خود کی صفائی نہ بھولو

پیارے پیارے آقا ﷺ کی یہ نصیحت تو چودہ سو برس سے دہرائی جا رہی ہے مگر پھر بھی عورتوں کے ماحول میں تبدیلی نہیں آتی اور سماجی خرابیوں کا خاتمہ نہیں ہوتا،عزت کا جنازہ تو نکل جاتا ہے مگر خرابیوں کا جنازہ نہیں نکلتا،ابھی چند روز پہلے ہمارے بعض دوستوں نے ہم سے کہا آپ عورتوں کو گھر میں صفائی سے رہنے کی نصیحت فرمائیں،میں نے عرض کی گھر کی صفائی کے بارے میں نصیحت کروں کہ یا ذات کی صفائی کے بارے میں؟انہوں نے کہا گھر کی تو صفائی ہوتی ہے اس کے بارے میں کہنے کی ضرورت نہیں، وہ خود میلی کچیلی رہتی ہیں اور ذات کی صفائی پر توجہ نہیں دیتیں،اگر تھوڑا بننا سنورنا انہیں نصیب ہوتا ہے تو جمعہ کے روز یا باہر کہیں جانا ہوتا تب،شوہروں کے لئے لئے بھی سنور کر رہنا چاہیئے یہ بات تو ان کے علم ہی میں نہیں،اسلام نے یہ کام ان کے لئے حق شوہر میں رکھا اسکی تو انہیں خبر ہی نہیں ،انہیں تو اتنا ہی معلوم ہے کہ ذاتی صفائی کا گھر سے تو کوئی تعلق ہی نہی ہے ،غیر کے لئے بن سنور کے نکلانا یہی انکا ذمہ ہے ،اور عام طور پر ہر گھر کا یہ ماحول بن چکا ہے اور ہر ایک شوہر کو یہی شکایت ہے کہ اپنی تو کام والی بنی ہوئی ہے اور غیر پر نظر حرام ہے کیا کیا جائے اور کیا نہ کیا جائے؟

عورت امانت ہے اپنے شوہر کی ، غیرکی نظر خیانت ہے یقین کر