وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ(۱۸۲)

اور جنہوںنے ہماری آیتیں جھٹلائیں جلد ہم انہیں آہستہ آہستہ(ف۳۵۶)عذاب کی طرف لے جائیں گے جہاں سے انہیں خبر نہ ہوگی

(ف356)

یعنی تدریجی ۔

وَ اُمْلِیْ لَهُمْؕ-اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ(۱۸۳)

اور میں انہیں ڈھیل دوں گا (ف۳۵۷) بیشک میری خفیہ تدبیر بہت پکی ہے(ف۳۵۸)

(ف357)

ان کی عمریں دراز کرکے ۔

(ف358)

اور میری گرفت سخت ۔

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْاٚ-مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍؕ-اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ(۱۸۴)

کیا سوچتے نہیں کہ ان کے صاحب کو جنون سے کچھ علاقہ(تعلق) نہیں وہ تو صاف ڈر سنانے والے ہیں(ف۳۵۹)

(ف359)

شانِ نُزول : جب نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہِ صفا پر چڑھ کرشب کے وقت قبیلہ قبیلہ کو پکارا اور فرمایا کہ میں تمہیں عذابِ الٰہی سے ڈرانے والا ہوں اورآپ نے انہیں اللہ کا خوف دلایا اور پیش آنے والے حوادِث کا ذکر کیا تو ان میں سے کسی نے آپ کی طرف جُنون کی نسبت کی ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور فرمایا گیا کیا انہوں نے فِکر و تامُّل سے کام نہ لیا اور عاقِبت اندیشی و دور بینی بالکل بالائے طاق رکھ دی اور یہ دیکھ کر کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اقوال و افعال میں ان کے مخالِف ہیں اور دنیا اور اس کی لذّتوں سے آپ نے مُنہ پھیر لیا ہے ، آخرت کی طرف متوجہ ہیں اور اللہ تعالٰی کی طرف دعوت دینے اور اس کا خوف دلانے میں شب و روز مشغول ہیں ۔ ان لوگوں نے آپ کی طرف جُنون کی نسبت کر دی یہ ان کی غلطی ہے ۔

اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍۙ-وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْۚ-فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ(۱۸۵)

کیا انہوں نے نگاہ نہ کی آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں اور جو جو چیز اللہ نے بنائی (ف۳۶۰) اور یہ کہ شاید اُن کا وعدہ نزدیک آگیا ہو (ف۳۶۱) تو اس کے بعد اور کون سی بات پر یقین لائیں گے(ف۳۶۲)

(ف360)

ان سب میں اس کی وحدانیت اور کمالِ حکمت و قدرت کی روشن دلیلیں ہیں ۔

(ف361)

اور وہ کُفر پر مر جائیں اور ہمیشہ کے لئے جہنّمی ہو جائیں ۔ ایسے حال میں عاقِل پر ضروری ہے کہ وہ سوچے سمجھے دلائل پر نظر کرے ۔

(ف362)

یعنی قرآنِ پاک کے بعد اور کوئی کتاب اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اور کوئی رسُول آنے والا نہیں جس کا انتظار ہو کیونکہ آپ خاتَم الانبیاء ہیں ۔

مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗؕ-وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ(۱۸۶)

جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں اور انہیں چھوڑتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکاکریں

یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَاؕ-قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْۚ-لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ ﲪ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةًؕ-یَسْــٴَـلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَاؕ-قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(۱۸۷)

تم سے قیامت کو پُوچھتے ہیں (ف۳۶۳) کہ وہ کب کوٹھہری ہے(کب آئے گی) تم فرماؤ اس کا علم تو میرے رب کے پاس ہے اُسے وہی اس کے وقت پر ظاہر کرے گا (ف۳۶۴) بھاری پڑرہی ہے آسمانوں اور زمین میں تم پر نہ آئے گی مگر اچانک تم سے ایسا پوچھتے ہیں گویا تم نے اُسے خوب تحقیق کررکھا ہے تم فرماؤ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے لیکن بہت لوگ جانتے نہیں(ف۳۶۵)

(ف363)

شانِ نُزول : حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہودیوں نے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ اگر آپ نبی ہیں تو ہمیں بتائیے کہ قیامت کب قائم ہوگی کیونکہ ہمیں اس کا وقت معلوم ہے اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ۔

