گزشتہ پوسٹ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دور حاضر کے وہابیہ ، تبلیغیہ اور دیگر فرق باطلہ کے لوگ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کے واقعہ کے تعلق سے سرکار دو عالم ﷺ کے علم غیب پر نکتہ چینی کرتے ہیں اور عوام الناس کو ورغلانے کیلئے یہ کہتے ہیں کہ اگر سرکار دو عالم ﷺ کو علم غیب تھا توآپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے معاملہ میں اتنا سکوت کیوں فرمایا اور وحی کے منتظر کیوں تھے ؟ اس طرح کی لا یعنی باتوں سے عوام الناس کو حق سے منحرف کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور بیچارے ، کم علم لوگ ان کے بہکاوے میں آجاتے ہیں اورنتیجۃًعلم غیب مصطفی کے انکار کرنے سے ایمان کی لازوال دولت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اور آخرت کے دردناک عذاب کے مستحق بن جاتے ہیں ۔ مندرجہ ذیل مباحث کا آپ بغور مطالعہ فرمائیں اور خود ہی فیصلہ کریںکہ منافقین زمانہ اس واقعہ کے ضمن میں کیسی دھوکہ بازی سے کام لیتے ہیں اور گمراہی پھیلاتے ہیں۔

آقائے کائنات ﷺ کا علم غیب قرآن کی متعدد آیات اور احادیث کے بے شمار متون سے ثابت ہے۔ اس پر ایمان رکھنا ایمان کا ایک حصہ ہے ۔

حضور اقدس ﷺ اپنی ازواج مطہرات میں جو عدل و انصاف اور جو اعتدال فرماتے اس کی نظیر دنیا کے کسی شخص میں نہیں ملتی ۔ یہاں تک کہ سفر میں جاتے وقت اگرکسی زوجہ محترمہ کو ساتھ لے جانے کا ارادہ فرماتے تو عدل و انصاف کے تقاضے کے تحت قرعہ اندازی فرماتے اور جس زوجہ مطہرہ کے نام قرعہ نکلتا اسے سفر میں ہم رکابی کا شرف عطا فرماتے ۔

۵ ؁ھ میں غزوۂ بنی المصطلق میں حضور اقدس ﷺ نے تشریف لے جانے کا ارادہ فرمایا ۔ اور ازواج مطہرات کے درمیان قرعہ ڈالا ۔ اور اس میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کا نام نکلا ۔ غزوئہ بنی المصطلق ۵ ؁ھ سے پہلے آیت حجاب نازل ہو چکی تھی ۔ یعنی عورتوں کیلئے پردے کا حکم نازل ہو چکا تھا ۔ قرآن مجید پارہ ۲۲؎ سورئہ احزاب میں آیت حجاب نازل ہو چکی تھی ۔ غزوئہ بنی المصطلق کا واقعہ غزوئہ خندق اور غزوئہ بنی قریظہ سے قبل کا ہے ۔ غزوئہ بنی المصطلق میں ام المومنین سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا حضور اقدس ﷺ کے ساتھ تشریف لے گئیں۔ ان کی سواری کا بندوبست ایک اونٹنی پر محمل یعنی کجاوے میں کیا گیا ۔ اس کجاوے کو پردہ کیلئے اچھی طرح محجوب کیا گیا ۔ تاکہ کسی غیر محرم کی نظر ام المؤمنین پر نہ پڑے۔ آپ کجاوے میں پردے کے کامل انتظام کے ساتھ بیٹھ جاتیں ۔ اور پھر اس کجاوے کو اونٹ کی پیٹھ پر رسیوں سے باندھ دیا جاتا ۔ پڑائو اور منزل پر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا اس کجاوے کے اندر بیٹھی رہتی تھیں ۔ اور کجاوے کو اونٹ کی پیٹھ سے اتار لیا جاتا تھا ۔ اب پورا واقعہ جس کو ’’ حدیث افک‘‘ کے نام سے شہرت ملی ہے ۔ اس کو خود سیدتنا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی مقدس زبان سے سنئے ۔ جاری/۔۔۔۔۔۔