حضرت خواجہ خواجگان سیدنا حسن بصری رحمة الله تعالى عليه رحمة واسعة كاملة شاملة سے کسی نے پوچھا ۔ کیا آپ مؤمن ہیں؟

آپ حضور نے فرمایا ۔ دیکھو ایمان دو طرح سے ھے۔ اگر تمھارا سوال اللہ، ملائکہ، آسمانی کتابوں، رسولوں، جنت ،دوزخ، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے اور حساب و کتاب پر ایمان رکھنے کے حوالے سے ھے تو ان سب پر میرا ایمان ہے

لیکن اگر تمھارا سوال اس ایمان کے حوالے سے ہے جس کا بیان اس آیت میں ھے تو اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ میں ان میں سے ھوں یا نہیں ۔!!

{ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَاناً وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقّاً }

( ترجمہ ) بات تو بس یہی ہے کہ مؤمنين تو صرف وہی لوگ ہیں جن کے دل یاد الٰہی کے وقت کانپ کانپ جاتے ہیں، ان کے سامنے آیات الہی تلاوت کی جائیں تو وہ آیات ان کے ایمانوں میں اضافہ کرتی ہیں ۔ وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں ۔ جو نماز قائم کرتے ہیں ۔ ہمارے عطا فرمائے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ یہی ھاں بس یہی حقیقی معنوں میں مؤمنين ہیں ۔

حضرت حسن بصری جیسا عظیم الشان جلیل القدر تابعی جو شریعت وطریقت و حقیقت کا اولین منبع ہیں ۔ ان کا یہ فرمان ہے تو ھماری کیا حیثیت

کیا پدی کیا پدی کا شوربہ

یا رب سلم امتی ، شفاعتي لأهل الكبائر من أمتي ، انا لها انا لها کہنے والے کا ساتھ ہو

آمین يارب العالمين بحق سيد الأنبياء والمرسلين سيدنا محمد صلى الله تعالى عليه وعلى آله وأصحابه و بارك و سلم