(ف364)

قیامت کے وقت کا بتانا رسالت کے لوازم سے نہیں ہے جیسا کہ تم نے قرار دیا اور اے یہود تم نے جو اس کا وقت جاننے کا دعوٰی کیا یہ بھی غلط ہے ، اللہ تعالٰی نے اس کو مخفی کیا ہے اور اس میں اس کی حکمت ہے ۔

(ف365)

اس کے اِخفاء کی حکمت تفسیرِ روح البیان میں ہے کہ بعض مشائخ اس طرف گئے ہیں کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو باِعلا مِ الٰہی وقتِ قیامت کا علم ہے اور یہ حَصر آیت کے مُنافی نہیں ۔

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُؕ-وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِۚۛ-وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُۚۛ-اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠(۱۸۸)

تم فرماؤ میں اپنی جان کے بھلے بُرے کا خود مختار نہیں(ف۳۶۶) مگر جو اللہ چاہے (ف۳۶۷) اور اگر میں غیب جان لیا کرتا تو یوں ہوتا کہ میں نے بہت بھلائی جمع کرلی اور مجھے کوئی برائی نہ پہنچی(ف۳۶۸) میں تو یہی ڈر (ف۳۶۹) اور خوشی سنانے والا ہوں انہیں جو ایمان رکھتے ہیں

(ف366)

شانِ نُزول : غزوۂ بنی مُصطلَق سے واپسی کے وقت راہ میں تیز ہو ا چلی چوپائے بھاگے تو نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ مدینہ طیبہ میں رفاعہ کا انتقال ہوگیا اور یہ بھی فرمایا کہ دیکھو میرا ناقہ کہاں ہے ؟ عبداللہ بن اُبَیٔ منافِق اپنی قوم سے کہنے لگا ان کا کیسا عجیب حال ہے کہ مدینہ میں مرنے والے کی تو خبر دے رہے ہیں اور اپنا ناقہ معلوم ہی نہیں کہ کہاں ہے ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا یہ قول بھی مخفی نہ رہا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منافِق لوگ ایسا ایسا کہتے ہیں اور میرا ناقہ اس گھاٹی میں ہے اس کی نکیل ایک درخت میں اُلجھ گئی ہے چنانچہ جیسا فرمایا تھا اسی شان سے وہ ناقہ پایا گیا اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ۔ (تفسیر کبیر)

(ف367)

وہ مالکِ حقیقی ہے جو کچھ ہے اس کی عطا سے ہے ۔

(ف368)

یہ کلام براہِ ادب و تواضُع ہے ۔ معنٰی یہ ہیں کہ میں اپنی ذات سے غیب نہیں جانتا ، جو جانتا ہوں وہ اللہ تعالٰی کی اطلاع اور اس کی عطا سے ۔ (خازن ) حضرت مُتَرجِم قُدِّسَ سِرُّہ نے فرمایا بھلائی جمع کرنا اور بُرائی نہ پہنچنا اسی کے اختیار میں ہو سکتا ہے جو ذاتی قدرت رکھے اور ذاتی قدرت وہی رکھے گا جس کا علم بھی ذاتی ہو کیونکہ جس کی ایک صفت ذاتی ہے اس کے تمام صفات ذاتی ، تو معنٰی یہ ہوئے کہ اگر مجھے غیب کا علم ذاتی ہوتا تو قدرت بھی ذاتی ہوتی اور میں بھلائی جمع کر لیتا اور برائی نہ پہنچنے دیتا ۔ بھلائی سے مراد راحتیں اور کامیابیاں اور دشمنوں پر غلبہ ہے اور برائیوں سے تنگی و تکلیف اور دشمنوں کا غالب آنا ہے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بھلائی سے مراد سرکشوں کا مُطیع اور نافرمانوں کا فرمانبردار اور کافِروں کا مؤمن کر لینا ہو اور بُرائی سے بدبخت لوگوں کا باوجود دعوت کے محروم رہ جانا ، تو حاصلِ کلام یہ ہوگا کہ اگر میں نفع و ضَرر کا ذاتی اختیار رکھتا تو اے منافقین وکافِرین تمہیں سب کو مومِن کر ڈالتا اور تمہاری کُفری حالت دیکھنے کی تکلیف مجھے نہ پہنچتی ۔

(ف369)

سنانے والا ہوں کافِروں کو ۔