلف ٹکڑوں میں بٹ کر زمین پر زندگی گزاریں گے۔ سب سے پہلے ان پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خراج کو لازم کیا، پھر ان کو یونانیوں نے غلام بنایا پھر کشدانیوں، کلدانیوں اور بابلیوں نے ان کو محکوم بنایا، پھر روم کے نصاری نے ان کو غلام بنایا اور ان سے جزیہ اور خراج لیا، پھر مسلمانوں نے ان سے جزیہ اور خراج لیا، اس کے بعد قریب کے دور میں جرمنی میں ہٹلر نے ان کو چن چن کر قتل کیا اور ملک بدر کردیا۔

رہا یہ کہ اب انہوں نے فلسطین پر قبضہ کرلیا اور اسرائیل کے نام سے اپنی حکومت قائم کرلی ہے تو وہ قرآن مجید کے خلاف نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” ضربت علیہم الذلۃ این ما ثقفوا الا بحبل من اللہ وحبل من الناس : وہ جہاں بھی پائے جائیں گے ان پر ذلت لازم کردی گئی بجز اس کے (کبھی) اللہ کی رسی اور (کبھی) لوگوں کی رسی کے ساتھ انہیں سہارا مل جائے ” (آل عمران : 112) ۔ اور اسرائیل کی حکومت کا قیام برطانیہ اور امریکہ کے سہارے سے ہوا ہے اور اب بھی بظاہر وہاں یہویوں کی حکومت ہے اور در پردہ برطانیہ اور امریکہ ہی کی حکومت ہے، اگر آج ان کے سروں پر سے برطانیہ اور امریکہ کا سایہ اٹھ جائے تو وہ پھر محکومی اور غلامی کی زندگی گزاریں گے۔ 

یہودیوں میں نیکو کار اور بدکار 

اور ان پر دوسرا عذاب یہ مسلط فرمایا کہ وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر دنیا میں رہتے ہیں، ان میں صالح اور نیک لوگ بھی تھے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد دیگر انبیاء (علیہم السلام) پر ایمان لائے، اور ان میں وہ بھی تھے جو ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے اور وہ آخرت کو دنیا پر ترجیح دیتے تھے۔ جیسے حضرت داود (علیہ السلام) کے زمانہ میں وہ لوگ تھے جو سنیچر کے دن مچھلیوں کے شکار سے منع کرتے تھے اور جیسے حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے اصحاب (رض) اور بعض وہ لوگ تھے جو نیکی اور پرہیز گاری میں ان سے کم تھے، ان میں سے بعض فاسق وفاجر تھے، اور بعض کافر تھے، یہ لوگ انبیاء (علیہم السلام) کو ناحق قتل کرتے تھے، یہ لوگ جھوٹ بولتے تھے اور سود کھاتے تھے اور رشوت لے کر احکام بدل دیتے تھے اور جھوٹے فیصلے کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ ان دونوں فریقوں کے ساتھ اسی طرح معاملہ فرمائے گا جیسے اوروں کے ساتھ معاملہ فرماتا ہے، نیک لوگوں کو جزا دے گا اور بدکاروں کو سزا دے گا اور اللہ تعالیٰ ان کو آزمائش میں ڈالتا ہے، ان کو نعمتیں اور راحتیں عطا فرماتا ہے تاکہ یہ شکر بجا لائیں اور مصائب اور آلام میں مبتلا کرتا ہے تاکہ یہ صبر کریں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 167